کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: شراب کو حرام قرار دیا جانا
حدیث نمبر: 8075
عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، وَيَأْكُلُونَ الْمَيْسِرَ ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُمَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَقَالَ النَّاسُ : مَا حَرَّمَ عَلَيْنَا إِنَّمَا قَالَ : ( فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ ) وَكَانُوا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ مِنَ الْأَيَّامِ صَلَّى رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ أَمَّ أَصْحَابَهُ فِي الْمَغْرِبِ خَلَّطَ فِي قِرَاءَتِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا آيَةً أَغْلَظَ مِنْهَا : ( يَا أَيُّهَا الْذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ ) وَكَانَ النَّاسُ يَشْرَبُونَ حَتَّى يَأْتِيَ أَحَدُهُمُ الصَّلَاةَ وَهُوَ مُفِيقٌ . ¤ ثُمَّ نَزَلَتْ آيَةٌ أَغْلَظُ مِنْهَا : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ) قَالُوا : انْتَهَيْنَا رَبَّنَا . فَقَالَ النَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَاسٌ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ ، كَانُوا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، وَيَأْكُلُونَ الْمَيْسِرَ ، وَقَدْ جَعَلَهُ اللَّهُ رِجْسًا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ لَتَرَكُوهَا كَمَا تَرَكْتُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ لَمْ يَجْرَحْهُ أَحَدٌ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ . وَأَبُو نَجِيحٍ : ضَعِيفٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ . وَسَرِيجٌ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : شراب کی حرمت کا حکم تین مرتبہ میں نازل ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو لوگ شراب پیا کرتے تھے اور جوا کھیلتے تھے ۔ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں چیزوں کے بارے میں دریافت کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر یہ آیت نازل کی : ” لوگ تم سے شراب اور جوئے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ، تم فرما دو ! ان دونوں میں بڑا گناہ ہے ، اور لوگوں کے لئے فائدہ بھی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو لوگوں نے یہ کہا: اس میں ہم پر حرام قرار نہیں دیا گیا صرف یہ کہا: ہے ” ان دونوں میں بڑا گناہ ہے “ ۔ پھر لوگ شراب پیتے رہے یہاں تک کہ ایک مرتبہ ایک دن مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے اپنے ساتھیوں کو مغرب کی نماز پڑھائی قرآت کرتے ہوئے وہ غلطی کر گئے اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ایک آیت نازل کی جس میں زیادہ سخت حکم تھا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے ایمان والو ! تم نماز کے قریب نہ جاؤ جب تم نشے کی حالت میں ہو جب تک تم یہ جان نہیں لیتے کہ تم کیا کہہ رہے ہو “ ۔ اس کے بعد بھی لوگ شراب پیتے رہے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی شخص نماز ادا کرنے کے لئے اس وقت آتا تھا جب اس کا نشہ ختم ہو چکا ہوتا تھا پھر وہ آیت نازل ہوئی جو اس سے زیادہ سخت حکم والی آیت تھی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے ایمان والو ! بے شک شراب اور جوا اور بت اور پانسے گندگی ہیں اور شیطان کے عمل کا حصہ ہیں ، تو تم ان سے اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ “ ۔ تو لوگوں نے کہا: اے ہمارے پروردگار ! ہم باز آ گئے ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کچھ لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہو چکے ہیں یا اپنے بچھونوں پر مرے ہیں وہ لوگ شراب پیا کرتے تھے اور جوا کھیلا کرتے تھے ، اور اللہ تعالیٰ نے اسے ناپاک اور شیطان کے عمل کا حصہ قرار دیا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” جو لوگ ایمان لائے ، اور انہوں نے نیک اعمال کیے ، تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اس چیز کے بارے میں جو انہوں نے پہلے کھائی تھی جبکہ انہوں نے پرہیز گاری اختیار کی ہو ، وہ ایمان لائے ہوں اور نیک اعمال کیے ہوں“ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر یہ ان پر حرام قرار دیے گئے ہوتے ، تو وہ لوگ بھی اسے ترک کر دیتے جس طرح تم نے ترک کیا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابووہب پر کسی نے جرح نہیں کی ہے ، اور کسی نے اس کی توثیق نہیں کی ابونجیح نامی راوی کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے سریج نامی راوی ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8075
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (357/2)»
حدیث نمبر: 8076
وَعَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنْتُ سَاقِي الْقَوْمِ تِينًا وَزَبِيبًا خَلَطْنَاهُمَا جَمِيعًا وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا شْرِبْ قَالَ : ¤ أُحَيِّي أُمَّ بَكْرٍ بِالسَّلَامِ وَهَلْ لَكَ بَعْدَ قَوْمِكَ مِنْ سَلَامِ يُحَدِّثُنَا الرَّسُولُ بِأَنْ سَنُحْيَى ¤ وَكَيْفَ حَيَاةُ أَصْدَاءٍ وَهَامِ فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ وَالْقَوْمُ يَشْرَبُونَ إِذْ دَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ : مَا تَصْنَعُونَ ؟ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَدْ نَزَّلَ تَحْرِيمَ الْخَمْرِ . فَأَرَقْنَا الْبَاطِيَةَ وَكَفَأْنَاهَا ، ثُمَّ خَرَجْنَا فَوَجَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَيُكَرِّرُهَا : " إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ " . ¤ قُلْتُ لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مَطَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں لوگوں کو تین اور زبیب پلا رہا تھا ہم نے ان دونوں کو ملا کے مشروب تیار کیا تھا ۔ حاضرین میں ایک صاحب موجود تھے جن کو ابوبکر کہا: جاتا تھا جب انہوں نے وہ مشروب پیا تو یہ اشعار کہے : ” میں بکر کی والدہ کو سلام کہتا ہوں کیا تمہاری قوم کے بعد تمہیں سلامتی میں کوئی دلچسپی ہے رسول نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ عنقریب ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، تو پھر صدی ( نامی پرندے ) اور ہامہ ( ایک قول کے مطابق اس سے مراد بھی پرندہ ہے اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد ، انسانی کھوپڑی ہے ) کی زندگی کا کیا ہو گا “ ۔ راوی کہتے ہیں : ابھی ہم اسی حالت میں تھے اور لوگ شراب پی رہے تھے کہ اسی دوران مسلمانوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہمارے پاس آیا اور بولا: تم کیا کر رہے ہو اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام قرار دینے کا حکم نازل کر دیا ہے ، تو ہم نے شراب کے برتنوں سے علیحدگی اختیار کی اور ( شراب کو ) انڈیل دیا پھر ہم وہاں سے نکلے ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا ۔ آپ منبر پر کھڑے ہوئے تھے اور یہ آیت تلاوت کر رہے تھے اور اس کی تکرار کر رہے تھے : ” شیطان یہ ارادہ کرتا ہے کہ تمہارے درمیان شراب اور جوئے کے حوالے سے عداوت اور دشمنی ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے ، تو کیا تم باز آنے والے ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صحیح میں ایک حدیث مذکور ہے جو شراب کی حرمت کے بارے میں ہے ، لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مطر بن میمون ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8076
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2923)»
حدیث نمبر: 8077
وَعَنِ أَنَسٍ قَالَ : بَيْنَا أَنَا أُدِيرُ الْكَأْسَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ ، وَأَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، وَسُهَيْلِ بْنِ بَيْضَاءَ ، وَأَبِي دُجَانَةَ حَتَّى مَالَتْ رُءُوسُهُمْ إِذْ سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي : أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ . فَمَا دَخَلَ عَلَيْنَا دَاخِلٌ وَلَا خَرَجَ مِنَّا خَارِجٌ ، فَأَهْرَقْنَا الشَّرَابَ ، وَكَسَرْنَا الْقِلَالَ ، وَتَوَضَّأَ بَعْضُنَا ، وَاغْتَسَلَ بَعْضُنَا ، وَأَصَبْنَا مِنْ طِيبِ أُمِّ سُلَيْمٍ ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ " حَتَّى بَلَغَ : " فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ " فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا مَنْزِلَةُ مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْرَبُهَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . ¤ فَقَالَ رَجُلٌ لِقَتَادَةَ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنِسٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ . وَقَالَ رَجُلٌ لِأَنَسٍ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ . أَوْ حَدَّثَنِي مَنْ لَا يَكْذِبُنِي وَاللَّهِ مَا كُنَّا نَكْذِبُ وَلَا نَدْرِي مَا الْكَذِبُ . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سیدنا سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ کو شراب پلا رہا تھا ان حضرات کے سر ادھر ادھر مائل ہو رہے تھے اسی دوران ہم نے ایک اعلان کرنے والے کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا خبردار شراب حرام قرار دیدی گئی ہے ، تو نہ کوئی شخص باہر سے اندر آیا اور نہ ہی ہم میں سے کوئی شخص باہر نکلا ہم نے شراب کو بہا دیا گھڑے کو توڑ دیا ہم میں سے کسی نے وضو کیا کسی نے غسل کیا پھر ہم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس موجود خوشبو لگائی پھر ہم نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کی طرف گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھ رہے تھے : ” اے ایمان والو ! بے شک شراب اور جوا اور بت اور پانسہ نجس ہیں اور شیطان کے عمل کا حصہ ہیں ، تو تم اس سے اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پا لو “ ۔ یہ آیت آپ نے یہاں تک پڑھی : ” تو کیا تم باز آنے والے ہو “ ۔ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس شخص کا مقام کیا ہو گا ، جو ایسی حالت میں مر گیا کہ وہ شراب پیا کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ” جو لوگ ایمان لائے ، اور انہوں نے نیک اعمال کیے ، تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہو گا اس حوالے سے جو انہوں نے کھایا ہو “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، تو ایک صاحب نے قتادہ سے کہا: کیا آپ نے خود سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ایک شخص نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) مجھے اس شخص نے یہ بات بیان کی ہے جس نے جھوٹ نہیں بولا اللہ کی قسم ! ہم جھوٹ نہیں بولا: کرتے تھے اور ہمیں یہ پتہ بھی نہیں تھا کہ جھوٹ کیا ہوتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث صحیح میں بھی مذکور ہے ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8077
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2922)»
حدیث نمبر: 8078
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ فَدَخَلْتُ عَلَى نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِي وَهِيَ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ، فَضَرَبْتُهَا بِرِجْلِي ثُمَّ قُلْتُ : انْطَلَقُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدْ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ . فَذَكَرَهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الطُّوسِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : شراب کو حرام قرار دیے جانے کا حکم نازل ہوا میں اپنے ساتھیوں میں سے کچھ افراد کے پاس آیا شراب ان کے سامنے موجود تھی میں نے اسے پاؤں مارا پھر میں نے کہا: تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلو کیونکہ شراب کو حرام قرار دینے کا حکم نازل ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف بن منصور طوسی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8078
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4157)»
حدیث نمبر: 8079
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ مَشَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ وَقَالُوا : حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَجُعِلَتْ عِدْلًا لِلشِّرْكِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب شراب کو حرام قرار دیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ایک دوسرے کی طرف گئے ، اور بولے : شراب کو حرام قرار دیدیا گیا ہے ، اور اسے شرک کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8079
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12399)»
حدیث نمبر: 8080
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَرَّمَ سِتَّةً : الْحُمُرَ ، وَالْخَمْرَ ، وَالْمَيْسِرَ ، وَالْمَزَامِيرَ ، وَالدُّفَّ ، وَالْكُوبَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْإِمَامُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَزَادَ : وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ . ¤ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارِ بْنِ صُبَيْحٍ شَيْخُ الْبَزَّارِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے شراب کو ، گدھوں کو ، جوئے کو ، مزامیر کو ، دف کو اور کوباء ( طبل ) کو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر ، امام ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے اسے امام بزار نے انتہائی اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اور یہ الفاظ نقل کیے ہیں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن عمار بن صبیح ہے جو امام بزار کا استاد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8080
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2913)»
حدیث نمبر: 8081
وَعَنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَوْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ نَهَانِي عَنْهُ رَبِّي بَعْدَ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ شُرْبُ الْخَمْرِ ، وَمُلَاحَاةُ الرِّجَالِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقَدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ رُمِيَ بِالْكَذِبِ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ : كَانَ صَدُوقًا، وَرُدَّ قَوْلُهُ ، وَالْجُمْهُورُ ضَعَّفُوهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرے پروردگار نے بتوں کی عبادت کے بعد ، جس چیز سے سب سے پہلے مجھے منع کیا ہے وہ شراب پینا ہے ، اور لوگوں کے باہمی تنازعات ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے ، اور وہ متروک ہے اس پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے محمد بن مبارک صوری کہتے ہیں : وہ صدوق تھا ، لیکن ان کا یہ قول مسترد کیا گیا ہے ، اور جمہور نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8081
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2921) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (83/20)»
حدیث نمبر: 8082
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنْ كَانَ لِمِنْ أَوَّلِ مَا عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ رَبِّيَ وَنَهَانِي عَنْهُ بَعْدَ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ ، وَشُرْبِ الْخَمْرِ لِمُلَاحَاةُ الرِّجَالِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ ، وَنُقِلَ عَنِ ابْنِ مَعِينٍ تَوْثِيقُهُ فِي رِوَايَةٍ ، وَقَالَ فِي الْأُخْرَى : لَيْسَ بِشَيْءٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” میرے پروردگار نے بتوں کی عبادت کے بعد جس چیز کے بارے میں مجھے سب سے پہلے تلقین کی اور جس سے مجھے سب سے پہلے منع کیا وہ شراب پینا ہے جو لوگوں کے باہمی تنازعات کا باعث بنتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن متوکل ہے جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے یحیی بن معین سے ایک روایت میں اس کی توثیق نقل کی گئی ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے یہ کہا: ہے کہ یہ کوئی چیز نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8082
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (240/23)»
حدیث نمبر: 8083
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : حُرِّمَتِ الْخَمْرُ بِعَيْنِهَا الْقَلِيلُ مِنْهَا وَالْكَثِيرُ ، وَالْمُسْكِرُ مِنْ كُلِّ شَرَابٍ . ¤ قُلْتُ : عَزَاهُ صَاحِبُ الْأَطْرَافِ إِلَى النَّسَائِيِّ وَلَمْ أَرَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : شراب کو بعینہ حرام قرار دیا گیا ہے خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” اطراف “ کے مصنف نے اس روایت کی نسبت امام نسائی رحمہ اللہ کی طرف کی ہے ، لیکن میں نے اس کو ( سنن نسائی میں ) نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأشربة / حدیث: 8083
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (12633, 12389, 10841, 10839,10840, 10837)»