کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: لوگوں کو پلانے والا سب سے آخر میں ( خود پیئے گا )
حدیث نمبر: 8268
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : كُنَّا فِي سَفَرٍ ، فَلَمْ نَجِدِ الْمَاءَ ، ثُمَّ هَجَمْنَا عَلَى الْمَاءِ بَعْدُ . قَالَ : فَجَعَلَ يَسْقُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكُلَّمَا أَتَوْهُ بِالشَّرَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ " [ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ] حَتَّى شَرِبُوا كُلُّهُمْ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ : " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ " فَقَطْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سفر کر رہے تھے ، ہمیں پانی نہیں ملا ، کچھ دیر بعد ہم پانی تک پہنچے ، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی دینا شروع کیا ، جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشروب لے کے آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں کو پلانے والا آخر میں ( خود پیتا ہے ) یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، یہاں تک کہ اُن سب لوگوں نے پانی پی لیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ” لوگوں کو پلانے والا ، اُن کے آخر میں ( خود پیتا ہے ) “ ۔
حدیث نمبر: 8269
وَفِي رِوَايَةٍ : أَصَابَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَطَشٌ ، قَالَ : فَنَزَلَ مَنْزِلًا ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ ، فَجَعَلَ يَسْقِي أَصْحَابَهُ ، وَجَعَلُوا يَقُولُونَ : اشْرَبْ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو پیاس لاحق ہو گئی ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ، وہاں ایک برتن لایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو پانی دینا شروع کیا ، تو وہ یہی کہنے لگے : پہلے آپ پی لیں ! اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8270
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنْ ثَابِتًا لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْمُغَيَّرَةِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں کو پلانے والا ، اُن سب سے آخر میں ( خود پیے گا ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ثابت نامی راوی نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ثابت نامی راوی نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 8271
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْزِلًا ، فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ مَعَ ابْنٍ لَهَا بِشَاةٍ ، فَحَلَبَ ثُمَّ قَالَ : " انْطَلِقْ بِهِ إِلَى أُمِّكَ " فَشَرِبَتْ حَتَّى رُوِيَتْ ، ثُمَّ جَاءَ بِشَاةٍ أُخْرَى ، فَحَلَبَ ، ثُمَّ سَقَى أَبَا بَكْرٍ ، ثُمَّ جَاءَ بِشَاةٍ أُخْرَى ، فَحَلَبَ ثُمَّ شَرِبَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . وَابْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي بَكْرٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، ایک خاتون نے اپنے بیٹے کے ہاتھ آپ کی خدمت میں بکری بھیجی ، آپ نے اس کا دودھ دوہ لیا اور آپ نے ارشاد فرمایا : تم یہ دودھ لے کر اپنی والدہ کے پاس جاؤ ! اس خاتون نے وہ دودھ پیا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئی ، پھر وہ بچہ دوسری بکری لے کے آیا ، آپ نے اس کا دودھ دوہ لیا ، پھر آپ نے وہ دودھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پینے کے لئے دیا ، پھر وہ ایک اور بکری لے کے آیا ، تو آپ نے اس کا دودھ دوہ کر خود پیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ابن ابولیلی نامی راوی نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ابن ابولیلی نامی راوی نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔