کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: شگون لینے میں سب سے زیادہ سچی چیز ، فال ہے
❮
❯
عَنْ حَابِسٍ التَّمِيمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ :
" لَا شَيْءَ فِي الْهَامِ ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ ، وَأَصْدَقُ الطَّيْرِ الْفَأْلُ " .
قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ خَلَا قَوْلَهُ : " وَأَصْدَقُ الطَّيْرِ الْفَأْلُ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ حَبَّةُ بْنُ حَابِسٍ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ يَحْيَى ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا حابس تمیمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ہام ، کوئی چیز نہیں ہے ، اور نظر لگنا ، حق ہے ، سب سے سچا شگون ، فال ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے : ” سب سے سچا شگون فال ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حبہ بن حابس ہے ، یحیی کے علاوہ اور کسی نے ، اس کے علاوہ روایت نقل نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8416
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3047) اخرجه أبو يعلى فى المسند (1582) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3561) اخرجه احمد فى المسند (16627) ، أخرجه سنن الترمذي برقم: 2061، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 3561، 3562»
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ :
" لَا شَيْءَ فِي الْهَامِ ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ ، وَأَصْدَقُ الطَّيْرِ الْفَأْلُ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہام ، کوئی چیز نہیں ہے ، نظر لگنا ، حق ہے ، اور سب سے سچا شگون ، فال ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8417
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7686) ، أخرجه سنن الترمذي برقم: 2061، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 3561، 3562»