کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: منیٰ کے دنوں میں تکبیر کہنا
حدیث نمبر: 5614
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ أَبْرَهَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ مِنًى يُكَبِّرُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شریح بن ابرہہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایام تشریق میں تکبیر کہتے ہوئے دیکھا یہاں تک کہ آپ منٰی سے نکل گئے آپ ہر نماز کے بعد تکبیر کہتے تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5614
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7229)»
حدیث نمبر: 5615
وَفِي رِوَايَةٍ : كَبَّرَ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ مِنًى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ شَرْقِيُّ بْنُ الْقُطَامِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے ایام تشریق میں قربانی کے دن ظہر کی نماز کے بعد سے تکبیر کہنا شروع کی اور اس وقت تک کہتے رہے جب تک آپ منی سے تشریف نہیں لے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی شرقی بن قطامی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5615
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7230)»
حدیث نمبر: 5616
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : حَدَّثَنَا أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ صَلَاةَ الْغَدَاةِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ ، وَيَقْطَعُ صَلَاةَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ النَّحْرِ ، وَيُكَبِّرُ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ . قَالَ : فَكَانَ يُكَبِّرُ : اللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا إِسْحَاقَ لَمْ يُسَمِّ مَنْ حَدَّثَهُ . ¤
محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہمیں یہ بات بیان کی ہے کہ وہ عرفہ کے دن صبح کی نماز کے بعد تکبیر کہتے تھے اور قربانی کے دن عصر کی نماز کے بعد کہنا ” موقوف “ کرتے تھے جب وہ عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے تو تکبیر کہتے تھے راوی بیان کرتے ہیں : وہ تکبیر میں یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُ اكْبَرَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَاللَّهُ اکبر وَالْحَمْدُ اللَّهِ» ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابواسحاق نامی راوی نے یہ بات بیان نہیں کی کہ انہیں کس نے
یہ روایت بیان کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5616
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف