کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: طلاق کا سنت طریقہ اور طلاق کیسے دی جائے ؟
حدیث نمبر: 7766
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ فَقَالَ : إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي أَلْبَتَّةَ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ عُمَرُ : عَصَيْتَ رَبَّكَ وَفَارَقْتَ امْرَأَتَكَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ ابْنَ عُمَرَ حِينَ فَارَقَ زَوْجَتَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَ بِطَلَاقٍ بَقِيَ ، وَإِنَّهُ لَمْ يَبْقَ لَكَ مَا تُرْجِعُ بِهِ امْرَأَتَكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا إِسْمَاعِيلَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيَّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: میں نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق بتہ دیدی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی ہے ، اور تم اپنی بیوی سے جدا ہو گئے ہو اس شخص نے کہا: لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر کو اپنی بیوی سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی جب انہوں نے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول نے اسے اس طلاق کی صورت میں رجوع کی ہدایت کی تھی ، جو طلاق باقی رہ گئی تھی لیکن تمہارے لئے ، تو اتنی طلاق باقی ہی نہیں رہی جس کی بنیاد پر تم اپنی بیوی سے رجوع کر سکو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسماعیل بن ابراہیم ترجمانی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7766
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7767
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُتْبِعَهَا بِطَلْقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عِنْدَ الْقُرْأَيْنِ الْبَاقِيَيْنِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا ابْنَ عُمَرَ مَا هَكَذَا أَمَرَ اللَّهُ أَخْطَأْتَ السُّنَّةَ وَالسُّنَّةُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّهْرَ فَتُطَلِّقَ لِكُلِّ قُرْءٍ " فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَاجَعْتُهَا ، ثُمَّ قَالَ : " إِذَا هِيَ حَاضَتْ ، ثُمَّ طَهُرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِكَ وَأَمْسِكْ " فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا كَانَ لِي أَنْ أُرَاجِعَهَا ؟ قَالَ : " إِذًا بَانَتْ مِنْكَ ، وَكَانَتْ مَعْصِيَةً " . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : لَيْسَ بِذَاكَ وَعَظَّمَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انہوں نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران ایک طلاق دیدی پھر انہوں نے اس کے بعد باقی کی دو طلاقیں دو قروء کے دوران دینے کا ارادہ کیا جو باقی رہ گئی تھیں اس بات کی اطلاع نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابن عمر ! کیا اللہ تعالیٰ نے اس طرح کرنے کا حکم دیا ہے تم نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے سنت یہ ہے کہ جب طہر کا آغاز ہو ، تو تم ہر قرء میں ایک طلاق دو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا میں نے اس عورت سے رجوع کر لیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا ، پھر جب اسے حیض آئے پھر جب یہ پاک ہو جائے ، تو اس وقت تم اسے طلاق دیدینا یا اپنے ساتھ روک لینا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر میں نے اسے تین طلاقیں دیدی ہوتیں ، تو کیا میرے لئے اس سے رجوع کا حق ہونا تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس صورت میں اس نے تم سے جدا ہو جانا تھا ، اور یہ چیز معصیت ہوئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ایک حدیث صحیح میں مذکور ہے ، لیکن وہ اس سباق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن سعید رازی ہے ۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ اتنے پائے کہ نہیں ہے دیگر حضرات نے اس کی بڑائی کا اعتراف کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7767
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7768
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، فَقَالَ : طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ ، قَالَ : فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلْيُرَاجِعْهَا ، فَإِنَّهَا امْرَأَتُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا ابْنَ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوزبیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا : جو اپنی بیوی کو اس وقت طلاق دیدیتا ہے ، جب اس کی بیوی حیض کی حالت میں ہوتی ہے ، تو انہوں نے بتایا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق دیدی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے چاہیے کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لے کیونکہ وہ عورت ابھی اس کی بیوی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7768
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 7769
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِامْرَأَتِهِ : " قَدْ طَلَّقْتُكِ قَدْ رَاجَعْتُكِ لَيْسَ هُوَ طَلَاقُ الْمُسْلِمِينَ طَلِّقُوا الْمَرْأَةَ فِي قُبُلِ طُهْرِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَهَذَا لَفْظُهُ ، وَالْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ : بَلَغَ أَبَا مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضِبَ عَلَى الْأَشْعَرِيِّينَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُبْلِغْتُ أَنَّكَ غَضِبْتَ عَلَى الْأَشْعَرِيِّينَ ؟ قَالَ : " أَجَلْ إِنَّ أَحَدَهُمْ يَقُولُ : قَدْ نَكَحْتُ قَدْ طَلَّقْتُ " فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی بیوی سے یہ کہنا : میں نے تمہیں طلاق دی میں نے تم سے رجوع کر لیا ( اس طرح کے کلمات استعمال کرنا ) مسلمانوں کا طلاق دینے کا طریقہ نہیں ہے تم لوگ عورت کو اس کے ظہر کے آغاز میں طلاق دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ یہ الفاظ ان کے ہیں اور معجم کبیر میں بھی نقل کی ہے ۔ تا ہم انہوں نے یہ کہا: ہے کہ یہ حمید بن عبدالرحمن خمیری کے حوالے سے منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ نبی اکرم نے اشعر قبیلے کے لوگوں پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ نے اشعر قبیلے کے لوگوں پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک شخص یہ کہتا ہے کہ میں نے نکاح کر لیا میں نے طلاق دیدی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7769
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7770
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا طَلَاقَ إِلَّا لِعِدَّةٍ ، وَلَا عِتْقَ إِلَّا لِوَجْهِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ فَرْقَدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” طلاق صرف عدت کے لئے ہوتی ہے ، اور غلام آزاد کرنا صرف اللہ کی رضا کے لئے ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن سعید بن فرقد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7770
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7771
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ : طَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : الطَّلَاقُ فِي طُهْرٍ غَيْرِ جِمَاعٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم ان عورتوں کو ان کی عدت کے لئے طلاق دو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد طہر میں صحبت کیے بغیر طلاق دینا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم عبدی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطلاق / حدیث: 7771
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10465)»