حدیث نمبر: 7892
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَجْتَمِعْ لَهُ غَدَاءٌ وَلَا عَشَاءٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ إِلَّا عَلَى ضَفَفٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ، جب بھی صبح کے وقت کھانے میں یا رات کے کھانے میں روٹی اور گوشت اکٹھا ہوتا تھا تو کئی افراد ( کھانے کے لئے موجود ہوتے تھے ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7893
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَحَبَّ الطَّعَامَ إِلَى اللَّهِ مَا كَثُرَتْ عَلَيْهِ الْأَيْدِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا وہ ہے جس پر ( کھانے والوں کے ) ہاتھ زیادہ ہوں“ ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمجید بن ابورواد ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمجید بن ابورواد ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 7894
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُوا جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ، فَإِنَّ طَعَامَ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ ، وَطَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ بَحْرٌ السَّقَّاءُ ، وَفِي الْآخَرِ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مل جل کر کھاؤ الگ الگ نہ کھاؤ کیونکہ ایک کا کھانا دو کے لئے کفایت کر جاتا ہے دو کا کھانا چار کے لئے کفایت کر جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور معجم کبیر اس کی مانند نقل کی ہے ۔ معجم اوسط کی سند میں ایک راوی بحرالسقاء ہے جبکہ دوسری کی سند میں ابوربیع سمان ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور معجم کبیر اس کی مانند نقل کی ہے ۔ معجم اوسط کی سند میں ایک راوی بحرالسقاء ہے جبکہ دوسری کی سند میں ابوربیع سمان ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حدیث نمبر: 7895
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ ، وَيَدُ اللَّهِ تَعَالَى عَلَى الْجَمَاعَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک کا کھانا دو کے لئے کفایت کر جاتا ہے دو کا کھانا چار کے لئے کفایت کر جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7896
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " أَيُّكُمْ مَا صَنَعَ طَعَامًا قَدْرَ مَا يَكْفِي رَجُلَيْنِ فَإِنَّهُ يَكْفِي ثَلَاثَةً ، أَوْ صَنَعَ طَعَامًا [ قَدْرَ مَا ] يَكْفِي أَرْبَعَةً فَإِنَّهُ يَكْفِي خَمْسًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الْآخَرِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : ” تم میں سے جو شخص بھی کھانا تیار کرے جو اتنا ہو جو دو آدمیوں کے لئے کفایت کرتا ہو ، تو وہ تین کے لئے کفایت کر جائے گا یا وہ اتنا کھانا تیار کرے جو چار کے لئے کفایت کرتا ہو ، تو وہ پانچ کے لئے کفایت کر جائے گا“ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، دوسری روایت کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، دوسری روایت کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 7897
وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک کا کھانا دو کے لئے کفایت کر جاتا ہے دو کا کھانا چار کے لئے کفایت کر جاتا ہے “ ۔
حدیث نمبر: 7898
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ كَافِي الثَّمَانِيَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ وَفِي الثَّانِيَةِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” چار کا کھانا آٹھ کے لئے کفایت کر جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ پہلی روایت کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ، اور دوسری کی سند میں ابوبکر ہذلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ پہلی روایت کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ، اور دوسری کی سند میں ابوبکر ہذلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7899
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي : ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ ، وَشُعْبَةُ ، وَعَفَّانُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک کا کھانا دو کے لئے کفایت کر جاتا ہے ، اور دو کا کھانا چار کے لئے کفایت کر جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے سفیان ثوری شعبہ اور عفان نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے سفیان ثوری شعبہ اور عفان نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔