کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: پنیر کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8024
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجُبْنَةٍ فِي غَزَاةٍ فَقَالَ : " أَيْنَ صُنِعَتْ هَذِهِ ؟ " قَالُوا : بِفَارِسَ وَنَحْنُ نَرَى أَنَّهُ يُجْعَلُ فِيهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ : " اطْعَنُوا فِيهَا بِالسِّكِّينِ ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَكُلُوا " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک غزوہ کے دوران پنیر لایا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کہاں سے لایا گیا ہے ؟ آپ کو بتایا گیا یہ اہل فارس تیار کرتے ہیں اور ہمارا یہ خیال ہے کہ اس میں مردار کی کوئی چیز ڈالی جاتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس میں چھری لگاؤ اور اللہ کا نام لے کے کھانا شروع کرو ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8024
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2878) اخرجه احمد فى المسند (2080)»
حدیث نمبر: 8025
وَفِي رِوَايَةٍ : أُتِيَ بِجُبْنَةٍ فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَضْرِبُونَهَا بِالْعِصِيِّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : فِي غَزْوَةِ الطَّائِفِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” پنیر لایا گیا آپ کے اصحاب نے اسے چھڑی کے ذریعے مارنا ( یعنی ، توڑنا ) شروع کیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : غزوہ طائف کے موقع پر ایسا ہوا تھا اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8025
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8026
وَعَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْجُبْنِ قَالَ : " اقْطَعْ بِالسِّكِّينِ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرْحِ الْحِجَازِيُّ ، ضَعَّفَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، وَابْنُ عَدِيٍّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پنیر کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا : اسے چھری کے ذریعے کاٹ لو اور اللہ کا نام لے کر کھا لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن فرح حجازی ہے ، جسے محمد بن عوف اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ابن ابوحاتم نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8026
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1597)»
حدیث نمبر: 8027
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ قَالَ : اسْتَفْتَتْنِي امْرَأَةٌ بِمَكَّةَ فَقُلْتُ لَهَا : هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَلَيْكِ بِهِ فَاسْتَفْتِيهِ . فَانْدَفَعَتْ نَحْوَهُ فَاتَّبَعْتُهَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ فَقَالَتْ : أَفْتِنِي عَنِ الْجُبْنِ ؟ فَقَالَ : وَمَا الْجُبْنُ ؟ قَالَتْ : شَيْءٌ نَصْنَعُهُ مِنَ اللَّبَنِ كَذَا وَكَذَا وَيَجْبُنُونَ الْأَنْفِحَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا يَصْنَعُ الْمُسْلِمُونَ وَأَهْلُ الْكِتَابِ فَكُلِيهِ وَمَا لَمْ يَصْنَعُوهُ فَلَا تَأْكُلِيهِ قَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ أَفْتِنِي عَنِ الْجَرَادِ ؟ قَالَ : ذَكِيٌّ كُلُّهُ قَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ أَفْتِنِي عَنِ الذَّهَبِ قَالَ : يُكْرَهُ لِلرِّجَالِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، خَلَا شَيْخِهِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
علی بن عبداللہ بارقی بیان کرتے ہیں : مکہ میں ایک خاتون نے مجھ سے مسئلہ دریافت کیا : میں نے اسے کہا: یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما موجود ہیں تم ان کے پاس جا کر ان سے یہ حکم دریافت کرو وہ خاتون ان کی طرف بڑھی ، تو میں اس کے پیچھے چلا گیا تاکہ یہ بات سن لوں کہ وہ کیا کہتی ہے ؟ اس عورت نے کہا: آپ مجھے پنیر کے بارے میں حکم بیان کیجئے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پنیر کیا ہوتا ہے ؟ اس نے جواب دیا : ہم دودھ سے اس ، اس طرح اسے تیار کرتے ہیں اور وہ لوگ انفحہ ( نام کے مخصوص درخت ) کو کاٹتے ہیں ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو مسلمانوں اور اہل کتاب نے تیار کیا ہو اسے تم کھا لو اور جو ان لوگوں نے تیار نہ کیا ہو اسے تم نہ کھاؤ اس خاتون نے کہا: اے سیدنا عبداللہ ! آپ مجھے ٹڈی دل کے بارے میں فتوی دیجئے انہوں نے فرمایا : یہ پورا پاک ہوتا ہے ( یعنی اسے ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ) اس خاتون نے کہا: اے سیدنا عبداللہ ! آپ مجھے سونے کے بارے میں فتوی دیجئے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے مردوں کے لئے حرام قرار دیا گیا ہے اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8027
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8028
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : لَا تَأْكُلُوا مِنَ الْجُبْنِ إِلَّا مَا صَنَعَ الْمُسْلِمُونَ وَأَهْلُ الْكِتَابِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پنیر میں سے صرف وہ کھاؤ جسے مسلمانوں یا اہل کتاب نے تیار کیا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8028
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8980)»
حدیث نمبر: 8029
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْجُبْنِ فَقَالَ : ضَعِ السِّكِّينَ وَسَمِّ وَكُلْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان سے پنیر کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : چھری لگاؤ بسم اللہ پڑھو اور کھا لو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 8029
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح