کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اولاد کے لئے ، یا کسی اور کے لئے ہبہ کرنا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " سَوُّوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ فِي الْعَطِيَّةِ فَلَوْ كُنْتَ مُفَضِّلًا أَحَدًا لَفَضَّلْتُ النِّسَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ وَرَفَعَ مِنْ شَأْنِهِ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ ، وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عطیہ دیتے ہوئے ، اپنی اولاد میں برابری رکھو ، اگر میں نے کسی کو فضیلت ( یعنی ترجیح ) دینی ہوتی ، تو میں خواتین کو فضیلت ( یعنی ترجیح ) دیتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، عبدالملک بن شعیب کہتے ہیں : یہ ثقہ اور مامون ہے ۔ انہوں نے اس کی شان کو بلند قرار دیا ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6759
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11997)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيَّمَا رَجُلٍ نَحَلَ ابْنَهُ نَحْلًا فَبَانَ بِهِ الِابْنُ فَاحْتَاجَ الْأَبُ فَالِابْنُ أَحَقُّ بِهِ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بَانَ بِهِ الِابْنُ فَالْأَبُ أَحَقُّ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کو کوئی عطیہ دے ، اور بیٹا اس چیز کو الگ کر لے ، پھر اگر باپ محتاج ہو جائے ، تو اس چیز کے بارے میں بیٹا زیادہ حق دار ہو گا ، لیکن اگر بیٹے نے اسے الگ نہیں کیا تھا ، تو پھر باپ اس کا زیادہ حق دار ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6760
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِرَجُلٍ : " هَبْ لِي هَذَا الْبَعِيرَ أَوْ بِعْنِيهِ " . قَالَ : هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَوَسَمَهُ سِمَةَ الصَّدَقَةِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا مِنْ غَيْرِ زِيَادَةٍ . ¤ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَلَهُ طُرُقٌ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ . ¤ كِلَاهُمَا مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَلَيْسَ هُوَ الَّذِي رَوَى لَهُ مُسْلِمٌ هَكَذَا عَنْ يَعْلَى ، وَذَاكَ رَوَى عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ غَيْرَ الْحُسَيْنِيِّ تَرْجَمَهُ بِمَنْ رَوَى عَنْهُ وَبِمَنْ سَمِعَ مِنْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : تم یہ اونٹ مجھے ہبہ کر دو ، یا یہ مجھے فروخت کر دو ! اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کا ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر صدقہ کا مخصوص نشان لگوا کر پھر اسے بھجوا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح کسی اضافے کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جس کے مختلف طرق نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آگے آئیں گے ۔ یہ دونوں روایات عبدالرحمن بن عبدالعزیز سے منقول ہیں ، اور یہ وہ شخص نہیں ہے ، جس کے حوالے سے امام مسلم نے اسی طرح سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، وہ شخص زہری کے حوالے سے روایت نقل کرتا ہے ، حسینی کے علاوہ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، انہوں نے اس کے حالات میں ان لوگوں کا ذکر کیا ہے ، جس سے اس نے روایت نقل کی ہے اور جنہوں نے اس سے سماع کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6761
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف