حدیث نمبر: 5660
عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا ، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک عمرہ دوسرے عمرے تک درمیان میں کیے جانے والے گناہوں اور خطاؤں کا کفارہ بن جاتا ہے اور مبرور حج کی جزا صرف جنت ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5660
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 5661
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ كُلُّ ذَلِكَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ يُلَبِّي حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین عمرے کیے تھے یہ سب ذی القعدہ کے مہینے میں کیے تھے اور آپ حجر اسود کا استلام کرنے تک مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5661
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6686,6685)»
حدیث نمبر: 5662
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي عُمْرَتِهِ بَلَغَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا تَقُولُ : مَا يَتَبَاعَثُونَ مِنَ الْعَجَفِ . فَقَالَ أَصْحَابُهُ : لَوِ انْتَحَرْنَا مِنْ ظَهْرِنَا فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَحَسَوْنَا مِنْ مَرَقِهِ لَأَصْبَحْنَا غَدًا حِينَ نَدْخُلُ عَلَى الْقَوْمِ وَبِنَا جَمَامَةٌ ؟ قَالَ : " لَا تَفْعَلُوا وَلَكِنِ اجْمَعُوا لِي مِنْ أَزْوَادِكُمْ " . فَجَمَعُوا لَهُ وَبَسَطُوا الْأَنْطَاعَ فَأَكَلُوا حَتَّى تَوَلَّوْا وَحَثَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي جِرَابِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَقَعَدَتْ قُرَيْشٌ نَحْوَ الْحِجْرِ فَاضْطَبَعَ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ : " لَا يَرَى الْقَوْمُ فِيكُمْ غَمِيزَةً " . فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ ثُمَّ دَخَلَ حَتَّى إِذَا تَغَيَّبَ بِالرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ مَشَى إِلَى الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ فَقَالَتْ قُرَيْشٌ : مَا يَرْضَوْنَ بِالْمَشْيِ أَمَا إِنَّهُمْ لَيَنْقُزُونَ نَقْزَ الظِّبَاءِ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ فَكَانَتْ سُنَّةً . قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ : فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ ذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کے دوران مرظہران کے مقام پر پڑاؤ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو یہ بات پتہ چلی کہ قریش یہ کہتے ہیں : یہ لوگ کمزوری کے باعث اٹھ ہی نہیں سکیں گے آپ کے اصحاب نے عرض کی : اگر ہم اپنی سواری کے جانوروں کو قربان کریں اور ان کا گوشت کھائیں اور ان کا شوربہ پی لیں ، تو اگلے دن جب ہم ان لوگوں کے سامنے آئیں گے تو ہمارے جسم چست ہوں گے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ایسا نہ کرو بلکہ اپنا زادراہ میرے سامنے اکٹھا کرو ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے اکٹھا کیا انہوں نے ایک دستر خوان بچھا دیا اور کھانا کھایا اور واپس چلے گئے اور ان میں سے ہر ایک شخص نے اپنے تھیلے کو بھی بھر لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ مکرمہ ) تشریف لائے یہاں تک کہ آپ مسجد میں داخل ہوئے قریش حطیم والی طرف بیٹھے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کو اضطباع کے طور پر لپیٹا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ لوگ تمہارے اندر کمزوری نہ دیکھیں پھر آپ نے رکن کا استلام کیا پھر آپ داخل ہوئے یہاں تک کہ جب آپ رکن یمانی کے پیچھے چھپ گئے تو آپ عام رفتار سے چل کے گئے قریش نے کہا: یہ چلنے پر راضی نہیں ہیں ۔ یہ تو ہرنوں کی طرح دوڑ رہے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چکروں میں ایسا کیا ، تو یہ چیز سنت بن گئی ۔ ابوطفیل نامی راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے یہ بات بتائی ہے حجتہ الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5662
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 5663
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ كُلُّهَا فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِحْدَاهُنَّ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَالْأُخْرَى فِي صُلْحِ قُرَيْشٍ ، وَالْأُخْرَى مَرْجِعَهُ مِنَ الطَّائِفِ زَمَنَ حُنَيْنٍ مِنَ الْجِعْرَانَةِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین عمرے کیے تھے یہ سب ذی القعدہ کے مہینے میں کیے تھے ان میں سے ایک حدیبیہ کے زمانے میں کیا تھا دوسرا قریش کے ساتھ صلح کے موقع پر کیا تھا اور تیسرا طائف سے آپ کی واپسی پر ہوا تھا جو غزوہ حنین کے موقع پر آپ نے جعرانہ سے کیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5663
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1149)»
حدیث نمبر: 5664
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا قَبْلَ حَجِّهِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبَ اخْتُلِفَ فِي سَمَاعِهِ مِنْ عُمَرَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج سے پہلے ذی قعدہ کے مہینے میں تین عمرے کیے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ سعید بن مسیب کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5664
درجۂ حدیث محدثین: رجالہ ثقات ولکنہ منقطع
حدیث نمبر: 5665
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمَرِ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ : " يَا أَخِي أَشْرِكْنَا فِي صَالِحِ دُعَائِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور ارشاد فرمایا : اے میرے بھائی اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں بھی شریک رکھنا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے -
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5665
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (5229)»
حدیث نمبر: 5666
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ : اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے سے پہلے عمرہ کیا تھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5666
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1660) اخرجه احمد فى السد (297/4)»
حدیث نمبر: 5667
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي بَعْضِ عُمَرِهِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ ، مَا قَطَعَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے میں آپ کے ساتھ تھا آپ نے تلبیہ پڑھنا اس وقت تک ” موقوف “ نہیں کیا جب تک حجر اسود کا استلام نہیں کر لیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5667
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1152)»