حدیث نمبر: 8277
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا بِهِ جُرْحٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ادْعُ لَهُ طَبِيبَ بَنِي فُلَانٍ " . قَالَ : فَدَعُوهُ فَجَاءَهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَيُغْنِي الدَّوَاءُ شَيْئًا ؟ فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! وَهَلْ أَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ دَاءٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا جَعَلَ لَهُ شِفَاءً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک انصاری شخص بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کی عیادت کے لئے گئے جسے زخم لاحق تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے لئے بنو فلاں کے طبیب کو بلا کے لاؤ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے اس کو بلایا وہ شخص آیا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دواء کسی کام آتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ نے زمین میں جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کے لئے شفاء بھی بنائی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8278
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنْ دَاءٍ إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً ، عَلِمَ ذَلِكَ مَنْ عَلِمَهُ وَجَهِلَ ذَلِكَ مَنْ جَهِلَهُ ، إِلَّا السَّامَ " . ¤ قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا السَّامُ ؟ قَالَ : " الْمَوْتُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ شَبِيبُ بْنُ شَيْبَةَ ، قَالَ زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ : صَدُوقٌ يَهِمُ . وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کے لئے دواء بھی نازل کی ہے جو شخص اس کو جان لیتا ہے وہ جان لیتا ہے ، اور جو شخص اس سے ناواقف رہتا ہے وہ ناواقف رہتا ہے ، البتہ سام کا معاملہ مختلف ہے لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! سام سے مراد کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : موت ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شبیب بن شیبہ ہے ذکریا ساجی کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، اور وہم کا شکار ہو جاتا ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شبیب بن شیبہ ہے ذکریا ساجی کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، اور وہم کا شکار ہو جاتا ہے جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8279
وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ دَاءٍ إِلَّا وَأَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً ، فَعَلَيْكُمْ بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ ، فَإِنَّهَا تَرِمُّ مِنْ كُلِّ الشَّجَرِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى مِنْهُ ابْنُ مَاجَهْ : " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً " فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ : مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرُ بْنُ سَيَّارٍ ، وَهُوَ صَدُوقٌ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی دواء بھی نازل کی ہے تم پر لازم ہے کہ گائے کا دودھ استعمال کرو کیونکہ گائے ہر قسم کے درخت ( کے پتے وغیرہ ) کھا لیتی ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی شفاء بھی نازل کی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر بن سیار ہے ، اور وہ صدوق ہے ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری نازل کی ہے اس کی شفاء بھی نازل کی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر بن سیار ہے ، اور وہ صدوق ہے ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8280
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، تَدَاوُوا ، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَمْ يَخْلُقْ دَاءً إِلَّا خَلَقَ لَهُ شِفَاءً إِلَّا السَّامَ ، وَالسَّامُ : الْمَوْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو الْحَضْرَمِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اے لوگو ! دواء استعمال کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری تخلیق کی ہے اس کے لئے شفاء بھی پیدا کی ہے ، البتہ سام کا معاملہ مختلف ہے ، اور سام سے مراد موت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو حضرمی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو حضرمی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 8281
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يَنْفَعُ الدَّوَاءُ مِنَ الْقَدَرِ ؟ فَقَالَ : ¤ " الدَّوَاءُ مِنَ الْقَدَرِ ، وَقَدْ يَنْفَعُ بِإِذْنِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ بَشِيرٍ الْمُرِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دواء تقدیر کے لکھے ہوئے کے حوالے سے فائدہ دیتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دواء بھی تقدیر کا حصہ ہے ، اور یہ اللہ کے اذن کے تحت شفاء دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن بشیر مری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن بشیر مری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8282
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ رُقًى يُسْتَرْقَى بِهَا ، وَأَدْوِيَةٌ يُتَدَاوَى بِهَا ، هَلْ تَرُدُّ مِنَ قَدَرِ اللَّهِ شَيْئًا ؟ قَالَ : ¤ " هِيَ قَدَرُ اللَّهِ تَعَالَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ يُعْتَبَرُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جو دم کیا جاتا ہے یا دوائیں استعال کی جاتیں ہیں ، تو کیا یہ اللہ تعالی کی مقرر کردہ تقدیر میں سے کسی چیز کو لوٹا دیتی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہی اللہ تعالی کی مقرر کردہ تقدیر ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 8283
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رُقًى يُسْتَرْقَى بِهَا ، وَأَدْوِيَةً يُتَدَاوَى بِهَا ، تَرُدُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ ؟ قَالَ : " هِيَ قَدَرُ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْحَارِثُ : لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خُزَامَةَ . ¤
محمد محی الدین
حارث بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ جو دم کیا جاتا ہے یا جو دوائیں استعمال کی جاتیں ، تو کیا یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں سے کسی چیز کو لوٹا دیتی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تقدیر ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور حارث نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوخزامہ کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور حارث نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوخزامہ کا معاملہ مختلف ہے ۔
حدیث نمبر: 8284
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ، أَنَّ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فَتَحَ بَابًا مِنَ الْمَغْرِبِ مَسَافَتُهُ سَبْعُونَ خَرِيفًا لِلتَّوْبَةِ ، لَنْ يُغْلِقَهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَمَا غَدَا رَجُلٌ يَلْتَمِسُ عِلْمًا إِلَّا أَفْرَشَتْهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا ؛ رِضَاءً بِمَا يَعْمَلُ " . ¤ قَالَتِ الْعَرَبُ عِنْدَ ذَلِكَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ يُعْطِ اللَّهُ عَبْدًا خَلَّةً وَاحِدَةً خَيْرٌ ؟ قَالَ : " حُسْنُ الْخُلُقِ " . ثُمَّ قَالُوا لَهُ : أَنَتَدَاوَى ؟ قَالَ : " هَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ الَّذِي أَنْزَلَ الدَّاءَ أَنْزَلَ الدَّوَاءَ ، وَلَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً ، إِلَّا دَاءً وَاحِدًا " . قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَمَا هُوَ ؟ قَالَ : " الْهَرَمُ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ التَّدَاوِي وَحُسْنُ الْخُلُقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مغرب کی سمت میں ایک دروازہ کھولا ہے جس کی ( چوڑائی ) ستر برس کی مسافت جتنی ہے یہ توبہ کے لئے مخصوص ہے ، اور اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک بند نہیں کرے گا ، جب تک سورج مغرب کی طرف سے طلوع نہیں ہوتا ، جو شخص علم کے حصول کے لئے لکھتا ہے ، تو فرشتے اپنے پر اس کے لئے بچھا دیتے ہیں ، وہ اس عمل کے لئے ایسا کرتے ہیں ، اس موقع پر عربوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے بندے کو کوئی ایسی عادت عطا نہیں کی ہے ، جو زیادہ بہتر ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اچھے اخلاق ہیں ، پھر لوگوں نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم دوا استعمال کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ جس ذات نے بیماری کو نازل کیا ہے ، اس نے دوا کو بھی نازل کیا ہے ، اس نے جو بھی بیماری نازل کی ہے ، اس کے لئے دوا بھی نازل کی ہے ، البتہ ایک بیماری کا معاملہ مختلف ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون سی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بڑھاپا “ ۔ ( علامہ بیٹی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے جس میں دوا استعمال کرنے اور اچھے اخلاق کا ذکر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام ترمذی نے اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے جس میں دوا استعمال کرنے اور اچھے اخلاق کا ذکر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 8285
وَعَنْ وَهْبِ بْنِ جُشَمَ قَالَ : سَقَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ دَوَاءً لِلْمَشْيِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ النُّعْمَانِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
وہب بن جشم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اسہال کے لئے دوا پلائی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مروان بن نعمان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مروان بن نعمان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔