کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سفر کے بارے میں رہنمائی کرنا
حدیث نمبر: 5310
عَنْ حُسَيْلِ بْنِ خَارِجَةَ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي جَلَبٍ أَبِيعُهُ ، فَأُتِيَ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَجْعَلُ لَكَ عِشْرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ عَلَى أَنْ تَدُلَّ أَصْحَابِي عَلَى طَرِيقِ خَيْبَرَ " . فَفَعَلْتُ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ وَفَتَحَهَا جِئْتُ فَأَعْطَانِي الْعِشْرِينَ ، ثُمَّ أَسْلَمْتُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حسیل بن خارجہ اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک سامان فروخت کرنے کے سلسلے میں ، مدینہ منورہ آیا مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں کھجور کے بیس صاع دوں گا اگر تم میرے ساتھیوں کی رہنمائی خیبر کے راستے کی طرف کر دیتے ہو راوی کہتے ہیں : میں نے ایسا ہی کیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر تشریف لائے اور آپ نے اسے فتح کر لیا تو میں آیا تو آپ نے مجھے بیس صاع دیے پھر میں نے اسلام قبول کر لیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5310
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «. اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3568)»
حدیث نمبر: 5311
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِإِبْلِيسَ مَرَدَةٌ مِنَ الشَّيَاطِينِ يَقُولُ لَهُمْ : عَلَيْكُمْ بِالْحَاجِّ وَالْمُجَاهِدِ فَأَضِلُّوهُمْ عَنِ السَّبِيلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ هُرْمُزٍ أَبُو هُرْمُزٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ابلیس کے کچھ سرکش شیاطین ہوتے ہیں ابلیس ان سے کہتا ہے : تم پر لازم ہے کہ حاجی اور مجاہد کے پاس جاؤ اور انہیں راستے سے بھٹکا دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع بن ہرمز ابوہرمز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5311
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1368)»
حدیث نمبر: 5312
وَعَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ : سَأَلْتُ جُنْدُبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ : هَلْ كُنْتُمْ تُسَخِّرُونَ الْعَجَمَ ؟ قَالَ : كُنَّا نُسَخِّرُهُمْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَى قَرْيَةٍ يَدُلُّونَا عَلَى الطَّرِيقِ ، ثُمَّ نُخَلِّيهِمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعمران بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ لوگ عجمی لوگوں کو پکڑ لیتے تھے انہوں نے فرمایا : ہم انہیں ایک بستی سے دوسری بستی تک پکڑتے تھے تاکہ وہ راستے کے بارے میں ہماری رہنمائی کر دیں پھر ہم انہیں چھوڑ دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5312
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح