حدیث نمبر: 6265
عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ زَرَعَ زَرْعًا فَأَكَلَ مِنْهُ الطَّيْرُ أَوِ الْعَافِيَةُ كَانَ لَهُ صَدَقَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
خلاد بن سائب نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ” جو شخص کوئی پودا لگاتا ہے اور اس میں سے کوئی پرندہ یا رزق کا طلبگار کوئی بھی ( انسان یا جانور وغیرہ ) کچھ کھاتا ہے ، تو اس شخص کو صدقہ ( کا اجر و ثواب ) حاصل ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 6266
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ قَدْرَ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرِ ذَلِكَ الْغَرْسِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْلَيْثِيُّ وَثَّقَهُ مَالِكٌ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کوئی پودا ( یا درخت ) لگاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اتنا ہی اجر نوٹ کرتا ہے جتنا اس درخت میں سے پھل نکلتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے ، جسے امام مالک اور سعید بن منصور نے ثقہ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے ، جسے امام مالک اور سعید بن منصور نے ثقہ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 6267
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِهِ ، وَهُوَ يَغْرِسُ غَرْسًا بِدِمَشْقَ فَقَالَ لَهُ : أَتَفْعَلُ هَذَا ، وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ غَرَسَ غَرْسًا لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ آدَمِيٌّ ، وَلَا خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَفِيهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص ان کے پاس سے گزرا وہ اس وقت دمشق میں پودے لگا رہے تھے اس شخص نے کہا: آپ ایسا کر رہے ہیں ؟ جبکہ آپ اللہ کے رسول کے صحابی ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : تم میرے بارے میں جلد بازی سے کام نہ لو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص پودا ( یا درخت ) لگاتا ہے ، تو اس میں سے جو بھی آدمی یا اللہ کی مخلوق میں سے جو بھی مخلوق کچھ کھاتی ہے ، تو یہ چیز اس شخص کے حق میں صدقہ شمار ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اس کے راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اس کے راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 6268
وَعَنْ فَنَّجَ قَالَ : كُنْتُ أَعْمَلُ فِي الدَّيْنَبَاذِ وَأُعَالِجُ فِيهِ ، فَقَدِمَ يَعْلَى بْنُ أُمَيَّةَ أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ ، وَجَاءَ مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَنِي رَجُلٌ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَهُ ، وَأَنَا فِي الزَّرْعِ أَصْرِفُ الْمَاءَ فِي الزَّرْعِ ، وَمَعَهُ فِي كُمِّهِ جَوْزٌ ، فَجَلَسَ عَلَى سَاقِيَةٍ مِنَ الْمَاءِ ، وَهُوَ يَكْسِرُ مِنْ ذَلِكَ الْجَوْزِ ، وَيَأْكُلُ ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَى فَنَّجَ ، فَقَالَ : يَا فَارِسِيُّ هَلُمَّ قَالَ : فَدَنَوْتُ مِنْهُ . قَالَ الرَّجُلُ لِفَنَّجَ : أَتَضْمَنُ غَرْسَ هَذَا الْجَوْزِ عَلَى هَذَا الْمَاءِ ؟ فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ : مَا يَنْفَعُنِي ذَلِكَ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ : " مَنْ نَصَبَ شَجَرَةً فَصَبَرَ عَلَى حِفْظِهَا وَالْقِيَامِ عَلَيْهَا حَتَّى تُثْمِرَ كَانَ لَهُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُصَابُ مِنْ ثَمَرَتِهَا صَدَقَةٌ عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : [ نَعَمْ ، قَالَ ] فَنَّجُ : فَأَنَا أَضْمَنُهَا فَقَالَ : فَمِنْهَا جَوْزُ الدَّيْنَبَاذِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ فَنَّجُ ؛ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَلَمْ يَجْرَحْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
فنج نامی صاحب بیان کرتے ہیں : میں ( یمن کے ایک شہر ) ” دینباذ “ میں کام کرتا تھا اور دیکھ بھال کیا کرتا تھا سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ یمن کے گورنر بن کر تشریف لائے ان کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد بھی تھے جو لوگ ان کے ساتھ آئے تھے ان میں سے ایک صاحب میرے پاس آئے میں اس وقت کھیت میں موجود تھا اور کھیت کو پانی دے رہا تھا ان صاحب کے پاس ان کی جیب میں بادام تھے ، وہ پانی کی نالی کے پاس بیٹھ گئے ، وہ ان باداموں کو توڑتے جا رہے تھے اور کھا رہے تھے پھر انہوں نے فنج کو اشارہ کیا اور کہا: اے فارسی ادھر آؤ راوی کہتے ہیں : میں ان کے پاس گیا ان صاحب نے فنج سے کہا: کیا تم اس بات کے ضامن بنتے ہو کہ اس پانی پر بادام کے درخت لگاؤ فنج نے ان سے دریافت کیا : مجھے اس کا کیا فائدہ ہو گا ؟ ان صاحب نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان دو کانوں کے ذریعے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص درخت لگاتا ہے اور پھر اس کی حفاظت میں صبر سے کام لیتا ہے اور پھر اس کی دیکھ بھال کرتا ہے یہاں تک کہ وہ درخت پھل دینے لگتا ہے ، تو اس کے پھل میں سے جو بھی چیز کوئی حاصل کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس شخص کو اتنا صدقے کا ثواب نصیب ہوتا ہے “ ۔ فنج نے ان سے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! فنج نے کہا: میں اس کا ضامن ہوں راوی کہتے ہیں : تو دینباز کے باداموں کا آغاز وہاں سے ہوا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فنج ہے ، جس کا ذکر ابن حاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کی توثیق بھی نہیں کی اور اس پر جرح بھی نہیں کی اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فنج ہے ، جس کا ذکر ابن حاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کی توثیق بھی نہیں کی اور اس پر جرح بھی نہیں کی اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6269
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ سُوَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ زَرْعَ أَحَدِكُمْ مِنَ الْعَوَافِي إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ بِهِ أَجْرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ لَكِنَّهُ كَثِيرُ الْخَطَإِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن سوید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم میں سے کسی ایک کے کھیت میں سے جو بھی چیز کوئی بھی رزق کا طلبگار حاصل کرتا ہے ( خواہ وہ انسان ہو یا جانور ہو ) تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس شخص کے لئے اجر نوٹ کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن موسیٰ تیمی ہے وہ ثقہ ہے لیکن بکثرت غلطیاں کرتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن موسیٰ تیمی ہے وہ ثقہ ہے لیکن بکثرت غلطیاں کرتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6270
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الرَّاسِخَاتُ فِي الْوَحْلِ الْمُطْعَمَاتُ فِي الْمَحَلِّ ، مَنْ بَاعَهَا ، فَإِنَّ ثَمَنَهَا بِمَنْزِلَةِ الرَّمَادِ عَلَى شَاهِقَةٍ هَبَّتْ لَهُ رِيحٌ فَقَذَفَتْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ فَضَالَةُ بْنُ حُصَيْنٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ عَلِيٍّ فِي الطِّبِّ فِي بَابِ الرُّطَبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عبدالرحمن انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیچڑ میں مضبوط ، اور قحط کے زمانے میں کھائی جانے والی چیز کھجوریں ہیں ) جو شخص انہیں فروخت کرتا ہے ، تو ان کی قیمت بلندی پر موجود راکھ کی مانند ہے ، جسے ہوا پھیلا دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فضالہ بن حسین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث جو طب کے بارے میں ہے وہ طب سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فضالہ بن حسین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث جو طب کے بارے میں ہے وہ طب سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
حدیث نمبر: 6271
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّخْلِ ؟ قَالَ : " تِلْكَ الرَّاسِخَاتُ فِي الْوَحْلِ الْمُطْعَمَاتُ فِي الْمَحَلِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ مَيْمُونٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجور کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : وہ کیچڑ میں پختہ ہوتی ہیں اور قحط کے زمانے میں کھائی جانے والی چیز ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلی بن میمون ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلی بن میمون ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 6272
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " النَّخْلُ وَالشَّجَرُ بَرَكَةٌ عَلَى أَهْلِهِ ، وَعَلَى عَقِبِهِمْ مِنْ بَعْدِهِمْ إِذَا كَانُوا لِلَّهِ شَاكِرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کھجور کا درخت اور عام درخت اپنے مالکان کے لئے اور ان کے بعد ان کے پسماندگان کے لئے برکت ہوتے ہیں جبکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کا شکر کرنے والے ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6273
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : أَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّهُ الْعَبَّاسَ يَأْمُرُ بَنِيهِ أَنْ يَحْرُثُوا الْقَضْبَ ، فَإِنَّهُ يَنْفِي الْفَقْرَ . وَالْقَضْبُ : الرُّطَبَةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ بَعْدَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ اپنے صاحبزادوں کو یہ حکم دیں کہ وہ کھجوریں لگائیں کیونکہ یہ غربت کو ختم کرتی ہیں ( راوی کہتے ہیں : ) لفظ ” قضب “ سے مراد کھجوریں ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کی حدیث اس کے بعد آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کی حدیث اس کے بعد آئے گی ۔