کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کون سی شرطیں جائز ہیں اور کون سی شرطیں جائز نہیں ہیں ؟
حدیث نمبر: 6392
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمِنْحَةُ مَرْدُودَةٌ وَالنَّاسُ عَلَى شُرُوطِهِمْ مَا وَافَقَ الْحَقَّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عطیہ کے طور پر ( عارضی استعمال کے لئے ) دی گئی چیز واپس کی جائے گی اور لوگوں کو ان کی ( آپس میں طے کردہ ) شرائط کی پابندی کرنی ہو گی جبکہ وہ حق کے مطابق ہوں“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بیلمانی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6392
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1296)»
حدیث نمبر: 6393
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ ، وَإِنْ كَانَ مِائَةَ شَرْطٍ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر وہ شرط جس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل شمار ہو گی خواہ وہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں“ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6393
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1295)»
حدیث نمبر: 6394
وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، مَا كَانَ مِنْ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ مَرْدُودٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ وَلَهُ إِسْنَادٌ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ولاء کا حق آزاد کرنے والے کو ملے گا “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرائط عائد کر دیتے ہیں جن کی اجازت ، اللہ کی کتاب میں نہیں ہے ، جو بھی شرط ایسی ہو کہ اس کی اجازت اللہ کی کتاب میں نہ ہو تو وہ مردود شمار ہو گی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔ ایک روایت کی ایک ” مرسل “ سند بھی ہے ، جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6394
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10869 مختصرا و 11744 مطولا)»