حدیث نمبر: 7001
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ خَصْمَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَضَى بَيْنَهُمَا فَسَخِطَ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذْ قَضَى الْقَاضِي فَاجْتَهَدَ وَأَصَابَ فَلَهُ عَشَرَةُ أُجُورٍ ، وَإِذَا اجْتَهَدَ وَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ أَوْ أَجْرَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ أُكْسُومٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ بِعِلْمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : دو افراد نے اپنا مقدمہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا ، انہوں نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ دے دیا ، جس شخص کے خلاف فیصلہ ہوا تھا ، وہ ناراض ہو گیا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” جب قاضی فیصلہ دیتے ہوئے اجتہاد سے کام لے اور درست فیصلہ دے ، تو اسے دس گنا اجر ملتا ہے اور جب وہ اجتہاد کرتے ہوئے غلطی کرے ، تو اسے ایک ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : یا ) دو اجر ملتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن اکسوم ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن اکسوم ہے ، میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 7002
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَصْمَانِ [ يَخْتَصِمَانِ ] قَالَ لِعَمْرٍو : " اقْضِ بَيْنَهُمَا [ يَا عَمْرُو ] " . قَالَ : أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " وَإِنْ كَانَ " . قَالَ : فَإِذَا قَضَيْتُ بَيْنَهُمَا فَمَا لِي ؟ قَالَ : " إِنْ أَنْتَ قَضَيْتَ بَيْنَهُمَا فَأَصَبْتَ الْقَضَاءَ فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَإِنْ أَنْتَ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ حَسَنَةٌ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : " إِنْ أَصَبْتَ فَلَكَ أَجْرَانِ ، وَإِنْ أَخْطَأْتَ فَلَكَ أَجْرٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو افراد آئے ، جو ایک دوسرے کے مقابل فریق تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے عمرو ! تم ان دونوں کے درمیان فیصلہ دو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھ سے زیادہ اس بات کے حق دار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ ایسا ہی ہے ( لیکن تم ہی فیصلہ دو ) انہوں نے عرض کی : اگر میں ان دونوں کے درمیان فیصلہ دے دوں گا ، تو مجھے کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم ان دونوں کے درمیان فیصلہ دو گے اور درست فیصلہ دو گے ، تو تمہیں دس نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے اجتہاد سے کام لیا اور تم نے غلطی کی ، تو تمہیں ایک نیکی ملے گی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں
یہ روایت منقول ہے : ” اگر تم نے درست فیصلہ دیا ، تو تمہیں دگنا اجر ملے گا اور اگر تم نے غلطی کی ، تو تمہیں ایک اجر ملے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت منقول ہے : ” اگر تم نے درست فیصلہ دیا ، تو تمہیں دگنا اجر ملے گا اور اگر تم نے غلطی کی ، تو تمہیں ایک اجر ملے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 7003
عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَصَبْتَ فَلَكَ عَشَرَةُ أُجُورٍ ، وَإِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ أَجْرٌ وَاحِدٌ " . ¤
محمد محی الدین
امام أحمد نے ، اپنی سند کے ساتھ ، جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تا ہم اس میں ان کے یہ الفاظ ہیں : ” اگر تم نے اجتہاد کیا اور درست فیصلہ دیا ، تو تمہیں دس اجر ملیں گے اور اگر تم نے اجتہاد کیا اور غلطی کی ، تو تمہیں ایک اجر ملے گا “ ۔
حدیث نمبر: 7004
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ : جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ خَصْمَانِ يَخْتَصِمَانِ ، فَقَالَ لِي : " اقْضِ بَيْنَهُمَا " . فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي ، أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنِّي ! فَقَالَ : " اقْضِ بَيْنَهُمَا " . فَقُلْتُ : عَلَى مَاذَا ؟ قَالَ : " اجْتَهِدْ ، فَإِنْ أَصَبْتَ فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَإِنْ لَمْ تُصِبْ فَلَكَ حَسَنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ قَبْلَ هَذَا أَنَّ أَحْمَدَ رَوَاهُ بِإِسْنَادٍ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ کے سامنے دو مقابل فریق موجود تھے ، جو مقدمہ لے کے آئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : تم ان دونوں کے درمیان فیصلہ دو ، میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ اس چیز کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان کے درمیان فیصلہ کرو ، میں نے عرض کی : کس بنیاد پر ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اجتہاد کرو ! اگر تم نے درست فیصلہ دیا ، تو تمہیں دس نیکیاں ملیں گی اور اگر تم نے درست فیصلہ نہ دیا ، تو تمہیں ایک نیکی ملے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان اسدی ہے اور وہ متروک ہے ، اس سے پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ امام أحمد نے اسے ایسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان اسدی ہے اور وہ متروک ہے ، اس سے پہلے یہ روایت گزر چکی ہے کہ امام أحمد نے اسے ایسی سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 7005
وَعَنْ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ : فَرَجُلٌ قَضَى فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ الْجَنَّةُ ، وَرَجُلٌ قَضَى فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ الْجَنَّةُ ، وَرَجُلٌ قَضَى بِجَوْرٍ فَفِي النَّارِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ أَبُو دَاوُدَ : " الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ : قَاضٍ فِي الْجَنَّةِ وَقَاضِيَانِ فِي النَّارِ " فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں ، ایک وہ شخص ہے ، جو فیصلہ دیتے ہوئے اجتہاد سے کام لیتا ہے اور درست فیصلہ دیتا ہے ، تو اسے جنت نصیب ہو گی ، اور ایک وہ شخص ہے ، جو فیصلہ دیتے ہوئے اجتہاد سے کام لیتا ہے اور غلطی کر جاتا ہے ، اسے بھی جنت نصیب ہو گی اور ایک وہ شخص ہے ، جو ظلم کے مطابق فیصلہ دیتا ہے ، تو وہ جہنم میں جائے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے ایک صحابی کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : ” قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں ، ایک قسم کا قاضی جنت میں جائے گا اور دو قسم کے قاضی جہنم میں جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔