کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: تصریہ والے جانور کو فروخت کرنا اور جانور کو باندھ کر مارنا
حدیث نمبر: 6525
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُحَفَّلَاتِ وَقَالَ : " مَنِ ابْتَاعَهُنَّ فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِذَا حَلَبَهُنَّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محفلہ کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے ، جو شخص انہیں خرید لیتا ہے تو اسے ( سودا ختم کرنے ) کا اختیار ہو گا جبکہ اس نے ان کا دودھ دوہ لیا ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6526
وَعَنْ أَبِي لَيْلَى أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اشْتَرَى نَاقَةً مُصَرَّاةً ، فَإِنْ كَرِهَهَا فَلْيَرُدَّهَا ، وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابولیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص نے تصریہ والی اونٹنی خرید لی ہو ، تو اگر وہ اس کو ناپسند کرے تو اسے واپس کر دے اور کھجور کا ایک صاع بھی دیدی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6527
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ لِلْبَيْعِ ، فَمَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً ، فَإِنَّهُ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ : إِنْ رَدَّهَا رَدَّهَا بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا : " رَدَّ مِثْلَيْ أَوْ مِثْلَ لَبَنِهَا قَمْحًا " بَدَلَ التَّمْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” فروخت کرنے کے لئے اونٹنیوں اور بکریوں کا تصریہ نہ کرو ! جو شخص تصریہ والی بکری خرید لے ، تو اسے دو میں سے ایک چیز کا اختیار ہو گا ( یعنی اگر وہ چاہے ، تو سودا ختم کر سکتا ہے ) اگر وہ اس کو واپس کرتا ہے ، تو کھجور کے ایک صاع کے ساتھ واپس کرے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے تا ہم ان دونوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ اس کے دودھ جتنی یا اس کی دگنا گندم واپس کرے گا “ یہاں کھجور کی جگہ لفظ گندم منتقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6528
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُرْسِلُوا الْإِبِلَ هَمَلًا صَرُّوهَا صَرًّا ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَرْضَعُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ قُلْتُ : قَدْ مَرَّ فِي بَابِ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنَ الْبُيُوعِ مَا يَتَضَمَّنُ النَّهْيَ عَنْ بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اونٹوں کو چرواہے کے بغیر کھلا نہ چھوڑو ! ان کے تھن باندھ کے رکھو ، کیونکہ شیطان ان کا دودھ پی لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن موسیٰ انصاری ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جن سودوں سے منع کیا گیا ہے ان سے متعلق باب میں یہ روایت گزر چکی ہے ، جو تصریہ والے جانور کو فروخت کرنے کی ممانعت والا مضمون رکھتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن موسیٰ انصاری ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جن سودوں سے منع کیا گیا ہے ان سے متعلق باب میں یہ روایت گزر چکی ہے ، جو تصریہ والے جانور کو فروخت کرنے کی ممانعت والا مضمون رکھتی ہے ۔