کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: کس جانور کو محرم ( یعنی احرام والا شخص ) قتل کر سکتا ہے ؟
حدیث نمبر: 5406
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَمْسٌ كُلُّهُنَّ فَاسِقَةٌ يَقْتُلُهُمُ الْمُحْرِمُ وَيُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ : الْفَأْرَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْحَيَّةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى - وَجَعَلَ بَدَلَ " الْحَيَّةِ " : " الْحِدَأَةَ " . وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِبَعْضِهِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” پانچ جانور ایسے ہیں ان میں سے ہر ایک فاسق ہے انہیں محرم شخص قتل کر سکتا ہے ، اور انہیں حرم کی حدود میں قتل کیا جا سکتا ہے چوہا ، بچھو ، سانپ ، باؤلا کتا اور کو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے سانپ کی جگہ چیل کا ذکر کیا ہے ۔ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے سانپ کی جگہ چیل کا ذکر کیا ہے ۔ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 5407
وَعَنْ وَبَرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الذِّئْبِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ هُوَ فِي الصَّحِيحِ . وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
وبرہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیڑیے کو مارنے کا حکم دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک حدیث میں نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک حدیث میں نقل کی ہے ، یہ ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسے ” موقوف “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 5408
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ إِذْ ضَرَبَ شَيْئًا فِي صَلَاتِهِ ; فَإِذَا هِيَ عَقْرَبٌ ضَرَبَهَا فَقَتَلَهَا ، وَأَمَرَ بِقَتْلِ الْعَقْرَبِ وَالْحَيَّةِ وَالْفَأْرَةِ وَالْحِدَأَةِ لِلْمُحْرِمِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ نَافِعٍ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے اسی دوران آپ نے کسی چیز کو مارا وہ ایک بچھو تھا جسے آپ نے مار کے قتل کر دیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچھو سانپ چوہے ، اور چیل کو مار دینے کا حکم احرام والے شخص کو دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن نافع ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس پر نہ جرح کی ہے ، اور نہ اس کی توثیق کی ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن نافع ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس پر نہ جرح کی ہے ، اور نہ اس کی توثیق کی ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5409
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْتُلُوا الْوَزَغَ وَلَوْ فِي جَوْفِ الْكَعْبَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم چھپکلی کو مار دو ! خواہ وہ خانہ کعبہ کے اندر ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیس کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن قیس کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔