کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جس شخص کو بلایا جائے اور وہ اپنے ساتھیوں کی شمولیت کی شرط عائد کر دے
حدیث نمبر: 6169
عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ : صَنَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَعَامًا فَأَتَيْتُهُ ، وَهُوَ فِي نَفَرٍ جَالِسٍ ، فَقُمْتُ حِيَالَهُ ، فَأَوْمَأْتُ إِلَيْهِ فَأَوْمَأَ إِلَيَّ : " وَهَؤُلَاءِ ؟ " . قُلْتُ : لَا . فَسَكَتَ ، فَقُمْتُ مَكَانِي فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيَّ أَوْمَأْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " وَهَؤُلَاءِ ؟ " . قُلْتُ : لَا . مَرَّتَيْنِ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَوْ ثَلَاثًا ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، وَهَؤُلَاءِ . وَإِنَّمَا كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا صَنَعْتُهُ لَهُ [ فَجَاءُوا ] مَعَهُ ، فَأَكَلُوا حِسْبَةً ، قَالَ : وَفَضَلَ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ ضُرَيْبَ بْنَ نُفَيْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ صُهَيْبٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کیا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ کچھ افراد کے درمیان تشریف فرما تھے میں آپ کے سامنے آ کے کھڑا ہو گیا میں نے آپ کو اشارہ کیا ، تو آپ نے بھی میری طرف اشارہ کیا کہ یہ لوگ بھی ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے میں کھڑا رہا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو میں نے آپ کو اشارہ کیا آپ نے اشارے سے فرمایا : یہ لوگ بھی ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! ایسا دو یا شاید تین مرتبہ پھر میں نے کہا: ٹھیک ہے یہ لوگ بھی ( آ جائیں ) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھوڑی سی چیز تیار کی تھی وہ سب حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آ گئے اور ان سب حضرات نے سیر ہو کے کھایا اور پھر بھی اس کھانے میں سے بچ گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ ضریب بن نفیر نامی راوی نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6169
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7321)»