حدیث نمبر: 5326
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهِيَ شَاكِيَةٌ فَقَالَ : " أَلَا تَخْرُجِينَ مَعَنَا فِي سَفَرِنَا هَذَا ؟ " . وَهُوَ يُرِيدُ حَجَّةَ الْوَدَاعِ . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي شَاكِيَةٌ ، وَأَخَافُ أَنْ تَحْبِسَنِي شَكْوَايَ . قَالَ : " فَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَقُولِي : اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَدْ صَرَّحَ ابْنُ إِسْحَاقَ بِالسَّمَاعِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے جو بیمار تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس سفر میں ہمارے ساتھ روانہ نہیں ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حجتہ الوداع کا ارادہ تھا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بیمار ہوں اور مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں بیماری کی وجہ سے سفر نہیں کر سکوں گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم حج کا احرام باندھ لو اور تم یہ کہو : اے اللہ ! جہاں تو نے مجھے روک لیا ( یعنی میں آگے جانے کے قابل نہ رہی ) وہیں میں احرام کھول دوں گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابن اسحاق نے اس میں سماع کی صراحت کی ہے اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابن اسحاق نے اس میں سماع کی صراحت کی ہے اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 5327
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِضُبَاعَةَ : " حُجِّي ، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يَهِمُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ضباعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم حج کرو اور یہ شرط رکھو : جہاں تو نے مجھے روک لیا وہیں میں احرام کھول دوں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ، جسے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ” ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ وہم کا شکار ہو جاتا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے ، جسے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ” ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ وہم کا شکار ہو جاتا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 5328
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَرَادَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ الْحَجَّ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُجِّي وَقُولِي : مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، وَهُوَ مُتَكَلَّمٌ فِيهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَتَمَادِيهِ عَلَى الْخَطَأِ وَاحْتِقَارِهِ الْعُلَمَاءَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہ نے حج کا ارادہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم حج کر لو ( یعنی احرام باندھ لو ) اور یہ کہہ دو کہ جہاں تم نے مجھے روک دیا وہیں میں احرام کھول دوں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے اس کے بارے میں اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے اور مستقل غلطی کرنے اور علماء کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم ہے اس کے بارے میں اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے اور مستقل غلطی کرنے اور علماء کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔