حدیث نمبر: 7046
وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ أَنَّهُ شَهِدَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِالْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ . ¤ قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ : سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ هَلْ يَجُوزُ فِي الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ ؟ فَقَالَ : لَا ؛ إِنَّمَا هَذَا فِي الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ وَأَشْبَاهِهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وِجَادَةً ، وَكَذَلِكَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عماره بن حزم رضی اللہ عنہ گواہی دے کر یہ بات بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم اور ایک گواہ کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا ۔ زید بن حباب بیان کرتے ہیں : میں نے امام مالک بن انس سے ، قسم اور ایک گواہ کی بنیاد پر فیصلہ دینے کے بارے میں دریافت کیا ، کیا غلام اور طلاق دینے کے بارے میں یہ درست شمار ہو گا ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! یہ خرید و فروخت اور اس طرح کی چیزوں کے بارے میں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ” وجادہ “ کے طور پر روایت کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ” وجادہ “ کے طور پر روایت کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7047
وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ہمراہ ، قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7048
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ الْجُذَامِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : لَيْسَ بِالْمُتْقِنِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہ کے ہمراہ قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن حکم جذامی ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ ’ متقن ، نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن حکم جذامی ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ ’ متقن ، نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7049
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ہمراہ قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7050
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَرَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ہمراہ قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 7051
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ أَقْضِيَ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ ابْنُ مَاجَهْ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ . ¤ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي حَيَّةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل نے مجھ سے کہا: کہ میں ایک گواہ کے ہمراہ ، قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دوں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس صحابی کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ہمراہ ، قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ابوحیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ہمراہ ، قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے دیا تھا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ابوحیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 7052
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ صَحَابَتَهُ فَأَخَذُوا سَبْيَ بَنِي الْعَنْبَرِ - وَهُمْ مُخَضْرَمُونَ وَقَدْ أَسْلَمُوا - فَرَكِبَ زَبِيبٌ نَاقَةً لَهُ ، ثُمَّ اسْتَقْدَمَ الْقَوْمَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّ صَحَابَتَكَ أَخَذُوا سَبْيَ بَنِي الْعَنْبَرِ وَهُمْ مُخَضْرَمُونَ ، وَقَدْ أَسْلَمُوا ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَكَ بَيِّنَةٌ يَا زَبِيبُ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ؛ شَهِدَ سَمُرَةُ وَحَلَفَ زَبِيبٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رُدُّوا عَلَى بَنِي الْعَنْبَرِ كُلَّ شَيْءٍ لَهُمْ فَرَدُّوا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ لَهُمْ غَيْرَ زِرْبِيَّةِ أُمِّي . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : وَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ زَبِيبٍ فَمَسَحَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى أَجْرَاهَا عَلَى سُرَّتِهِ . قَالَ زَبِيبٌ : حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ " . ثُمَّ انْصَرَفَزَبِيبٌ بِالسَّيْفِ فَبَاعَهُ بِبَكْرَتَيْنِ مِنْ صَدَقَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَالَدَتَا عِنْدَ زَبِيبٍ حَتَّى بَلَغَتَا مِائَةً وَنَيِّفًا . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثًا بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ ، وَفِيهِ : أَنَّهُمْ رَدُّوا عَلَيْهِ نِصْفَ الَّذِي لَهُمْ . وَهُنَا : أَنَّهُمْ رَدُّوا الْجَمِيعَ . وَهُنَاكَ : لَمْ يَشْهَدْسَمُرَةُ وَأَبَى أَنْ يَشْهَدَ . وَهُنَا : أَنَّهُ شَهِدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ زینب بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو بھیجا ، انہوں نے بنوعنبر کے قیدیوں کو پکڑ لیا ، جو مخضر میں تھے اور اسلام قبول کر چکے تھے ، زبیب اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر لوگوں سے پہلے آئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کے اصحاب نے بنو عنبر کے قیدیوں کو پکڑ لیا ہے ، حالانکہ وہ لوگ ” مخضر مین“ ہیں اور اسلام قبول کر چکے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : اے زبیب ! کیا تمہارے پاس کوئی ثبوت ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! پھر سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے گواہی دے دی اور سیدنا زبیب رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھا لی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بنو عنبر کی ہر چیز انہیں واپس کر دو ! تو لوگوں نے ان لوگوں کی ہر چیز انہیں واپس کر دی ، صرف میری والدہ کی ہنڈیا نہیں دی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : وہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا زبیب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، آپ نے اپنا دست مبارک ان کے سر پر پھیرا ، یہاں تک کہ ان کی ناف تک لے کے آئے ، سیدنا زبیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی کی ٹھنڈک میں نے محسوس کی ، پھر آپ نے دعا کی : اے اللہ ! تو اسے عفو اور عافیت عطا فرما ! پھر سیدنا زبیب رضی اللہ عنہ تلوار لے کر گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ کے اونٹوں میں سے ، دو جوان اونٹنیوں کے عوض میں وہ تلوار فروخت کر دی ، ان اونٹنیوں نے سیدنا زبیب رضی اللہ عنہ کے ہاں بچوں کو جنم دیا ، یہاں تک کہ ان کے ہاں ایک سو سے زیادہ اونٹنیاں ہو گئیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس صحابی کے حوالے سے اس سیاق کے بغیر روایت نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ان لوگوں نے ان لوگوں کی چیزوں کا نصف واپس کیا تھا ، جبکہ یہاں یہ ہے کہ سب کچھ واپس کر دیا تھا ، وہاں یہ بات ذکر ہوئی ہے : سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے گواہی نہیں دی تھی ، انہوں نے گواہی دینے سے انکار کر دیا تھا ، جبکہ یہاں یہ ذکر ہو رہا ہے کہ انہوں نے گواہی دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔