کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: رخصتی کے وقت اور واپسی کے وقت حاجی کو کیا کہا جائے ؟
حدیث نمبر: 5285
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : جَاءَ غُلَامٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : إِنِّي أُرِيدُ هَذِهِ النَّاحِيَةَ لِلْحَجِّ . قَالَ : فَمَشَى مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ فَقَالَ : " يَا غُلَامُ ، زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى ، وَوَجَّهَكَ فِي الْخَيْرِ ، وَكَفَاكَ الْهَمَّ " . فَلَمَّا رَجَعَ سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ فَقَالَ : " يَا غُلَامُ ، قَبِلَ اللَّهُ حَجَّكَ ، وَكَفَّرَ ذَنْبَكَ ، وَأَخْلَفَ نَفَقَتَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ سَالِمٍ ، وَيُقَالُ : مُسْلِمُ بْنُ سَالِمٍ الْجُهَنِيُّ ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میں حج کے لئے جانے لگا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ چلتے ہوئے گئے آپ نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : اے لڑکے اللہ تعالیٰ تمہیں تقویٰ کا زاد سفر عطا کرے اور تمہارا سامنا بھلائی سے کرے اور پریشانی کے حوالے سے تمہاری کفایت کرے راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ شخص واپس آیا تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارا حج قبول کرے تمہارے گناہ ختم کرے اور جو تم نے خرچ کیا ہے اس کی جگہ تمہیں مزید عطا کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ ” صحیح “ میں اس کا ابتدائی حصہ منقول ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن سالم ہے ایک قول کے مطابق اس کا نام مسلم بن سالم جہنی ہے ۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحج / حدیث: 5285
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف