کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کفار کے تحائف کا بیان
حدیث نمبر: 6747
عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ : كَانَ مُحَمَّدٌ أَحَبَّ رَجُلٍ إِلَيَّ مِنَ النَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا تَنَبَّأَ وَخَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِ شَهِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ الْمَوْسِمَ - وَهُوَ كَافِرٌ - فَوَجَدَ حُلَّةً لِذِي يَزَنٍ تُبَاعُ ، فَاشْتَرَاهَا بِخَمْسِينَ دِينَارًا لِيُهْدِيَهَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَدِمَ بِهَا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ، فَأَرَادَهُ عَلَى قَبْضِهَا هَدِيَّةً ؛ فَأَبَى ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : حَسِبْتُهُ قَالَ : " إِنَّا لَا نَقْبَلُ شَيْئًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ أَخَذْنَاهَا بِالثَّمَنِ " . فَأَعْطَيْتُهُ حِينَ أَبَى عَلَيَّ الْهَدِيَّةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ : فَلَبِسَهَا فَرَأَيْتُهَا عَلَيْهِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَلَمْ أَرَ شَيْئًا أَحَسَنَ مِنْهُ فِيهَا يَوْمَئِذٍ . ثُمَّ أَعْطَاهَا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَرَآهَا حَكِيمٌ عَلَى أُسَامَةَ، فَقَالَ : يَا أُسَامَةُ، أَنْتَ تَلْبِسَ حُلَّةَ ذِي يَزَنٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَاللَّهِ لَأَنَا خَيْرٌ مِنْ ذِي يَزَنٍ، وَلَأَبِي خَيْرٌ مِنْ أَبِيهِ . قَالَ حَكِيمٌ : فَانْطَلَقْتُ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ أُعْجِبُهُمْ بِقَوْلِ أُسَامَةَ . ¤ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ ، رِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَلَهُ طَرِيقٌ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ أَحْسَنُ ، وَأَبْيَنُ مِنْ هَذِهِ فِي صِفَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
عراک بن مالک بیان کرتے ہیں : سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے زمانہ جاہلیت میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے ، جب آپ نے نبوت کا اعلان کیا اور آپ مدینہ منورہ تشریف لے گئے ، تو حج کے موقع پر سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ آئے وہ اس وقت کافر تھے ، انہوں نے ذی یزن کا صلہ فروخت ہوتے ہوئے دیکھا ، تو اسے پچاس دینار کے عوض میں خرید لیا تاکہ وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر دے دیں ، پھر وہ اسے ساتھ لے کر مدینہ منورہ آئے ، ان کی یہ خواہش تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تحفے کے طور پر اسے قبول کر لیں ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں کیا ۔ عبیداللہ نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم مشرکین سے کوئی چیز قبول نہیں کرتے ہیں ، البتہ اگر تم چاہو ، تو ہم قیمت کے عوض میں حاصل کر لیتے ہیں ، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا تحفہ قبول کرنے سے انکار کر دیا ، تو وہ میں نے آپ کو دے دیا ( یعنی قیمت کے عوض میں دے دیا ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا ، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اسے پہن کر منبر پر تشریف فرما ہوئے ، اس دن اس جبہ میں آپ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز میں نے نہیں دیکھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو دے دیا ، جب سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے اُسے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو پہنے ہوئے دیکھا ، تو بولے : اے اسامہ : کیا تم ذی یزن کا حلہ پہنے ہوئے ہو ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! میں ذی یزن سے بہتر ہوں ، اور میرے والد اس کے والد سے زیادہ بہتر ہیں ، سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر میں اہل مکہ کی طرف چلا گیا اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے قول کے حوالے سے انہیں بتایا ، تو وہ بڑے حیران ہوئے ۔ اس روایت کی سند عمدہ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کی ایک اور سند بھی ہے ، جو علامات نبوت کے باب میں زیادہ احسن طریقے سے آئے گی ، اور یہاں سے زیادہ واضح ہو گی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کے بارے میں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6747
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3125) اخرجه احمد فى المسند (15323)»
حدیث نمبر: 6748
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ عِيَاضَ بْنَ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيَّ ، ثُمَّ النَّهْشَلِيَّ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَسًا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ فَقَالَ : إِنِّي أَكْرَهُ زَبْدَ الْمُشْرِكِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الزُّبَيْدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عیاض بن حمار مجاشعی ثم نہشلی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گھوڑا تحفے کے طور پر پیش کیا ، یہ ان کے اسلام قبول کرنے سے پہلے کی بات ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں مشرکین کے تحفے کو ناپسند کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلت بن عبدالرحمن زبیدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6748
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (4)»
حدیث نمبر: 6749
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ . قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَدِيَّةٍ فَقَالَ : " إِنَّا لَا نَقْبَلُ هَدِيَّةً لِمُشْرِكٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الْبَزَّارِ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ : أَنَّ عَامِرَ بْنَ مَالِكٍ . وَالطَّرِيقُ الْأُولَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ . قَالَ : وَصَلَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَرْسَلَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ . ¤
محمد محی الدین
عامر بن مالک ، جنہیں ” ملاعب الاسنہ “ کہا: جاتا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں تحفہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ہم کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام بزار کے استاد ابراہیم بن عبداللہ بن جنید کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے ، انہوں نے
یہ روایت عبدالرحمن بن کعب کے حوالے سے نقل کی ہے کہ عامر بن مالک کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ، پہلی روایت کی سند میں یہ بات مذکور ہے کہ یہ عبدالرحمن بن کعب کے حوالے سے عامر بن مالک سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں : عبداللہ بن مبارک نے اسے موصول روایت کے طور پر اور امام عبدالرزاق نے اسے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6749
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1933 موصولا و 1934 مرسلا)»
حدیث نمبر: 6750
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ ابْنَةُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ أَسْعَدَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِسْلٍ عَلَى بِنْتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ بِهَدَايَا ضَبَابٍ وَتُرْمُسٍ وَسَمْنٍ ، فَأَبَتْ أَسْمَاءُ أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . فَأَمَرَهَا أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَجَوَّدَهُ، فَقَالَ : قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْعُزَّى . وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ؛ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قتیلہ بنت عبدالعزیٰ بن اسعد بن مالک بن حسل ، اپنی صاحبزادی سیدہ اسماء بنت ابوبکر کے پاس تحائف لے کے آئیں ، جن میں گوہ ، ترمس ( اناج کی ایک قسم جو کڑوا ہوتا ہے ) اور گھی شامل تھا ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ان کا تحفہ قبول کرنے سے ، اور انہیں اپنے گھر میں داخل کرنے سے انکار کر دیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اللہ تعالی تمہیں ان لوگوں سے نہیں روکتا ہے ، جو تمہارے ساتھ دین کے بارے میں جنگ نہیں کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اس خاتون کا ہدیہ قبول کر لیں اور اسے اپنے گھر میں آنے دیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے اسے عمدہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : قتیلہ بنت عبدالعزیٰ آ گئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6750
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6751
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : أَهْدَى الْمُقَوْقِسُ الْقِبْطِيُّ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَارِيَتَيْنِ إِحْدَاهُمَا [ مَارِيَةُ ] أُمُّ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْأُخْرَى وَهَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ وَهِيَ أُمُّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ ، وَأَهْدَى لَهُ بَغْلَةً فَقَبِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مقوقس قبطی نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کنیزیں تحفے کے طور پر بھیجوائیں ، جن میں سے ایک سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہ تھیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، اور دوسری خاتون کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دے دیا تھا ، جو سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن کی والدہ ہیں ، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خچر بھی تحفے کے طور پر بھجوایا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کر لیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6751
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1953)»
حدیث نمبر: 6752
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ مَلِكَ ذِي يَزَنٍ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَرَّةً مِنَ الْمَنِّ فَقَبِلَهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ذی یزن کے حکمران نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے کے طور پر ” من“ کا مٹکا بھیجا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کر لیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید بن جدعان ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6752
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1936)»
حدیث نمبر: 6753
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَهْدَى الْمُقَوْقِسُ صَاحِبُ الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُكْحُلَةَ عِيدَانٍ شَامِيَّةً وَمِرْآةً وَمِشْطًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اسکندریہ کے حکمران مقوقس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” عیدان “ کی بنی ہوئی شامی سرمہ دانی ، شیشہ اور کنگھی بھجوائی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6753
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 6754
وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ الرَّبِيعِ الْكَاتِبِ قَالَ : أَهْدَى الْمُقَوْقِسُ مَلِكُ الْقِبْطِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَدِيَّةً وَبَغْلَةً شَهْبَاءَ ، فَقَبِلَهَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْكِسَائِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حنظلہ بن ربیع کاتب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قبط کے حکمران مقوقس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحائف اور شہباء نامی خچر بھجوایا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی کسائی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6754
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3497)»
حدیث نمبر: 6755
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَهْدَى الْمُقَوْقِسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدَحَ قَوَارِيرَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مقوقس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شیشہ کا پیالہ تحفے کے طور پر بھیجوایا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6755
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6756
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : أَهْدَى الْأُكَيْدِرُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَرَّةً مِنْ مَنٍّ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الصَّلَاةِ مَرَّ عَلَى الْقَوْمِ ، فَجَعَلَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ قِطْعَةً ، وَأَعْطَى جَابِرًا قِطْعَةً ، ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ إِلَيْهِ فَأَعْطَاهُ قِطْعَةً أُخْرَى فَقَالَ : إِنَّكَ قَدْ أَعْطَيْتَنِي مَرَّةً ؟ فَقَالَ : " هَذِهِ لَبِنَاتِ عَبْدِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اکیدر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” من“ کا گھڑا بھیجا تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے اور آپ کا گزر لوگوں کے پاس سے ہوا تو آپ نے ان میں سے ہر ایک شخص کو کچھ نہ کچھ دیا ، آپ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو ایک حصہ دیا ، پھر جب آپ واپس ان کے پاس سے گزرے ، تو آپ نے انہیں ایک اور حصہ دیا ، انہوں نے عرض کی : آپ مجھے پہلے ایک مرتبہ عطا کر چکے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ( تمہارے والد ) عبداللہ کی صاحبزادیوں کے لئے ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6756
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف