کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: شیطان کا سرمہ لگانا
حدیث نمبر: 8357
عَنْ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " إِنَّ لِلشَّيْطَانِ كُحْلًا وَلَعُوقًا ، فَإِذَا كَحَّلَ الْإِنْسَانُ مِنْ كُحْلِهِ شَغَلَهُ عَنِ الصَّلَاةِ ، وَإِذَا لَعِقَهُ مِنْ لَعْوَقِهِ ذَرِبَ لِسَانُهُ فِي الشَّرِّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا سَعِيدَ بْنَ بَشِيرٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شیطان کا سرمہ لگانا بھی ہوتا ہے ، اور چاٹنا بھی ہوتا ہے ، جب انسان اس کے سرمہ میں سے سرمہ لگاتا ہے ، تو یہ اسے نماز میں سے مشغول کر دیتا ہے ( یعنی آدمی نماز کے وقت سویا رہ جاتا ہے ) اور جب آدمی اس کے چاٹنے میں سے چاٹتا ہے ، تو برائی میں اس کی زبان تیز ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن بشیر کا معاملہ مختلف ہے ، اسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطب / حدیث: 8357
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3035 و 3036) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6855)»