عَنْ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَجِّلُ صَدَقَةَ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سَنَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی زکوۃ پیشگی وصول کر لی تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزارے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزارے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجَّلَ مِنَ الْعَبَّاسِ صَدَقَةَ سَنَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَزَادَ : " أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ " . ¤ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے دو سال کی زکوہ پیشگی وصول کر لی تھی ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : آدمی کا چچا ، اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ذکوان ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : آدمی کا چچا ، اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ذکوان ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَاعِيًا عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَأَتَى الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَغْلَظَ لَهُ الْعَبَّاسُ ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُمَرُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ؟ إِنَّ الْعَبَّاسَ كَانَ أَسْلَفَنَا صَدَقَةَ الْعَامِ عَامَ أَوَّلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ، وہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے سختی کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو ؟ کہ آدمی کا چچا ، اُس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے ، عباس نے گزشتہ سال ہی ہمیں اُس سال کی زکوۃ ( پیشگی طور پر ) دے دی تھی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل مکی ہے ، اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل مکی ہے ، اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔