کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ( نبی اکرم ﷺ کا ) اپنے اس فرمان کے ذریعے صدقہ کی ترغیب دینا ’’ جہنم سے بچنے کی کوشش کرو خواہ نصف کھجور کے ذریعے ہو “ اور اس کی مانند دیگر فرامین
حدیث نمبر: 4580
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيَتَّقِ أَحَدُكُمْ وَجْهَهُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کسی ایک کو جہنم سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرنی چاہیے خواہ نصف کھجور کے ذریعے ہی ہو“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4580
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (4265 ، 3679)»
حدیث نمبر: 4581
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہنم سے بچنے کی کوشش کرو خواہ نصف کھجور کے ذریعے ہی ہو “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4581
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (137/6 ) اخرجه الامام البزار فى المسند (936)»
حدیث نمبر: 4582
وَفِي رِوَايَةٍ : " يَا عَائِشَةُ ، اسْتَتِرِي مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ; فَإِنَّهَا تَسُدُّ مَعَ الْجَائِعِ مَسَدَّهَا مِنَ الشَّبْعَانِ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَهُ ، وَفِيهِ أَبُو هِلَالٍ ، وَفِيهِ بَعْضُ كَلَامٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” اے عائشہ ! جہنم سے بچنے کی کوشش کرو خواہ نصف کھجور کے ذریعے ہی ہو کیونکہ یہ بھوکے کی بھی وہی ضرورت پوری کرتی ہے ، جو سیر شخص کی پوری کرتی ہے “ ۔
یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں امام بزار نے اس میں سے کچھ نقل کی ہیں اس کی سند میں ایک راوی ابوہلال ہے ، جس کے بارے میں کچھ کلام کیا گیا ہے ویسے وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4582
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (79/6)»
حدیث نمبر: 4583
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَعْوَادِ الْمِنْبَرِ يَقُولُ : " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَإِنَّهَا تُقِيمُ الْعَوَجَ ، وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ ، وَتَقَعُ مِنَ الْجَائِعِ مَوْقِعَهَا مِنَ الشَّبْعَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَسَاوِسِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر کی لکڑیوں پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جہنم سے بچنے کی کوشش کرو ! خواہ نصف کھجور کے ذریعے ہو کیونکہ یہ ٹیڑھے کو سیدھا کرتی ہے ، اور بری موت کو پرے کرتی ہے ، اور بھوکے کی وہی ضرورت پوری کرتی ہے ، جو سیر ہونے والے کی ( پوری ہوتی ہے ) “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل وساوسی ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4583
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (85) اخرجه الامام البزار فى المسند، (933)»
حدیث نمبر: 4584
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو بَحْرٍ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جہنم سے بچنے کی کوشش کرو خواہ نصف کھجور کے ذریعے ہو“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند ایک راوی ابوبحر بکراوی ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4584
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (2707)»
حدیث نمبر: 4585
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہنم سے بچنے کی کوشش کرو خواہ نصف کھجور کے ذریعے ہو“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4585
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4586
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جہنم سے بچو خواہ نصف کھجور کے ذریعے ہو“ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن جابر ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔ ابن عدی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4586
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام البزار فى المسند (935)»
حدیث نمبر: 4587
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اتَّقُوا النَّارَ ، وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : يُكْتَبُ حَدِيثُهُ وَلَا يُحْتَجُّ بِهِ ، وَحَسَّنَ الْبَزَّارُ حَدِيثَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جہنم سے بچو خواہ نصف کھجور کے ذریعے ہو“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن جمحی ہے ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، لیکن اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا امام بزار نے اس کی حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4587
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام البزار فى المسند (937)»
حدیث نمبر: 4588
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِنَحْوِ حَدِيثٍ تَقَدَّمَ وَزَادَ : " يَا عَائِشَةُ ، اشْتَرِي نَفْسَكِ مِنَ اللَّهِ ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ . يَا عَائِشَةُ ، لَا يَرْجِعَنَّ مِنْ عِنْدِكِ سَائِلٌ وَلَوْ بِظِلْفٍ مُحْرَقٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس کی مانند حدیث نقل کی ہے ، جو پہلے گزر چکی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اے عائشہ ! تم اللہ تعالیٰ سے اپنی ذات کا سودا کر لو میں اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا خواہ تم نصف کھجور کے ذریعے ( اپنی ذات کا سودا کرو ) اے عائشہ ! مانگنے والا تمہارے پاس سے ( خالی ہاتھ ) واپس نہیں جانا چاہیے خواہ وہ جلا ہوا پایا ہی لے کر جائے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شعیب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4588
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4589
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ فَضَالُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! جہنم سے بچو خواہ نصف کھجور کے ذریعے ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4589
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 4590
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَصَدَّقُوا ; فَإِنَّ الصَّدَقَةَ فِكَاكُكُمْ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ صدقہ کرو کیونکہ صدقہ جہنم سے تمہارے بچاؤ کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4590
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4591
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُجَمِّرٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُحَدِّثُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَائِشَةَ : " احْتَجِبِي مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِاخْتِلَاطِهِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : انہوں نے عبداللہ بن مجمر جن کا تعلق اہل یمن سے ہے انہیں یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ” جہنم سے بچو خواہ نصف کھجور کے ذریعے ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن ابومریم ہے ، اور وہ اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4591
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «، 4591 اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (303/18)»
حدیث نمبر: 4592
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ النَّارِ حِجَابَةً وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اپنے اور جہنم کے درمیان رکاوٹ ڈال دو خواہ نصف کھجور کے ذریعے ہی ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4592
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «، 4591 اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (303/18)»
حدیث نمبر: 4593
وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ : دَهَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مَنْ قِيسٍ مُجْتَابِي النِّمَارِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ ، فَسَاءَهُ مَا رَأَى مِنْ حَالِهِمْ ، فَصَلَّى ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى ، وَجَلَسَ فِي مَجْلِسِهِ ، فَأَمَرَ بِالصَّدَقَةِ وَحَضَّ عَلَيْهَا فَقَالَ : " تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ ، تَصَدَّقَ مِنْ دِرْهَمِهِ ، تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ ، تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ " ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ مِنْ ذَهَبٍ فِي يَدِهِ ، ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَى كَوْمَيْنِ مِنْ ثِيَابٍ وَطَعَامٍ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُدْهَنَةٌ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو ملاحظہ فرمایا جنہوں نے کپڑے پہنے ہوئے تھے ، اور تلواریں لٹکائی ہوئی تھیں ان کی حالت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو افسوس ناک لگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے پھر آپ تشریف لائے آپ نے نماز پڑھائی پھر آپ وہاں پر تشریف فرما ہوئے آپ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اس بارے میں ترغیب دی آپ نے ارشاد فرمایا : کوئی شخص اپنا دینار صدقہ کرے کوئی درہم کرے کوئی اپنی گندم کا ایک صاع کر دے کوئی اپنی کھجوروں کا ایک صاع کر دے انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اپنے ہاتھ میں سونے کی ایک تھیلی لے کے آیا پھر لوگ یکے بعد دیگرے چیزیں لانے لگے یہاں تک کہ کپڑوں اور اناج کے دو ڈھیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمائے راوی کہتے ہیں : تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو یوں جگمگاتے ہوئے دیکھا جیسے اس پر تیل لگا ہوا ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابواسرائیل ملائی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4593
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4594
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَحْرِ الظَّهِيرَةِ مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ ، مُجْتَابِي النِّمَارِ فَحَثَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ : " لِيَتَصَدَّقْ ذُو الدِّينَارِ مِنْ دِينَارِهِ ، وَذُو الدِّرْهَمِ مِنْ دِرْهَمِهِ ، وَذُو الْبُرِّ مَنْ بُرِّهُ ، وَذُو الشَّعِيرِ مِنْ شَعِيرِهِ ، وَذُو التَّمْرِ مَنْ تَمْرِهِ ، مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ عَلَيْهِ يَوْمٌ فَيَنْظُرُ أَمَامَهُ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ ، وَيَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ ، وَيَنْظُرُ عَنْ شِمَالِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ ، وَيَنْظُرُ مِنْ وَرَائِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجُفْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ دیہاتی دوپہر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے تلواریں لٹکائی ہوئی تھیں اور ادنی کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان کے حوالے سے ترغیب دی آپ نے ارشاد فرمایا : دینار والا شخص اپنے دینار میں سے صدقہ کرے درہم والا اپنے درہم میں سے صدقہ کرے گندم والا اپنی گندم میں سے کرے جو والا اپنے جو میں سے کرے کھجوروں والا اپنی کھجوروں میں سے کرے اس سے پہلے کہ وہ دن آ جائے کہ جب وہ اپنے سامنے دیکھے گا ، تو اسے صرف آگ نظر آئے گی وہ دائیں طرف دیکھے گا ، تو اسے صرف آگ نظر آئے گی وہ اپنے بائیں طرف دیکھے گا ، تو اسے صرف آگ نظر آئے گی وہ اپنے پیچھے کی طرف دیکھے گا ، تو اسے صرف آگ نظر آئے گی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوجعفر جعفری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4594
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف