عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَرْفَعُهُ قَالَ : " لَا تَسْتَغِلُّوا الْأَمَةَ إِلَّا أَمَةً صَنَاعَ الْيَدَيْنِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَالِكُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّهْشَلِيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَالِكُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّهْشَلِيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” کنیز سے کمائی نہ کرواؤ البتہ اس کنیز کا معاملہ مختلف ہے ، جو کوئی دست کاری جانتی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مالک بن سلیمان نہشلی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مالک بن سلیمان نہشلی ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهَا عَمَلٌ وَاصِبٌ يُعْرَفُ .
قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ .
قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنیز کی کمائی سے منع کیا ہے البتہ اگر اسے کوئی فن آتا ہو جو مستقل ہو اور معروف ہو ( تو اس کا حکم مختلف ہو گا ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔