کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عماموں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8496
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اعْتَمُّوا تَزْدَادُوا حِلْمًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ عِمْرَانُ بْنُ تَمَّامٍ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ بِحَدِيثٍ غَيْرِ هَذَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ عمامہ باندھو ! تمہاری بردباری ( یا عزت ) میں اضافہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوحمید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عمران بن ابوتمام ہے ۔ ابوحاتم نے ایک حدیث کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا ہے جو اس حدیث کے علاوہ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8496
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2945) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2946)»
حدیث نمبر: 8497
وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اعْتَمُّوا تَزْدَادُوا حِلْمًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوملیح بن اسامہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ عمامہ باندھو ! تمہارے حلم ( بردباری یا عزت ) میں اضافہ ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوحمید ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8497
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (517)»
حدیث نمبر: 8498
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : عَمَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَأَرْخَى لَهُ أَرْبَعَ أَصَابِعَ وَقَالَ : " إِنِّي لَمَّا صَعِدْتُ إِلَى السَّمَاءِ رَأَيْتُ أَكْثَرَ الْمَلَائِكَةِ مُعْتَمِّينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو عمامہ باندھا ، تو ان کا چار انگل کا شملہ لٹکایا اور یہ بات بیان کی کہ جب میں آسمان پر گیا ، تو میں نے اکثر فرشتوں کو عمامہ باندھے ہوئے دیکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8498
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8499
وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا اعْتَمَّ أَرْخَى عِمَامَتَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ رِشْدِينَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عمامہ باندھتے تھے ، تو اپنے آگے یا اپنے پیچھے عمامہ کو لٹکاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن رشدین ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8499
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني بي المعجم الاوسط (344)»
حدیث نمبر: 8500
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنْتُ عَاشِرَ عَشَرَةٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ وَابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ جَبَلٍ وَحُذَيْفَةُ وَابْنُ عَوْفٍ وَأَنَا وَأَبُو سَعِيدٍ ، فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ ابْنَ عَوْفٍ فَتَجَهَّزَ لِسَرِيَّةٍ بَعَثَهُ عَلَيْهَا فَأَصْبَحَ وَقَدِ اعْتَمَّ بِعِمَامَةٍ كَرَابِيسَ سَوْدَاءَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ نَقَضَهَا فَعَمَّمَهُ ، فَأَرْسَلَ مِنْ خَلْفِهِ أَرْبَعَ أَصَابِعَ أَوْ نَحْوَهَا ثُمَّ قَالَ : " هَكَذَا يَا ابْنَ عَوْفٍ فَاعْتَمَّ فَإِنَّهُ أَعْرَبُ وَأَحْسَنُ " ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَدَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " خُذْ يَا ابْنَ عَوْفٍ فَاغْزُوَا جَمِيعًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَاتِلُوا مِنْ كَفَرَ بِاللَّهِ ، وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تُمَثِّلُوا فَهَذَا عَهْدُ اللَّهِ وَسُنَّةُ نَبِيِّهِ فِيكُمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں موجود دس افراد میں سے ایک تھا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے ، میں تھا ، اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تھے اسی دوران انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا اس نے سلام کیا اور پھر وہ بیٹھ گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ ایک جنگی مہم کے لئے سامان تیار کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس مہم کا امیر مقرر کیا تھا ، اگلے دن انہوں نے سیاہ رنگ کا اونی عمامہ باندھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم نے ان کا عمامہ کھول کر خود اُن کا عمامہ باندھا اور پیچھے چار انگل ، یا اس کے آس پاس شملہ رکھا ، پھر یہ ارشاد فرمایا : اے ابن عوف ! اس طرح تم عمامہ باندھو ! یہ عربوں کے معمول کے مطابق اور زیادہ عمدہ ہو گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے جھنڈا اُن کے سپرد کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن عوف ! اسے لے لو ! اور سب لوگوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جنگ کرو ، اس شخص کے ساتھ قتال کرو ، جو اللہ کا انکار کرتا ہے ، تم عہد شکنی نہ کرنا ، تم مثلہ نہ کرنا ، یہ اللہ کا حکم اور تم لوگوں کے بارے میں اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8500
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 8501
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ السَّلَامِ قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْتَمُّ ؟ قَالَ : كَانَ يُدَوِّرُ كُورَ عِمَامَتِهِ عَلَى رَأْسِهِ ، وَيَغْرِزُهَا مِنْ وَرَائِهِ وَيُرْسِلُهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَبَا عَبْدِ السَّلَامِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبدالسلام بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے عمامہ باندھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمامے کے پیچ کو اپنے سر پر لپیٹتے تھے اور پھر پیچھے کی طرف اس کو اندر کر کے دونوں کندھوں کے درمیان اسے چھوڑ دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعبدالسلام کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8501
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 8502
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى ذَوَائِبَهُ مِنْ وَرَائِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَّامٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَغَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے انہوں نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا ، اور اس کا شملہ پیچھے لٹکایا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے ، اور وہ اس حدیث اور دیگر احادیث کے حوالے سے ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8502
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8503
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَيْكُمْ بِالْعَمَائِمِ فَإِنَّهَا سِيمَا الْمَلَائِكَةِ وَأَرْخُوهَا خَلَفَ ظُهُورِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : مَجْهُولٌ . وَذَكَرَ الذَّهَبِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَةِ يَحْيَى بْنِ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيِّ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ ، وَمَعَ ذَلِكَ فَقَدْ وَثَّقَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پر عمامہ باندھنا لازم ہے ، کیونکہ یہ فرشتوں کا علامتی نشان ہے ، اور تم انہیں اپنی پشت پر لٹکا کے رکھو ( یعنی شملہ رکھو ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن یونس ہے ۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : وہ مجہول ہے ۔ امام ذہبی نے یحیی بن عثمان بن صالح مصری جو امام طبرانی کے استاد ہیں ان کے حالات میں یہ حدیث ذکر کی ہے ، اور اس کے ہمراہ انہوں نے اس کی توثیق کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8503
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ( 13418)»
حدیث نمبر: 8504
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُوَلِّي وَالِيًا حَتَّى يُعَمِّمَهُ وَيُرْخِيَ لَهَا [ عَذَبَةً ] مِنَ الْجَانِبِ الْأَيْمَنِ نَحْوَ الْأُذُنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ جَمِيعُ بْنُ ثَوْبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي الدَّرْدَاءِ : " إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى أَصْحَابِ الْعَمَائِمِ يَوْمَ الْجُمْعَةَ " فِي الْجُمْعَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی شخص کو کسی کام کا نگران اس وقت تک مقرر نہیں کرتے تھے جب تک اسے عمامہ نہیں باندھ دیتے تھے اور دائیں جانب کان کی طرف شملہ نہیں لٹکا دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جمیع بن ثقت ہے ، اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس سے پہلے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے منقول یہ حدیث گزر چکی ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے جمعہ والے دن عمامہ والے افراد پر رحمت نازل کرتے ہیں یہ کتاب الجمعہ میں گزری ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8504
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7641)»