کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مصرور کا بیان ، نیز مردار میں سے کیا چیز حلال ہے ؟
حدیث نمبر: 6827
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا بِأَرْضٍ يُصِيبُنَا فِيهَا مَخْمَصَةٌ ، فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ ؟ قَالَ : " إِذَا لَمْ تَصْطَبِحُوا أَوْ لَمْ تَغْتَبِقُوا ، وَلَمْ تَحْتَفِئُوا بَقْلًا فَشَأْنُكُمْ بِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا الْمِزِّيُّ قَالَ : لَمْ يَسْمَعْ حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ مِنْ أَبِي وَاقِدٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوواقد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایسی جگہ پر رہتے ہیں ، جہاں ہمیں بھوک لاحق ہو جاتی ہے ، تو مردار میں سے ہمارے لئے کیا چیز حلال ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم کوئی چیز پکا نہ سکو ، اور تمہیں دودھ بھی نہ مل سکے اور تمہیں سبزیاں بھی نہ مل سکیں ، تو پھر تمہیں اسے استعمال کر سکتے ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام مزی نے یہ کہا: ہے کہ حسان بن عطیہ نے سیدنا ابوواقد سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6827
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3315) اخر فى المسند (218/5)»
حدیث نمبر: 6828
وَعَنْ أَبِي وَاقِدٍ : أَنَّ قَوْمًا مَاتَ لَهُمْ بَغْلٌ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شَيْءٌ يَأْكُلُونَهُ فَجَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَخَّصَ لَهُمْ فِيهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوواقد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگوں کا خچر مر گیا ، ان لوگوں کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں تھی ، جسے وہ کھاتے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس ( جانور کا گوشت کھانے ) کی رخصت دی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6828
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح