کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: روٹی کا احترام کرنا اور اس میں سے جو گر جائے اسے کھا لینا
حدیث نمبر: 7975
عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ دَخَلَ الْمُتَوَضَّأَ فَأَصَابَ لُقْمَةً - أَوْ قَالَ : كِسْرَةً - فِي مَجْرَى الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ فَأَخَذَهَا ، فَأَمَاطَ عَنْهَا الْأَذَى ، فَغَسَلَهَا غَسْلًا نِعْمًا ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى غُلَامِهِ ، فَقَالَ لَهُ : يَا غُلَامُ ذَكِّرْنِي بِهَا إِذَا تَوَضَّأْتُ . فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَالَ لِلْغُلَامِ : يَا غُلَامُ نَاوِلْنِي اللُّقْمَةَ - أَوْ قَالَ : الْكِسْرَةَ - فَقَالَ : يَا مَوْلَايَ أَكَلْتُهَا . قَالَ : اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ . فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ : يَا مَوْلَايَ لِأَيِّ شَيْءٍ أَعْتَقْتَنِي ؟ قَالَ : لِأَنِّي سَمِعْتُ مِنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَذْكُرُ عَنْ أَبِيهَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَخَذَ لُقْمَةً - أَوْ كِسْرَةً - مِنْ مَجْرَى الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ فَأَخَذَهَا فَأَمَاطَ عَنْهَا الْأَذَى وَغَسَلَهَا غَسْلًا نِعْمًا ثُمَّ أَكَلَهَا لَمْ تَسْتَقِرَّ فِي بَطْنِهِ حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ " . فَمَا كُنْتُ لِأَسْتَخْدِمَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ ایک مرتبہ وضوخانہ میں داخل ہوئے ، تو انہیں ایک لقمہ ملا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) روٹی کا ٹکڑا ملا جو پاخانے اور پیشاب کے گزرنے کی جگہ ( یعنی نالی وغیرہ ) میں پڑا ہوا تھا انہوں نے اسے لیا اس سے گندگی کو صاف کیا اور اسے اچھی طرح سے دھویا اور پھر وہ اپنے غلام کو پکڑا دیا اور اس سے فرمایا : اے غلام ! جب میں وضو کر لوں ، تو مجھے یہ یاد کروا دینا جب انہوں نے وضو کر لیا تو انہوں نے غلام سے کہا: اے غلام ! وہ لقمہ مجھے پکڑاؤ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ ٹکڑا مجھے پکڑاؤ اس نے کہا: اے میرے آقا ! وہ میں نے کھا لیا ہے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم جاؤ تم اللہ کی رضا کے لئے آزاد ہو غلام نے ان سے دریافت کیا : اے میرے آقا ! آپ نے مجھے کیوں آزاد کیا ہے ؟ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ کو اپنے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) جو شخص لقمہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) روٹی کا ٹکڑا پاخانے یا پیشاب کی گزرگاہ میں سے پائے ، اور پھر اسے لے کر اس سے گندگی کو دور کر کے اسے اچھی طرح دھو لے اور پھر اس کو کھا لے ، تو اس کھانے کے اس شخص کے پیٹ میں جگہ بنانے سے پہلے اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔ ( سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو میں کسی ایسے شخص سے خدمت نہیں لوں گا ، جو اہل جنت میں سے ہو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7975
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6750)»
حدیث نمبر: 7976
وَعَنْ أَبِي سُكَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَكْرِمُوا الْخُبْزَ فَإِنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ فَمَنْ أَكْرَمَ الْخُبْزَ أَكْرَمَهُ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ خَلَفُ بْنُ يَحْيَى قَاضِي الرَّيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَأَبُو سُكَيْنَةَ قَالَ ابْنُ الْمَدِينِيِّ : لَا صُحْبَةَ لَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسکینہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” روٹی کی عزت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے عزت دی ہے جو شخص روٹی کی عزت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عزت افزائی کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلف بن یحیی ہے جو ” رے “ کا قاضی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور ایک راوی ابوسکینہ ہے ابن مدینی کہتے ہیں : اس کو صحابی ہونے کا شرف حاصل نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7976
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (335/22)»
حدیث نمبر: 7977
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمِّ حَرَامٍ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقِبْلَتَيْنِ ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَكْرِمُوا الْخُبْزَ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْزَلَهُ مِنْ بَرَكَاتِ السَّمَاءِ وَسَخَّرَ لَهُ بَرَكَاتِ الْأَرْضِ وَمَنْ يَتْبَعْ مَا سَقَطَ مِنَ السُّفْرَةِ غُفِرَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّامِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَصَوَابُهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّامِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ام حرام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” روٹی کی عزت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے آسمان کی برکات میں سے نازل کیا ہے ، اور اس کے لئے زمین کی برکات کو مسخر کیا ہے جو شخص دستر خوان سے گر جانے والی روٹی کو اٹھا لیتا ہے ( اور کھا لیتا ہے ) اس کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالرحمن شامی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، درست یہ ہے کہ یہ عبدالملک بن عبدالرحمن شامی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأطعمة / حدیث: 7977
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2877)»