حدیث نمبر: 7024
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ وَالرَّائِشَ - يَعْنِي الَّذِي يَمْشِي بَيْنَهُمَا - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو الْخَطَّابِ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے ، رشوت لینے والے اور رائش ( راوی کہتے ہیں : یعنی وہ شخص جو اُن دونوں کے درمیان معاملہ طے کرتا ہے ) پر لعنت کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوخطاب ہے اور وہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوخطاب ہے اور وہ مجہول ہے ۔
حدیث نمبر: 7025
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اللہ کے رسول نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن یحیی بن طلحہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 7026
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا جہنم میں ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 7027
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي فِي النَّارِ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي السُّنَنِ : " لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا جہنم میں ہوں گے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” سنن “ میں اس صحابی کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : ” اللہ تعالیٰ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت کی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7028
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ فِي الْحُكْمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کرنے میں ، رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت کی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 7029
وَعَنْ عُلَيْمٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عَلَى سَطْحٍ مَعَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عُلَيْمٌ : لَا أَعْلَمُ إِلَّا عَبْسًا الْغِفَارِيَّ - وَالنَّاسُ يَخْرُجُونَ فِي الطَّاعُونِ . قَالَ عَبْسٌ : يَا طَاعُونُ خُذْنِي ، ثَلَاثًا يَقُولُهَا . فَقَالَ لَهُ عُلَيْمٌ : لِمَ تَقُلْ هَذَا ؟ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ ، فَإِنَّهُ عِنْدَ انْقِطَاعِ عَمَلِهِ ، وَلَا يُرَدُّ فَيُسْتَعْتَبَ " ؟ . فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " بَادِرُوا بِالْمَوْتِ سِتًّا : إِمْرَةَ السُّفَهَاءِ [ وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ ] وَبَيْعَ الْحُكْمِ وَاسْتِخْفَافًا بِالدَّمِ وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ وَنَشُوءًا يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَهُ يُغَنِّيهِمْ ، وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْهُمْ فِقْهًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَابِسٌ الْغِفَارِيُّ وَقَالَ : " يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ لَيْسَ بِأَفْقَهِهِمْ ، وَلَا أَعْلَمِهِمْ ، وَلَا بِأَفْضَلِهِمْ يُغَنِّيهِمْ غِنَاءً " . ¤ وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
علیم بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک سطح پر بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ ایک صحابی موجود تھے ، علیم کہتے ہیں : میرے علم کے مطابق وہ سیدنا عبس غفاری رضی اللہ عنہ تھے ، لوگ طاعون میں نکل رہے تھے ، سیدنا عبس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے طاعون ! تو مجھے گرفت میں لے انہوں نے تین مرتبہ یہ کلمات کہے ، تو علیم نے ان سے کہا: آپ نے یہ بات کیوں کہی ہے ؟ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات نہیں ارشاد فرمائی ہے : ” تم میں سے کوئی ایک شخص موت کی آرزو نہ کرے ، کیونکہ اس صورت میں اس کا عمل منقطع ہو جائے گا ، اور اسے دوبارہ بھی نہیں بھیجا جائے گا کہ وہ نئے سرے سے عمل کرے “ ۔ تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” چھ چیزوں سے پہلے موت کی طرف جلدی کرو ! بے وقوفوں کی حکومت ، شرطیں زیادہ لگایا جانا ، فیصلے کو فروخت کرنا ، خون کو کم تر سمجھنا ، رشتے داری کے حقوق پامال کرنا ، اور ایسے لوگوں کا سامنے آنا ، جو قرآن کو گانے کا ذریعہ بنا لیں گے ، وہ اپنے آگے ایسے شخص کو کریں گے ، جو ان کو گا کر سنائے گا ، اگرچہ وہ دین کے علم کے حوالے سے اُن میں سب سے کم تر ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” وہ ایسے شخص کو آگے کریں گے ، جو ان میں سب سے بڑا فقیہ نہیں ہو گا اور سب سے بڑا عالم نہیں ہو گا اور سب سے زیادہ فضیلت والا نہیں ہو گا ، بلکہ وہ ہو گا ، جو انہیں گا کر سنائے گا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : سیدنا عابس غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” وہ ایسے شخص کو آگے کریں گے ، جو ان میں سب سے بڑا فقیہ نہیں ہو گا اور سب سے بڑا عالم نہیں ہو گا اور سب سے زیادہ فضیلت والا نہیں ہو گا ، بلکہ وہ ہو گا ، جو انہیں گا کر سنائے گا “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7030
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ : فِي كِيسِي هَذَا حَدِيثٌ لَوْ حَدَّثْتُكُمُوهُ لَرَجَمْتُمُونِي . ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ لَا أَبْلُغَنَّ رَأْسَ السِّتِّينَ . قَالُوا : وَمَا رَأْسُ السِّتِّينَ ؟ قَالَ : إِمَارَةُ الصِّبْيَانِ ، وَبَيْعُ الْحُكْمِ ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ ، وَالشَّهَادَةُ بِالْمَعْرِفَةِ ، وَيَتَّخِذُونَ الْأَمَانَةَ غَنِيمَةً وَالصَّدَقَةَ مَغْرَمًا ، وَنَشُوءٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ . قَالَ حَمَّادٌ : وَأَظُنُّهُ قَالَ : وَالتَّهَاوُنُ بِالدَّمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّلَّالُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میرے ذہن میں ایک حدیث ہے : اگر میں اُسے تم لوگوں کو بیان کر دوں ، تو تم لوگ مجھے پتھر مارو گے ، پھر انہوں نے کہا: اے اللہ ! میں ساٹھ ہجری تک نہ پہنچوں ، لوگوں نے کہا: ساٹھ ہجری کا کیا معاملہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا : بچوں کی حکومت آ جائے گی ، فیصلے فروخت ہوں گے ، شرطیں زیادہ عائد کی جائیں گی ، جان پہچان کی بنیاد پر گواہی دی جائے گی امانت کو غنیمت بنا لیا جائے گا ، صدقہ کو جرمانہ سمجھا جائے گا ، اور ایسے لوگ آئیں گے ، جو قرآن کو مزامیر بنا لیں گے ۔ حماد کہتے ہیں : میرا خیال ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا: تھا : کہ خون کو ہلکا سمجھا جائے گا
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن محمد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن محمد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 7031
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : مَا السُّحْتُ ؟ قَالَ : الرِّشَا فِي الْحُكْمِ . قَالَ : ذَاكَ الْكُفْرُ . ثُمَّ قَرَأَ : ( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ) . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . وَشَيْخُ أَبِي يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
مسروق بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ایک شخص نے ان سے دریافت کیا : حرام کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : فیصلہ دیتے ہوئے رشوت لینا ، انہوں نے فرمایا : یہ کفر ہے ، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور جو شخص اس کے مطابق فیصلہ نہیں دیتا ، جو اللہ نے نازل کیا ہے ، تو یہی لوگ کافر ہیں“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے استاد محمد بن عثمان بن عمر سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے استاد محمد بن عثمان بن عمر سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 7032
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : الرِّشْوَةُ فِي الْحُكْمِ كُفْرٌ ، وَهُوَ بَيْنَ النَّاسِ سُحْتٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : فیصلے میں رشوت لینا کفر ہے اور یہ لوگوں کے درمیان حرام ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7033
وَعَنْهُ قَالَ : السُّحْتُ : الرِّشْوَةُ فِي الدِّينِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ غَيْرُ مُسَمًّى ، فَإِنْ كَانَ الْفَضْلَ بْنَ دُكَيْنٍ فَهُوَ ثِقَةٌ ، وَإِنْ كَانَ ضِرَارَ بْنَ صُرَدَ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَكِلَاهُمَا رَوَى عَنْ سُفْيَانَ ، وَرَوَى عَنْهُ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : سحت ( حرام ) یہ ہے کہ دین میں رشوت لی جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اگر تو یہ فضل بن دکین ہے ، تو پھر یہ ثقہ ہے اور اگر یہ ضرار بن صرد ہے ، تو پھر یہ ضعیف ہے ، اور ان دونوں نے سفیان سے روایت نقل کی ہے اور اس سے علی بن عبدالعزیز بغوی نے روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اگر تو یہ فضل بن دکین ہے ، تو پھر یہ ثقہ ہے اور اگر یہ ضرار بن صرد ہے ، تو پھر یہ ضعیف ہے ، اور ان دونوں نے سفیان سے روایت نقل کی ہے اور اس سے علی بن عبدالعزیز بغوی نے روایت نقل کی ہے ۔