کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: لباس اور دیگر امور میں ، اہل کتاب کے برخلاف کرنا
حدیث نمبر: 8575
عَنْ أَبِي كَرِيمَةَ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ وَهُوَ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ " إِيَّاكُمْ وَلِبَاسَ الرُّهْبَانِ ، فَإِنَّهُ مَنْ تَرَهَّبَ أَوْ تَشَبَّهَ فَلَيْسَ مِنِّي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوکریمہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی ابن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو کوفہ میں خطبہ دینے کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اے لوگو ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ راہبوں کا سا لباس پہننے سے بچو ! کیونکہ جو شخص رہبانیت اختیار کرے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُن سے مشابہت اختیار کرے ، اُس کا مجھ سے واسطہ نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید رازی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد علی بن سعید رازی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8576
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَشْيَخَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بِيضٌ لِحَاهُمْ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ حَمِّرُوا وَصَفِّرُوا وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ " قَالَ : فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَتَسَرْوَلُونَ وَلَا يَأْتَزِرُونَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَسَرْوَلُوا وَائْتَزِرُوا وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ " قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَتَخَفَّفُونَ وَلَا يَنْتَعِلُونَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَتَخَفَّفُوا وَانْتَعِلُوا وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ " فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَقُصُّونَ عَثَانِينَهُمْ وَيُوَفِّرُونَ سِبَالَهُمْ ؟ قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُصُّوا سِبَالَكُمْ وَوَفِّرُوا عَثَانِينَكُمْ وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْقَاسِمِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ انصاری بزرگوں کے پاس تشریف لائے جن کی داڑھیاں سفید تھیں آپ نے فرمایا : اے انصار کے گروہ ! ( اپنی ڈارھی کے بالوں کو ) سرخ یا زرد رنگ لگاؤ اور اہل کتاب کے برخلاف کرو راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اہل کتاب ، تو شلوار پہنتے ہیں ، وہ تہبند نہیں پہنتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ شلوار بھی پہن لو اور تہبند بھی پہن لو اور اہل کتاب کے برخلاف کرو ! ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اہل کتاب موزے پہنتے ہیں ، وہ جوتے نہیں پہنتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ موزے بھی پہن لو ، اور جوتے بھی پہن لو اور اہل کتاب کے برخلاف کرو ! ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ اہل کتاب داڑھی چھوٹی کروا لیتے ہیں اور مونچھیں بڑی کروا لیتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ مونچھیں چھوٹی کرواؤ اور داڑھی بڑھاؤ اور اہل کتاب کے برخلاف کرو ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، قاسم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، قاسم کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 8577
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ يَتَسَرْوَلُونَ وَلَا يَتَّزِرُونَ ؟ قَالَ : " فَتَسَرْوَلُوا أَنْتُمْ وَائْتَزِرُوا " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّ الْمُشْرِكِينَ يَحْتَفُّونَ وَلَا يَنْتَعِلُونَ ؟ قَالَ : " فَاحْتَفُّوا أَنْتُمْ وَانْتَعِلُوا وَخَالِفُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ بِكُلِّ مَا اسْتَطَعْتُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِنَحْوِ هَذَا فِي الْأَدَبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مشرکین شلوار ( یا پاجامہ ) پہنتے ہیں وہ تہبند نہیں پہنتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ شلوار بھی پہنو اور تہبند بھی باندھو ! لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مشرکین موزے پہنتے ہیں اور جوتے نہیں پہنتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ موزے بھی پہنو اور جوتے بھی پہنو ! لیکن جہاں تک تم سے ہو سکے شیطان کے دوستوں کے برخلاف کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں علی بن سعید رازی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث ” ادب“ سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں علی بن سعید رازی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث ” ادب“ سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔