کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کمزور افراد کو مزدلفہ سے پہلے روانہ کر دینا
حدیث نمبر: 5570
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَدَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ قَدَّمَ مَعَ ضَعَفَةِ أَهْلِهِ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ ، قَالَتْ : فَرَمَيْتُ الْجَمْرَةَ بِلَيْلٍ ، ثُمَّ مَضَيْتُ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّيْتُ بِهَا الصُّبْحَ ، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى مِنًى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ قَالَ ابْنُ الْقَطَّانِ : لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ میں سے جن کمزور افراد کو مزدلفہ کی رات پہلے روانہ کر دیا تھا میں بھی ان میں شامل تھی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے رات میں ہی جمرات کو کنکریاں مار دیں پھر میں مکہ آ گئی اور وہاں میں نے صبح کی نماز ادا کی پھر میں واپس منیٰ چلی گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوداؤد ہے ابن قطان کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5570
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (268/23)»