کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: صدقہ کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 4603
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : " تَمَامُ الْعَمَلِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَسْأَلُكَ عَنْ فَضْلِ الصَّدَقَةِ ؟ قَالَ : " الصَّدَقَةُ شَيْءٌ عَجَبٌ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَرَكْتَ أَفْضَلَ عَمَلٍ فِي نَفْسِي أَوْ خَيْرَهُ ؟ قَالَ : " مَا هُوَ ؟ " . قُلْتُ : الصَّوْمُ ؟ قَالَ : " خَيْرٌ وَلَيْسَ هُنَاكَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَيُّ الصَّدَقَةِ ؟ - وَذَكَرَ كَلِمَةً - قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَقْدِرْ أَفْعَلُ ؟ قَالَ : " بِفَضْلِ طَعَامِكَ " . قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : " بِشِقِّ تَمْرَةٍ " . قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : " بِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " . قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : "دَعِ النَّاسَ مِنَ الشَّرِّ ; فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقْ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ " . قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : " تُرِيدُ أَنْ لَا تَدَعَ فِيكَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا " . ¤ قُلْتُ : عِنْدَ النَّسَائِيِّ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْعَوَّامُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! نماز کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : یہ عمل کی تکمیل ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے صدقہ کی فضیلت کے بارے میں دریافت کرتا ہوں آپ نے ارشاد فرمایا : صدقہ پسندیدہ چیز ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اس عمل کو ترک کر دیا جو میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ اور سب سے زیادہ فضیلت والا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کون سا ہے میں نے عرض کی : روزہ ، آپ نے فرمایا : وہ بہتر ہے ، لیکن وہ مراد نہیں ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے اس کے بعد راوی نے ایک کلمہ ذکر کیا تھا ۔ میں نے عرض کی : اگر میں اس کی قدرت نہ رکھوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اضافی ( چیز ) صدقہ کر دو میں نے عرض کی : اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نصف کھجور کر دو میں نے عرض کی : اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پاکیزہ بات کہہ دو میں نے عرض کی : اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں کو شر سے بچا کے رکھو کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ ہو گا جسے تم اپنی ذات پر کرو گے میں نے عرض کی : اگر میں یہ بھی نہ کر سکوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ چاہتے ہو کہ تم اپنے اندر کوئی بھی بھلائی نہ رہنے دو ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عوام بن جویریہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4603
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4604
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّدَقَةُ تَسُدُّ سَبْعِينَ بَابًا مِنَ السُّوءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صدقہ خرابی کے ستر دروازے بند کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حماد بن شعیب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4604
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير ((4402)»
حدیث نمبر: 4605
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ نَفَرًا مَرُّوا عَلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ : يَمُوتُ أَحَدُ هَؤُلَاءِ الْيَوْمَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . فَمَضَوْا ثُمَّ رَجَعُوا عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ وَمَعَهُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ فَقَالَ : ضَعُوا ، فَقَالَ لِلَّذِي قَالَ يَمُوتُ الْيَوْمَ : حِلَّ حَطَبَكَ . فَحَلَّهُ فَإِذَا فِيهِ حَيَّةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَ : مَا عَمِلْتَ الْيَوْمَ ؟ قَالَ : مَا عَمِلْتُ شَيْئًا ! قَالَ : انْظُرْ مَا عَمِلْتَ . قَالَ : مَا عَمِلْتُ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُ كَانَ مَعِي فِي يَدِي فِلْقَةٌ مِنْ خُبْزٍ فَمَرَّ بِي مِسْكِينٌ فَسَأَلَنِي فَأَعْطَيْتُهُ بَعْضَهَا ! فَقَالَ : بِهَا دُفِعَ عَنْكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : کچھ لوگ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کے پاس سے گزرے تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : ان لوگوں میں سے کوئی ایک آج مر جائے گا اگر اللہ نے چاہا وہ لوگ چلے گئے شام کو جب وہ لوگ واپس آئے ، تو ان کے ساتھ لکڑیوں کے گٹھے تھے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : تم لوگ یہ رکھ دو پھر آپ نے اس شخص سے دریافت کیا : جس کے بارے میں یہ فرمایا تھا کہ آج یہ مر جائے گا تم اپنا گٹھا کھولو اس نے اسے کھولا تو اس میں ایک سیاہ سانپ موجود تھا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا : تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم نے آج کیا عمل کیا ہے اس نے جواب دیا : میں نے کوئی عمل نہیں کیا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا : تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم نے آج کیا عمل کیا ہے اس نے کہا: میں نے کوئی عمل نہیں کیا البتہ میرے پاس ایک روٹی کا ٹکڑا موجود تھا ایک مسکین میرے پاس سے گزرا اس نے مجھ سے مانگا ، تو میں نے اس کا کچھ اسے دے دیا تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : اس کی وجہ سے تم سے ( موت کو ) پرے کر دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن ابوشیبہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4605
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4606
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَاكِرُوا بِالصَّدَقَةِ ; فَإِنَّ الْبَلَاءَ لَا يَتَخَطَّاهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صبح کے وقت صدقہ کر دیا کرو کیونکہ بلا اسے پار کر کے نہیں آ سکتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن عبداللہ بن محمد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4606
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4607
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي فِي الْمَنَاقِبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” صدقہ پروردگار کے غضب کو بجھا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، جو آگے چل کر مناقب سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا اس روایت کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4607
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 4608
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حُسْنُ الْمَلَكَةِ نَمَاءٌ ، وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ ، وَالْبِرُّ زِيَادَةٌ فِي الْعُمُرِ ، وَالصَّدَقَةُ تَقِي مِيتَةَ السُّوءِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ : " حُسْنُ الْمَلَكَةِ نَمَاءٌ ، وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ " . فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ جو ان افراد میں سے ایک ہیں جنہیں حدیبیہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اپنے زیر ملکیت لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا بڑھوتری کا باعث ہے برے اخلاق نحوست کا باعث ہیں اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے ، اور صدقہ بری موت سے بچاتا ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس میں سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” زیر ملکیت کے ساتھ اچھا سلوک بڑھوتری کا باعث ہے ، اور برے اخلاق نحوست کا باعث ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4608
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (445)»
حدیث نمبر: 4609
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ صَدَقَةَ الْمُسْلِمِ تَزِيدُ فِي الْعُمُرِ ، وَتَمْنَعُ مِيتَةَ السُّوءِ ، وَيُذْهِبُ اللَّهُ بِهَا الْكِبْرَ ، وَالْفَقْرَ ، وَالْفَخْرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمِزِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسلمان کا صدقہ کرنا عمر میں اضافہ کرتا ہے ، اور بری موت کو روکتا ہے اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ تکبر ، غربت اور فخر کو ختم کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ مزی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4609
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 4610
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ أَبْوَابِ الْبِرِّ الصَّدَقَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نیکی کا سب سے بہتر دروازہ صدقہ کرنا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4610
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12834)»
حدیث نمبر: 4611
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ قَالَ : " مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ [قَطُّ] ، وَمَا مَدَّ عَبْدٌ يَدَهُ بِصَدَقَةٍ إِلَّا أُلْقِيَتْ فِي يَدِ اللَّهِ قَبْلَ أَنْ تَقَعَ فِي يَدِ السَّائِلِ ، وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ لَهُ عَنْهَا غِنًى إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ” مرفوع“ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صدقہ مال میں کوئی کمی نہیں کرتا اور جب بھی بندہ اپنا ہاتھ صدقہ دینے کے لئے بڑھاتا ہے ، تو وہ صدقہ مانگنے والے کے ہاتھ میں گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ڈال دیا جاتا ہے ، اور جو بندہ خوشحال ہونے کے باوجود مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے اللہ تعالی اس پر غربت کا دروازہ کھول دیتا ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4611
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12150)»
حدیث نمبر: 4612
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كُلُّ امْرِئٍ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ حَتَّى يُفْصَلَ بَيْنَ النَّاسِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ( قیامت کے دن ) ہر شخص اپنے صدقے کے سائے میں ہو گا ، اور اس وقت تک رہے گا جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4612
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1766) اخرجه احمد فى المسند (147/4 ، 148)»
حدیث نمبر: 4613
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ظِلُّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَدَقَتُهُ " . وَكَانَ يَزِيدُ لَا يُخْطِئُهُ يَوْمٌ إِلَّا تَصَدَّقَ فِيهِ بِشَيْءٍ وَلَوْ كَعْكَةً ، أَوْ بَصَلَةً ، أَوْ كَذَا . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ . وَرَوَى أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بَعْضَهُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک صحابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن مؤمن کا سایہ اس کا صدقہ ہو گا “ ۔ راوی کہتے ہیں : یزید نامی راوی روزانہ صدقہ کیا کرتے تھے خواہ وہ کوئی روٹی کا ٹکڑا ہو خواہ وہ پیاز ہو ، یا کوئی اور چیز ہو ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں ان میں سے کچھ نقل کی ہیں امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4613
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (280/17)»
حدیث نمبر: 4614
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ عَنْ أَهْلِهَا حَرَّ الْقُبُورِ ، وَإِنَّمَا يَسْتَظِلُّ الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي ظِلِّ صَدَقَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صدقہ اپنے اہل ( یعنی صدقہ کرنے والے ) کی قبر کی تپش کو بجھا دیتا ہے ، اور قیامت کے دن مؤمن اپنے صدقے کے سائے میں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4614
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (286/17)»
حدیث نمبر: 4615
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَصَدَّقُ بِالْكِسْرَةِ تَرْبُو عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ أُحُدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بندہ ایک ٹکڑا صدقہ کرتا ہے ، جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بڑھتا رہتا ہے یہاں تک کہ اُحد پہاڑ کی مانند ہو جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4615
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4616
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ وَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَلِعَائِشَةَ حَدِيثٌ يَأْتِي بَعْدَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ صدقہ قبول کرتا ہے ، اور اسے تم میں سے کسی ایک کے لئے یوں بڑھاتا ہے ، جس طرح کوئی ایک شخص اپنے جانور کے بچے کو یا جانور کے اس بچے کو جس کا دودھ چھڑایا گیا ہو پالتا پوستا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایک اور حدیث بھی منقول ہے ، جو اس کے بعد آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4616
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4617
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفْتِنَا عَنِ الصَّدَقَةِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّهَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ لِمَنِ احْتَسَبَهَا يَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں صدقہ کرنے کے بارے میں حکم بیان کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ جہنم سے رکاوٹ ہے اس شخص کے لئے جو اللہ تعالی کی رضا کے حصول کے لئے اس کے بارے میں ثواب کی امید رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4617
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (36 ، 35/25)»
حدیث نمبر: 4618
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : إِنَّ الصَّدَقَةَ تَقَعُ فِي يَدِ اللَّهِ تَعَالَى قَبْلَ أَنْ تَقَعَ فِي يَدِ السَّائِلِ . ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : ( وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ ) الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَتَادَةَ الْمُحَارِبِيُّ ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : صدقہ سائل کے ہاتھ میں جانے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں جاتا ہے پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” وہی وہ ذات ہے ، جو اپنے بندوں سے توبہ کو قبول کرتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن قتادہ محاربی ہے کسی نے اسے ” ضعیف “ قرار نہیں دیا اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4618
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8571)»