کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حاکم کا نائب مقرر کرنا ( یعنی کسی کو قاضی کا عہدہ دینا )
حدیث نمبر: 7008
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : وَمَا اتَّخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاضِيًا ، وَلَا أَبُو بَكْرٍ ، وَلَا عُمَرُ حَتَّى كَانَ فِي آخِرِ زَمَانِهِ قَالَ لِيَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ يُمَنٍ : " اكْفِنِي بَعْضَ الْأُمُورِ " يَعْنِي صِغَارَهَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی قاضی مقرر نہیں کیا تھا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی نہیں کیا تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نہیں کیا تھا ، البتہ انہوں نے اپنے عہد خلافت کے آخری دور میں یزید ، جو یمن کا بھانجا ہے ، اس سے یہ کہا: تھا : تم بعض امور کے بارے میں ، میری کفایت کرو ، یعنی چھوٹے معاملات تم نمٹا لیا کرو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7008
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5455)»
حدیث نمبر: 7009
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَا بَكْرٍ لَمْ يَتَّخِذَا قَاضِيًا . وَأَوَّلُ مَنِ اسْتَقْضَى عُمَرُ قَالَ : رُدَّ عَنِّي النَّاسَ فِي الدِّرْهَمِ وَالدِّرْهَمَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : قَدْ تَقَدَّمَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَنْ يَقْضِيَ بِحَضْرَتِهِ ، وَوَرَدَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کسی کو قاضی نہیں بنایا تھا ، سب سے پہلے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کسی کو قاضی مقرر کیا تھا ، اور یہ فرمایا : ایک درہم اور دو درہم کے بارے میں ، تم لوگوں کو مجھ سے دور رکھو ۔ ( یعنی تم اُن کے فیصلے کر دیا کرو ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس کے بقیہ رجال حسن ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو اپنی موجودگی میں فیصلہ دینے کا حکم دیا تھا ، اور یہ بات بھی وارد ہوئی ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اسی طرح کا معاملہ پیش آیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الأحكام / حدیث: 7009
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف