کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: زکوۃ پیشگی ادا کر دینا
عَنْ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَجِّلُ صَدَقَةَ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ سَنَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی زکوۃ پیشگی وصول کر لی تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزارے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4421
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (638) اخرجه الامام البزار فى المسند (895) .»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَجَّلَ مِنَ الْعَبَّاسِ صَدَقَةَ سَنَتَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَزَادَ : " أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ " . ¤ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے دو سال کی زکوہ پیشگی وصول کر لی تھی ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : آدمی کا چچا ، اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ذکوان ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4422
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «إخرجه الامام البزار فى المسند (896)»
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَاعِيًا عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَأَتَى الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَغْلَظَ لَهُ الْعَبَّاسُ ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُمَرُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ؟ إِنَّ الْعَبَّاسَ كَانَ أَسْلَفَنَا صَدَقَةَ الْعَامِ عَامَ أَوَّلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ، وہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے سختی کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو ؟ کہ آدمی کا چچا ، اُس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے ، عباس نے گزشتہ سال ہی ہمیں اُس سال کی زکوۃ ( پیشگی طور پر ) دے دی تھی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل مکی ہے ، اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4423
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف