حدیث نمبر: 6531
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الزُّبَيْرَ حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَ فَرَسًا مِنْ ضِئْضِئِهَا تُبَاعُ فَنُهِيَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک گھوڑا اللہ کی راہ میں دیا پھر انہوں نے اس گھوڑے کی اولاد میں سے ایک گھوڑا پایا جو فروخت ہو رہا تھا تو انہیں اس کو خریدنے سے منع کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 6532
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : أُعْطِيتُ نَاقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَ مِنْ نَسْلِهَا ، أَوْ مِنْ ضِئْضِئِهَا فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " دَعْهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ هِيَ وَأَوْلَادُهَا جَمِيعًا فِي مِيزَانِكَ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي شِرَائِهِ لَا شِرَاءِ شَيْءٍ مِنْ نَسْلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اللہ کی راہ میں ایک اونٹنی دی گئی میں نے اس اونٹنی کی نسل میں سے ایک جانور خریدنے کا اردہ کیا ( یہاں ایک لفظ مختلف ہے لیکن مفہوم یہی ہے ) میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اسے رہنے دو قیامت کے دن یہ اور اس کی ساری اولاد تمہارے میزان میں آئیں گی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو صدقے والے جانور کو خریدنے کے بارے میں ہے اس کی نسل میں سے کسی چیز کو خریدنے کے بارے میں نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 6533
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَ : تَصَدَّقْتُ بِفَرَسٍ [ لِي ] ، فَرَأَيْتُ ابْنَتَهَا تُقَامُ فِي السُّوقِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا هُوَ فِي الْأَصْلِ مِنْ غَيْرِ زِيَادَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنا گھوڑا صدقہ کر دیا پھر میں نے اس کی بیٹی کو بازار میں کھڑی دیکھا میں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت اصل میں اسی طرح مذکور ہے اس میں مزید کوئی الفاظ نہیں ہیں ۔
یہ روایت اصل میں اسی طرح مذکور ہے اس میں مزید کوئی الفاظ نہیں ہیں ۔
حدیث نمبر: 6534
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ أَيْضًا قَالَ : حَمَلْتُ عَلَى فَرَسِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَإِنِّي رَأَيْتُهُ بَعْدُ يُبَاعُ فِي السُّوقِ بِثَمَنٍ يَسِيرٍ مَهْزُولٍ مَضْرُوبٍ ، وَقَدْ عَرَفْتُ عُرْفَهُ ، قَالَ : فَذَكَرَهُ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوَّلِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ . وَإِسْنَادُ الثَّانِي مُرْسَلٌ وَكَذَلِكَ إِسْنَادُ الْأَوَّلِ مُرْسَلٌ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا بعد میں ، میں نے اسے بازار میں تھوڑی قیمت کے عوض میں فروخت ہوتے ہوئے دیکھا وہ کمزور اور بے حال ہو چکا تھا میں نے اس کی پیشانی کو پہچان لیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں پہلی روایت کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ شعبہ اور ثوری نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ دوسری روایت کی سند ” مرسل “ ہے ۔ اسی طرح پہلی روایت کی سند بھی ” مرسل “ ہے ۔