کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: عصر کے بعد سونے کے بارے میں انسان کے لئے کس بات کا اندیشہ پایا جاتا ہے ؟ اور دیگر امور کا بیان
حدیث نمبر: 8471
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ نَامَ بَعْدَ الْعَصْرِ فَاخْتُلِسَ عَقْلُهُ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ عَمْرِو بْنِ الْحُصَيْنِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص عصر کے بعد سو جائے ، اور اس کی عقل اُچک لی جائے ، تو وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد عمرو بن حصین کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد عمرو بن حصین کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 8472
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَعْتَرُّ الْمَرْءُ عِنْدَ أَرْبَعَةِ خِصَالٍ : إِذَا نَامَ وَحْدَهُ ، وَإِذَا نَامَ مُسْتَلْقِيًا ، وَإِذَا نَامَ فِي مِلْحَفَةٍ مُعَصْفَرَةٍ ، وَإِذَا اغْتَسَلَ بِفَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَلَا يَغْتَسِلَ بِفَضَاءٍ مِنَ الْأَرْضِ ، فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَلْيَخُطَّ خَطًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ الْغِفَارِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی چار خصلتوں کی وجہ سے خرابی کا شکار ہوتا ہے ، جب وہ تنہا سوئے ، جب وہ چت لیٹ کر سو جائے ، جب وہ معصفر والے لحاف میں سوئے ، اور جب وہ کھلی جگہ پر غسل کرے ، جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ وہ کھلی جگہ پر غسل نہ کرے ( تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے ) اور اگر مجبوری ہو ، تو پھر اسے لکیر لگا لینی چاہیے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم غفاری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مروان بن سالم غفاری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔