کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: رمضان کے قیام ( یعنی نوافل کا بیان )
حدیث نمبر: 5015
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . ¤ [ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ] وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے رمضان میں قیام کرتا ہے اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5015
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (967)»
حدیث نمبر: 5016
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى الْقِيَامِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : كَانَ يُرَغِّبُ النَّاسَ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ رمضان میں قیام کرنے کی ترغیب دیتے تھے تاہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں قیام کے لئے جمع نہیں کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں اس کا یہ حصہ منقول ہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں قیام کی ترغیب دیتے تھے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5016
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 5017
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبِيتَ مَعَكَ اللَّيْلَةَ فَأُصَلِّيَ بِصَلَاتِكَ ؟ قَالَ : " لَا تَسْتَطِيعُ " . فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ ، فَسُتِرَ بِثَوْبٍ وَأَنَا مُحَوَّلٌ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ فَعَلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَقُمْتُ مَعَهُ ، حَتَّى جَعَلْتُ أَضْرِبُ بِرَأْسِي الْجُدْرَانَ مِنْ طُولِ صَلَاتِهِ ، ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ قَالَ : " أَفَعَلْتَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " إِنَّكَ يَا بِلَالُ لَتُؤَذِّنُ إِذَا كَانَ الصُّبْحُ سَاطِعًا فِي السَّمَاءِ ، وَلَيْسَ ذَاكَ الصُّبْحَ ، إِنَّمَا الصُّبْحُ هَكَذَا مُعْتَرِضًا " . ثُمَّ دَعَا بِسَحُورِهِ فَتَسَحَّرَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ; وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : میں یہ چاہتا ہوں کہ میں آج رات آپ کے ساتھ گزاروں اور آپ کی نماز کی اقتداء میں نماز ادا کروں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کی استطاعت نہیں رکھو گے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے آپ نے غسل کیا آپ کے لئے ایک کپڑے کے ذریعے پردہ کر دیا گیا میں نے آپ کی طرف سے منہ پھیر لیا آپ نے غسل کر لیا پھر میں نے بھی ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ آپ کی نماز کی طوالت کی وجہ سے میں اپنا سر دیوار پر مارنے لگا پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ کو نماز کے لئے بلانے کے لئے آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے کر لیا انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! تم اس وقت اذان دے دیتے ہو جب ابھی صبح صادق آسمان میں لمبائی کی سمت میں پھیلی ہوئی ہوتی ہے یہ صبح صادق نہیں ہوتی صبح صادق اس طرح چوڑائی کی سمت میں پھیلتی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کا کھانا منگوایا اور سحری کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5017
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (171/5)»
حدیث نمبر: 5018
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بیس رکعات ( تراویح ) اور وتر ادا کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ابراہیم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5018
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12102 ) اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (802)»
حدیث نمبر: 5019
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُصَلِّي بِنَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ; فَنَنْصَرِفُ بِلَيْلٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
زید بن وہب بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رمضان کے مہینے میں نماز پڑھایا کرتے تھے تو ہم رات میں ہی نماز پڑھ کر واپس چلے جاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5019
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9588)»
حدیث نمبر: 5020
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ ، فَلَمَّا كَانَتِ الْقَابِلَةُ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا ، فَلَمْ يَزَلْ فِيهِ حَتَّى أَصْبَحْنَا ، ثُمَّ دَخَلْنَا فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ وَرَجَوْنَا أَنْ تُصَلِّيَ بِنَا ؟ قَالَ : " إِنِّي خَشِيتُ - أَوْ كَرِهْتُ - أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ; وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رمضان کے مہینے میں آٹھ رکعات پڑھائیں اور وتر ادا کیے جب اگلی رات آئی تو ہم لوگ مسجد میں اکھٹے ہوئے ہمیں یہ امید تھی کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائیں گے ، لیکن آپ مسلسل گھر میں رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر آپ ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم مسجد میں اکٹھے ہوئے تھے ، اور ہمیں یہ امید تھی کہ آپ ہمیں نماز پڑھائیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ اندیشہ ہوا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ یہ تم پر لازم قرار دے دی جائے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن جاریہ ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5020
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (525) اخرجه ابو يعلي فى المسند (1802)»
حدیث نمبر: 5021
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ فِي رَمَضَانَ ، فَجَاءَ قَوْمٌ وَصَلَّى ، وَكَانَ يُخَفِّفُ ، ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ فَيُصَلِّي ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُخَفِّفُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُمْنَا خَلْفَكَ اللَّيْلَةَ ، فَكُنْتَ تَدْخُلُ بَيْتَكَ ثُمَّ تَخْرُجُ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ مِنْ أَجْلِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں رات کے وقت نماز پڑھایا کرتے تھے کچھ لوگ آئے انہوں نے نماز ادا کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر نماز پڑھائی پھر آپ اپنے گھر چلے گئے اور آپ تنہا نماز ادا کرتے رہے پھر آپ نکلے اور آپ نے مختصر نماز پڑھائی اگلے دن صبح لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کے پیچھے گزشتہ رات نماز ادا کی تھی آپ گھر چلے گئے تھے پھر آپ تشریف لائے تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے ایسا تم لوگوں کی وجہ سے کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5021
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح