حدیث نمبر: 5659
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَّرَ عَلَى الْمَرْوَةِ بِمِشْقَصٍ وَقَالَ : " دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَضَعَّفَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَزَادَ : " لَا صَرُورَةَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے مروہ ( پہاڑی ) پر چوڑے تیر کے ذریعے بال چھوٹے کروائے اور ارشاد فرمایا : قیامت کے دن تک کے لئے عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے ضعیف قرار دیا ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں :
” صرورۃ “ نہیں ہو گا “ ( یعنی یہ نہیں ہو گا کہ کوئی شخص حج یا عمر ہی نہ کرے ، یا یہ مراد ہے کہ کوئی شخص حرم کی کسی حرمت کو پامال کرے اور پھر یہ عذر پیش کرے کہ میں تو پہلی مرتبہ آیا ہوں مجھے یہاں کے آداب و احکام کا پتہ نہیں ہے ، تو اس کا یہ عذر قابل قبول نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے ضعیف قرار دیا ہے اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں :
” صرورۃ “ نہیں ہو گا “ ( یعنی یہ نہیں ہو گا کہ کوئی شخص حج یا عمر ہی نہ کرے ، یا یہ مراد ہے کہ کوئی شخص حرم کی کسی حرمت کو پامال کرے اور پھر یہ عذر پیش کرے کہ میں تو پہلی مرتبہ آیا ہوں مجھے یہاں کے آداب و احکام کا پتہ نہیں ہے ، تو اس کا یہ عذر قابل قبول نہیں ہو گا “ ۔