مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ . باب: زکوۃ پیشگی ادا کر دینا
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَاعِيًا عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَأَتَى الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَغْلَظَ لَهُ الْعَبَّاسُ ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُمَرُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ؟ إِنَّ الْعَبَّاسَ كَانَ أَسْلَفَنَا صَدَقَةَ الْعَامِ عَامَ أَوَّلَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ، وہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے سختی کی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عمر ! کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو ؟ کہ آدمی کا چچا ، اُس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے ، عباس نے گزشتہ سال ہی ہمیں اُس سال کی زکوۃ ( پیشگی طور پر ) دے دی تھی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل مکی ہے ، اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔