کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: جو شخص کسی قوم کے ہاں مہمان ٹھہرے اور وہ روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہو
❮
❯
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَلْبَسَهُ اللَّهُ نِعْمَةً فَلْيُكْثِرْ مِنَ الْحَمْدِ لِلَّهِ ، وَمَنْ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ فَلْيَسْتَغْفِرِ اللَّهَ ، وَمَنْ أَبْطَأَ رِزْقُهُ فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَلَا يَصُومَنَّ إِلَّا بِإِذْنِهِمْ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَهُوَ طَوِيلٌ ، وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ تَمِيمٍ ; ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ نعمت عطا کرے تو اسے بکثرت «الحمدلله» کہنا چاہیے جس شخص کے گناہ زیادہ ہوں ، اسے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنی چاہیے جس شخص کا رزق تاخیر سے آتا ہو اسے کثرت کے ساتھ «لا حول ولا قوة الا باالله» پڑھنا چاہیے اور جو شخص کسی کے ہاں مہمان ٹھہرے تو وہ ان کی اجازت کے بغیر ہرگز ( نفلی ) روزہ نہ رکھے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ یہ ایک طویل روایت ہے ، جو مکمل روایت کے طور پر آگے چل کر نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا اس روایت کی سند میں ایک راوی یونس بن تمیم ہے ، جسے امام ذہبی نے اس حدیث کے حوالے سے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5221
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (965) ، أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6551، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 926»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ فَأَتَيْتُهَا بِطَعَامٍ فَقَالَتْ : إِنِّي صَائِمَةٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمِنْ قَضَاءِ رَمَضَانَ ؟ " . قَالَتْ : لَا . قَالَ : " فَأَفْطِرِي " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ .
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک خاتون میرے ہاں آئی میں اس کے پاس کھانا لے کے آئی تو اس نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا رمضان کی قضاء کا روزہ ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تم روزہ ختم کر دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5222
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف, قال الهيثمي:رواه الطبراني في الأوسط، وفيه إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع، وهو ضعيف (3/198)
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 1222»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَأَرَادَ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَوْمُهُ ذَلِكَ مِنْ رَمَضَانَ ، أَوْ قَضَاءَ رَمَضَانَ ، أَوْ نَذْرًا " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے مسلمان بھائی کے ہاں جائے اور وہ بھائی یہ چاہتا ہو کہ یہ روزہ ختم کر دے تو آدمی کو روزہ ختم کر دینا چاہیے البتہ اگر وہ روزہ رمضان کا ہو ، یا رمضان کی قضاء کا ہو ، یا نذر کا روزہ ہو ، تو حکم مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5223
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13406) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 13406»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَصْحَبَهُ فِي سَفَرٍ اشْتَرَطَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَصْحَبَنَا عَلَى بَعِيرٍ خِلَالٍ ، وَلَا يُنَازِعَنَا الْأَذَانَ ، وَلَا يَصُومَنَّ إِلَّا بِإِذْنِنَا .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب کوئی شخص سفر میں ان کے ساتھ جانا چاہتا تھا ، تو وہ اس پر یہ شرط عائد کر دیتے تھے کہ تم ہمارے ساتھ کسی کمزور اونٹ پر نہیں رہو گے اور اذان کے بارے میں ہمارے ساتھ جھگڑا نہیں کرو گے اور ہماری اجازت کے بغیر روزہ نہیں رکھو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5224
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13052)»