کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: گواہوں کا بیان
حدیث نمبر: 7035
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ شَهِدَ عَلَى مُسْلِمٍ شَهَادَةً لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . وَتَابِعِيُّهُ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کسی مسلمان کے خلاف ایسی گواہی دے ، جس گواہی کا وہ اہل نہ ہو ، تو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس میں تابعی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7035
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (509/2)»
حدیث نمبر: 7036
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الطَّيْرَ لَتَضْرِبُ بِمَنَاقِيرِهَا عَلَى الْأَرْضِ وَتُحَرِّكُ أَذْنَابَهَا مِنْ هَوْلِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَا يَتَكَلَّمُ شَاهِدُ الزُّورِ وَلَا يُفَارِقُ قَدَمَاهُ عَلَى الْأَرْضِ حَتَّى يُقْذَفَ بِهِ فِي النَّارِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَا أَعْرِفُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے ایک پرندہ اپنی چونچ زمین پر مارتا ہے اور اپنی دم کو حرکت دیتا ہے ، لیکن جب کوئی گواہی دینے والا کلام کرتا ہے ، تو اُس کے پاؤں اپنی جگہ سے ہلنے سے پہلے اُسے جہنم میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7036
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (5672) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (7766)»
حدیث نمبر: 7037
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ شَهِدَ شَهَادَةً يُسْتَبَاحُ بِهَا مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَيَسْفِكُ بِهَا دَمًا ، فَقَدْ أَوْجَبَ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ وَزَادَ : " وَمَنْ شَرِبَ شَرَابًا حَتَّى يَذْهَبَ عَقْلُهُ الَّذِي رَزَقَهُ اللَّهُ ، فَقَدْ أَتَى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْكَبَائِرِ " . ¤ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ [ يَعْنِي ] كَتَمَ الشَّهَادَةَ اجْتَاحَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ " . ¤ وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ . وَفِيهِ حَنَشٌ وَاسْمُهُ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَزَعَمَ أَبُو مِحْصَنٍ أَنَّهُ شَيْخُ صِدْقٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کوئی ایسی گواہی دے ، جس کے ذریعے کسی مسلمان شخص کا مال مباح کیا جا رہا ہو ، یا اس کی وجہ سے اس کا خون بہایا جا رہا ہو ، تو وہ شخص جہنم کو واجب کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” جو شخص شراب پیئے ، یہاں تک کہ اس کی وہ عقل رخصت ہو جائے ، جو اللہ تعالی نے اسے عطا کی ہے ، تو ایسا شخص کبیرہ گناہوں میں سے ایک گناہ کا مرتکب ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو شخص ( یعنی ) گواہی کو چھپاتا ہے اور اس کے ذریعے مسلمان کا مال ہتھیا لیتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ باقی روایت حسب سابق ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی حنش ہے ، جس کا نام حسین بن قیس ہے اور وہ متروک ہے اور ابومحصن کا یہ گمان ہے کہ وہ سچا بزرگ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7037
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1356) اخرجه ابو يعلى فى المسند (2751)»
حدیث نمبر: 7038
وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ كَتَمَ شَهَادَةً إِذَا دُعِيَ إِلَيْهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَ بِالزُّورِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، فَقَالَ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ . وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص کو گواہی کے لئے بلایا جائے اور وہ گواہی کو چھپا لے ، تو اُس کی مثال جھوٹی گواہی دینے والے کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جسے عبدالملک بن شعیب بن لیث نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7038
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (4335)»
حدیث نمبر: 7039
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : عُدِلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ بِالْإِشْرَاكِ بِاللَّهِ تَعَالَى . وَقَرَأَ : ( وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جھوٹی گواہی کو ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک قرار دینے کے برابر قرار دیا گیا ہے ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور جھوٹی گواہی سے اجتناب کرو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7039
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8569)»
حدیث نمبر: 7040
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَيَّمَا رَجُلٍ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى لَمْ يَزَلْ فِي سُخْطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ . وَأَيَّمَا رَجُلٍ شَدَّ غَضَبًا عَلَى مُسْلِمٍ فِي خُصُومَةٍ لَا عِلْمَ لَهُ بِهَا ، فَقَدْ عَانَدَ اللَّهَ حَقَّهُ ، وَحَرَصَ عَلَى سُخْطِهِ وَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ تَتَابَعُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ . وَأَيَّمَا رَجُلٍ أَشَاعَ عَلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِكَلِمَةٍ ، وَهُوَ مِنْهَا بَرِيءٌ سَبَّهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُذِيبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي النَّارِ حَتَّى يَأْتِيَ بِإِنْفَاذِ مَا قَالَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص کی سفارش ، اللہ تعالی کی حدود میں سے کسی حد کے لئے رکاوٹ بن جائے ، ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں مسلسل رہتا ہے ، جب تک وہ اس سے الگ نہیں ہو جاتا ہے ، اور جو شخص کسی مسلمان کے خلاف کسی جھگڑے میں غضب کا اظہار کرتا ہے ، جس کے بارے میں اسے پتہ ہی نہ ہو ، تو ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے حق کے خلاف عناد کا مظاہرہ کرتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے بارے میں لالچ کا اظہار کرتا ہے ، ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے ، جو قیامت کے دن تک برقرار رہتی ہے اور جو شخص کسی مسلمان شخص کے خلاف کوئی بات پھیلاتا ہے ، حالانکہ وہ شخص اس بات سے بری الذمہ ہو ، اور اس شخص کا مقصد دنیا میں اس شخص کو برا کہنا ہو ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ قیامت کے دن اُسے جہنم کی آگ میں گھول دے ، جب تک وہ ایسی چیز نہیں لے آتا ، جس کے ذریعے وہ اپنی کہی ہوئی بات ( کی سزا ) سے نکل آئے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7040
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7041
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ ذَكَرَ امْرَءًا بِشَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ لِيَعِيبَهُ بِهِ حَبَسَهُ اللَّهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَأْتِيَ بِنَفَاذِ مَا قَالَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُ الْأَوَّلِ فِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَرِجَالُ الثَّانِي ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص ، کسی شخص کا ذکر ، ایسی چیز کے حوالے سے کرتا ہے ، جو اس میں نہیں ہوتی ہے اور اس کا مقصد اس کے ذریعے اس کو معیوب قرار دینا ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جہنم کی آگ میں روک لے گا ، جب تک وہ ایسی چیز نہیں لے آتا ، جس کے ذریعے وہ اس شخص کے بارے میں اپنی کہی ہوئی بات کا بدلہ نہیں دے دیتا “ ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، پہلی روایت کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور دوسری روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7041
درجۂ حدیث محدثین: سند اول ضعیف، سند ثانی إسنادہ حسن