کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ورم کو چیر دینا
حدیث نمبر: 8376
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : دَخَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَبِهِ وَرَمٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا تُخْرِجُوهُ عَنْهُ ؟ " . قَالَ : فَبُطَّ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاهِدٌ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک انصاری شخص کے پاس آئے جسے ورم لائق تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اسے اس سے نکال نہیں دو گے راوی کہتے ہیں : اسے چیر دیا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ملاحظہ فرما رہے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوربیع سمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8376
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (454)»
حدیث نمبر: 8377
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَدِمَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ الْمَدِينَةَ ، وَقَدْ أُصِيبَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ فِي جَسَدِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِقَرَابَتِهِ : " اطْلُبُوا مَنْ يُعَالِجُهُ " . فَجِيءَ بِالرَّجُلَيْنِ الْأَخَوَيْنِ ، فَقَالَ لَهُمَا : " بِحَدِيدَةٍ تُعَالِجَانِ ؟ " فَقَالَا : إِنَّا كُنَّا نُعَالِجُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَالِجَاهُ " فَبَطَّهُ حَتَّى بَرِأَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو بھائی مدینہ منورہ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کو اس کے جسم میں تیر لگا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے رشتہ داروں سے فرمایا اس کے لئے ایسا شخص تلاش کرو جو اس کا علاج کرے پھر ان دو بھائیوں کو لایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تم دونوں لوہے کے ذریعے علاج کرو انہوں نے کہا: ہم زمانہ جاہلیت میں علاج کیا کرتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اس کا علاج کرو راوی کہتے ہیں : تو اس نے اس کو چیر دیا ، یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہو گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر عمری ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے وہ یہ کہتے ہیں : کہ یہ غلطی کرتا ہے ، اور یہ دوسروں کے ( برخلاف ) نقل کرتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8377
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3029)»
حدیث نمبر: 8378
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ¤ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ بِهِ جُرْحٌ يَسْتَأْذِنُهُ فِي بَطِّهِ ، فَأَذِنَ لَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جسے زخم لاحق تھا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے چیر دینے کی اجازت مانگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دیدی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے وہ یہ کہتے ہیں : یہ غلطی کرتا ہے ، اور ( دوسروں کے ) برخلاف روایت نقل کرتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8378
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11106)»
حدیث نمبر: 8379
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى الْحَضْرَمِيِّ : ¤ أَنْ حَيَّانَ بْنَ أَبْحَرَ الْكِنَانِيَّ بَقَرَ عَنْ بَطْنِ امْرَأَةٍ بَنَى بِهَا حَتَّى عَالَجَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن یحیی حضرمی بیان کرتے ہیں : حیان بن ابحر کنانی نے اپنی بیوی کے پیٹ کو چیر دیا تھا جس کے ساتھ ان کی رخصتی ہوئی تھی یہاں تک کہ انہوں نے اس خاتون کا اس طرح علاج کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8379
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3577)»