کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: گوشت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 7985
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَكْرَهُ مِنَ الشَّاةِ سَبْعًا : الْمَرَارَةَ ، وَالْمَثَانَةَ ، وَالْحَيَاءَ ، وَالذَّكَرَ ، وَالْأُنْثَيَيْنِ ، وَالْغُدَّةَ ، وَالدَّمَ ، وَكَانَ أَحَبُّ الشَّاةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُقَدَّمَهَا . ¤ قَالَ : وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَعَامٍ فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ يُلْقِمُونَهُ اللَّحْمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَطْيَبَ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے سات حصوں کو ناپسند کرتے تھے ، تلی ، مثانہ ، ( مادہ کی ) ، شرمگاہ ( ” نر “ کی ) شرمگاہ ، خصیے ، غدہ ( یا معدہ ) اور خون ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک بکری کا سب سے زیادہ پسندیدہ حصہ ، اُس کا آگے والا حصہ ہوتا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا لایا گیا ، لوگوں نے گوشت کے لقمے لینا شروع کیے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گوشت میں سب سے زیادہ پاکیزہ پشت کا گوشت ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7985
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7986
وَعَنْ نُسَيْكَةَ أُمِّ عَمْرِو بْنِ جُلَاسٍ قَالَتْ : إِنِّي عِنْدَ عَائِشَةَ وَقَدْ ذَبَحَتْ شَاةً لَهَا فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي يَدِهِ عُصَيَّةٌ فَأَلْقَاهَا ثُمَّ هَوَى إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ هَوَى إِلَى فِرَاشِهِ فَتَبَطَّحَ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ : " هَلْ مِنْ غَدَاءٍ ؟ " فَأَتَيْنَاهُ بِصَحْفَةٍ فِيهَا خُبْزُ شَعِيرٍ ، وَفِيهَا كِسْرَةٌ ، وَقِطْعَةٌ مِنَ الْكِرْشِ ، وَفِيهَا الذِّرَاعُ ، قَالَتْ : فَأَخَذَتْ عَائِشَةُ قِطْعَةً مِنَ الْكِرْشِ ، وَإِنَّهَا لِتَنْهَشُهَا إِذْ قَالَتْ : ذَبَحْنَا شَاةً الْيَوْمَ فَمَا أَمْسَكْنَا غَيْرَ هَذَا ، قَالَتْ : يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا بَلْ كُلُّهَا أَمْسَكْتِ إِلَّا هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَجْمَعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
نسیکہ ام عمرو بن جلاس بیان کرتی ہیں : میں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھی ، انہوں نے اپنی بکری ذبح کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، آپ کے دست مبارک میں چھڑی تھی ، آپ نے اسے رکھ دیا پھر آپ نماز کی مخصوص جگہ کی طرف بڑھے وہاں آپ نے دو رکعت ادا کیں پھر آپ اپنے بستر کی طرف آئے ، اور اس پر تشریف فرما ہوئے ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا کچھ کھانے کے لئے ہے ؟ ہم نے آپ کی خدمت میں پیالہ پیش کیا جس میں جو کی روٹی تھی اور روٹی کا ٹکڑا تھا ، اور کرش ( جانور کے مخصوص حصے کا گوشت ) کا ٹکڑا تھا ، اور ایک پایا تھا ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کرش کا ٹکڑا لیا اور اسے نوچ کر کھانے لگیں ، اسی دوران انہوں نے بتایا کہ ہم نے آج بکری ذبح کی تھی اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں رکھا ( یعنی باقی سارا گوشت صدقہ کر دیا ) وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم نے سارا کچھ رکھ لیا ، صرف اس کو نہیں رکھا ( یعنی جو صدقہ کیا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محفوظ ہو گیا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابراہیم بن مجمع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7986
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (44/25)»
حدیث نمبر: 7987
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : وَأُهْدِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً وَأَرْغِفَةً فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَأْكُلُونَ وَسَمِعَهُ يَقُولُ : " عَلَيْكُمْ بِلَحْمِ الظَّهْرِ فَإِنَّهُ مِنْ أَطْيَبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي الْمَنَاقِبِ ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بکری ( کا گوشت ) اور روٹیاں تحفے کے طور پر دی گئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا شروع کیا لوگوں نے بھی کھانا شروع کیا سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : تم پر لازم ہے کہ پشت کا گوشت کھاؤ کیونکہ وہ زیادہ پاکیزہ ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ جو مناقب کے بارے میں ہے اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7987
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7988
وَعَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ قَالَ : رَأَى عَبْدُ اللَّهِ مَعَ رَجُلٍ دَرَاهِمَ فَقَالَ : مَا تَصْنَعُ بِهَا ؟ قَالَ : أَشْتَرِي بِهَا فَرْقَ سَمْنٍ قَالَ : أَعْطِهَا امْرَأَتَكَ تَضَعْهَا تَحْتَ فِرَاشِهَا ثُمَّ اشْتَرِ كُلَّ يَوْمٍ لَحْمًا بِدِرْهَمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا عَرِيبِ بْنِ حُمَيْدٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ قُلْتُ : وَأَحَادِيثُ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعمرو شیبانی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے پاس درہم دیکھے ، تو فرمایا : تم اس کا کیا کرو گے ؟ اس نے کہا: میں اس کے ذریعے گھی کا مٹکا خریدوں گا انہوں نے فرمایا : یہ درہم تم اپنی بیوی کو دو وہ اسے بچھونے کے نیچے رکھ دے پھر روزانہ ایک درہم کے عوض میں تم گوشت خرید لیا کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ عریب بن حمید کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں مجھے دستی پکڑاؤ سے متعلق احادیث علامات نبوت سے متعلق باب میں آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7988
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8989)»