کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: کمائی کرنا ، تجارت کرنا اور اس سے محبت رکھنا اور رزق کے حصول کی ترغیب دینا
حدیث نمبر: 6231
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُؤْمِنَ الْمُحْتَرِفَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ ، کوئی ہنر جاننے والے مومن کو پسند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 6232
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : لَقَدْ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَاجِرًا إِلَى بُصْرَى لَمْ يَمْنَعْ أَبَا بَكْرٍ الضَّنَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شُحُّهُ عَلَى نَصِيبِهِ مِنَ الشُّخُوصِ لِلتِّجَارَةِ ، وَذَلِكَ كَانَ إِعْجَابُهُمْ كَسْبَ التِّجَارَةِ وَحُبَّهُمْ لِلتِّجَارَةِ ، وَلَمْ يَمْنَعْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا بَكْرٍ مِنَ الشُّخُوصِ فِي تِجَارَتِهِ بِحُبِّهِ صُحْبَتَهُ ، وَضَنِّهِ بِأَبِي بَكْرٍ ، فَقَدْ كَانَ بِصُحْبَتِهِ مُعْجَبًا لِاسْتِحْسَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلتِّجَارَةِ وَإِعْجَابِهِ بِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تجارت کے سلسلے میں بصری تشریف لے گئے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کی شدید خواہش بھی تجارت کے لئے ان کے جانے میں رکاوٹ نہیں بنی اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو تجارت کے ذریعے کمائی کرنا پسند تھا اور وہ لوگ تجارت سے محبت کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو تجارت کے سلسلے میں جانے سے نہیں منع کیا حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ کو پسند کرتے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ساتھ رکھنا چاہتے تھے ، اس کی وجہ یہی تھی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تجارت کو مستحسن سمجھتے تھے اور اسے پسند کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے معجم کبیر کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6233
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ عُرْفُطَةُ بْنُ نَهِيكٍ التَّمِيمِيُّ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي وَأَهْلَ بَيْتِي مَرْزُوقُونَ مِنْ هَذَا الصَّيْدِ ، وَلَنَا فِيهِ قَسْمٌ ، وَبَرَكَةٌ ، وَهُوَ مَشْغَلَةٌ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ ، وَبِنَا إِلَيْهِ حَاجَةٌ أَفَتُحِلُّهُ أَمْ تُحَرِّمُهُ ؟ فَقَالَ : " أُحِلِّهُ لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَحَلَّهُ ، نِعْمَ الْعَمَلُ، وَاللَّهُ أَوْلَى بِالْعُذْرِ ، قَدْ كَانَتْ قَبْلِي لِلَّهِ رُسُلٌ كُلُّهُمْ يَصْطَادُ وَيَطْلُبُ الصَّيْدَ ، وَيَكْفِيكَ مِنَ الصَّلَاةِ فِي جَمَاعَةٍ إِذَا غِبْتَ عَنْهَا فِي طَلَبِ الرِّزْقِ حُبُّكَ لِلْجَمَاعَةِ ، وَأَهْلِهَا ، وَحُبُّكَ ذِكْرَ اللَّهِ ، وَأَهْلَهُ . وَابْتَغِ عَلَى نَفْسِكَ ، وَعِيَالِكَ حَلَالًا ، فَإِنَّ ذَلِكَ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - ، وَاعْلَمْ أَنَّ عَوْنَ اللَّهِ فِي صَالِحِ التِّجَارَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے سیدنا عرفطہ بن نہیک تمیمی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اور میرے گھر والے شکار کے ذریعے رزق حاصل کرتے ہیں ۔ اس میں اسی میں ہمارا حصہ ہے اور اس میں ہمارا رزق ہے لیکن یہ چیز اللہ کے ذکر سے اور باجماعت نماز ادا کرنے سے روک دیتی ہے اور ہمیں اس کی حاجت بھی ہے ، تو کیا آپ اسے حلال قرار دیتے ہیں یا اسے حرام قرار دیتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اسے حلال قرار دیتا ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے حلال قرار دیا ہے یہ اچھا کام ہے اور اللہ تعالٰی عذر قبول کرنے کے زیادہ لائق ہے مجھ سے پہلے کے اللہ تعالیٰ کے کچھ رسول تھے اور وہ سب شکار کیا کرتے تھے اور شکار کا پیچھا کیا کرتے تھے باجماعت نماز کے حوالے سے تمہارے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جب تم رزق کے حصول کے سلسلے میں اس میں شریک نہ ہو سکو تو تمہیں جماعت اور اہل جماعت کے ساتھ محبت رکھنی چاہیے تمہیں اللہ کا ذکر اور اللہ کا ذکر کرنے والے کے ساتھ محبت رکھنی چاہیے تمہیں اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال کے لئے حلال رزق تلاش کرنا چاہیے کیونکہ یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے متراف ہے اور تم یہ بات جان لو کہ اللہ تعالٰی کی مدد نیک تجارت میں ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر بن نمیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر بن نمیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 6234
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَذِنَ اللَّهُ فِي التِّجَارَةِ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ لَاتَّجَرُوا فِي الْبَزِّ وَالْعِطْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَيُّوبَ السَّكُونِيُّ الْحِمْصِيُّ . قَالَ الْعُقَيْلِيُّ : لَا يُتَابَعُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر اللہ تعالیٰ اہل جنت کو تجارت کی اجازت دیدے تو وہ کپڑے اور عطر کی تجارت کریں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ایوب سکونی حمصی ہے ۔ عقیلی بیان کرتے ہیں : اس کی نقل کردہ اس حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ایوب سکونی حمصی ہے ۔ عقیلی بیان کرتے ہیں : اس کی نقل کردہ اس حدیث کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 6235
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنِّي لَأَكْرَهُ أَنْ أَرَى الرَّجُلَ فَارِغًا لَا فِي عَمَلِ دُنْيَا ، وَلَا آخِرَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ میں کسی فارغ شخص کو دیکھوں جو نہ دنیا کا کوئی کام کر رہا ہو اور نہ آخرت کا کوئی کام کر رہا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 6236
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ قَامَتِ السَّاعَةُ ، وَفِي يَدِ أَحَدِكُمْ فَسِيلَةٌ فَلْيَغْرِسْهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ أَثْبَاتٌ ثِقَاتٌ ، لَعَلَّهُ أَرَادَ بِقِيَامِ السَّاعَةِ : أَمَارَتَهَا ، فَإِنَّهُ قَدْ وَرَدَ : " إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمْ بِالدَّجَّالِ ، وَفِي يَدِهِ فَسِيلَةٌ فَلْيَغْرِزْهَا ، فَإِنَّ لِلنَّاسِ عَيْشًا بَعْدُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر قیامت قائم ہو جائے اور تم میں سے کسی ایک کے ہاتھ میں کھجور کے درخت کا پودا ہو ، تو اسے اس کو بو دینا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کے رجال ثبت اور ثقہ ہیں شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت قائم ہونے سے مراد اس کی نشانیاں ظاہر ہونا لیا ہے کیونکہ ایک روایت میں یہ بات مذکور ہے ۔ ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص دجال کے بارے میں سنے اور اس کے ہاتھ میں کھجور کے درخت کا پودا ہو ، تو اسے اس کو بو دینا چاہیے ، کیونکہ لوگوں نے اس کے بعد بھی زندہ رہنا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کے رجال ثبت اور ثقہ ہیں شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت قائم ہونے سے مراد اس کی نشانیاں ظاہر ہونا لیا ہے کیونکہ ایک روایت میں یہ بات مذکور ہے ۔ ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص دجال کے بارے میں سنے اور اس کے ہاتھ میں کھجور کے درخت کا پودا ہو ، تو اسے اس کو بو دینا چاہیے ، کیونکہ لوگوں نے اس کے بعد بھی زندہ رہنا ہے “ ۔
حدیث نمبر: 6237
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اطْلُبُوا الرِّزْقَ فِي خَفَايَا الْأَرْضِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِكْرِمَةَ . ضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زمین کے دور دراز کے گوشوں میں رزق تلاش کرو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن عبداللہ بن عکرمہ ہے ، جسے ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن عبداللہ بن عکرمہ ہے ، جسے ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 6238
وَعَنِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَمْسَى كَالًّا مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ أَمْسَى مَغْفُورًا لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اپنے ہاتھوں کے ذریعے کام کر کے شام کرتا ہے ، تو وہ ایسی حالت میں شام کرتا ہے کہ اس کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 6239
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ مِنَ الذُّنُوبِ ذُنُوبًا لَا تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ ، وَلَا الصِّيَامُ ، وَلَا الْحَجُّ ، وَلَا الْعُمْرَةُ " . قَالُوا : فَمَا يُكَفِّرُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْهُمُومُ فِي طَلَبِ الْمَعِيشَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ الْمِصْرِيُّ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : حَدَّثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ بِخَبَرٍ مَوْضُوعٍ . ¤ قُلْتُ : وَهَذَا فِيمَا رَوَاهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” گناہوں میں سے کچھ گناہ ایسے ہیں جن کا کفارہ نہ نماز ہو سکتی ہے نہ روزہ ہوتا ہے اور نہ حج ہوتا ہے اور نہ عمرہ ہوتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُن کا کفارہ کیا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رزق کے حصول کے لئے پریشانیاں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلام مصری ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : اس نے یحیی کے حوالے سے ایک جھوٹی حدیث روایت کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ، اُن روایات میں سے ایک ہے جو اس نے یحیی بن بکیر کے حوالے سے نقل کی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلام مصری ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : اس نے یحیی کے حوالے سے ایک جھوٹی حدیث روایت کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ، اُن روایات میں سے ایک ہے جو اس نے یحیی بن بکیر کے حوالے سے نقل کی ہیں ۔