حدیث نمبر: 4425
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ الْمُصَدِّقُ لَا يَصْدُرُ إِلَّا وَهُوَ عَنْكُمْ رَاضٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي رِضَاءِ الْمُصَدِّقِ فِي بَابِ الرِّكَازِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب زکوۃ وصول کرنے والا آئے ، تو وہ تم سے راضی ہوئے بغیر نہ جائے “۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس سے پہلے دفینے سے متعلق باب میں زکوۃ وصول کرنے والے کے راضی ہونے سے متعلق روایت گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس سے پہلے دفینے سے متعلق باب میں زکوۃ وصول کرنے والے کے راضی ہونے سے متعلق روایت گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 4426
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَيَأْتِيكُمْ رَكْبٌ مُبْغَضُونَ ; فَإِذَا جَاؤُوكُمْ فَرَحِّبُوا بِهِمْ وَخَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْغُونَ ، فَإِنْ عَدَلُوا فَلِأَنْفُسِهِمْ وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهَا ، وَأَرْضُوهُمْ ، فَإِنَّ تَمَامَ زَكَاتِكُمْ رِضَاهُمْ ، وَلْيَدْعُوا لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عنقریب تمہارے پاس ایسے سوار آئیں گے ، جو دھوکے کا شکار ہوں گے ، جب وہ تمہارے پاس آئیں ، تو تم انہیں خوش آمدید کہنا اور جو وہ چاہتے ہیں ، انہیں ایسا کرنے دینا ، اگر وہ انصاف سے کام لیں گے ، تو یہ ان کے حق میں بہتر ہو گا ، اور اگر وہ ظلم کریں گے تو اس کا وبال ان پر ہو گا ، تم انہیں راضی کر دینا ، کیونکہ تمہاری زکوۃ کی تکمیل میں ان کی رضامندی بھی شامل ہے ، اور انہیں چاہیے کہ وہ تمہارے لئے دعا کریں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، ان میں سے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، ان میں سے بعض رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔