کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: دفینہ اور معدن کا بیان
❮
❯
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ ، فَدَخَلَ صَاحِبٌ لَنَا إِلَى خَرِبَةٍ فَقَضَى حَاجَتَهُ ، فَتَنَاوَلَ لَبِنَةً يَسْتَطِيبُ بِهَا فَانْهَارَتْ عَلَيْهِ تِبْرًا ، فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِهَا ، فَقَالَ : " زِنْهَا " . فَوَزَنَهَا ، فَإِذَا هِيَ مِائَتَا دِرْهَمٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا رِكَازٌ ، وَفِيهِ الْخُمْسُ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ .
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر گئے ، ہم میں سے ایک شخص ایک کھنڈر میں قضائے حاجت کے لئے گیا ، اس نے طہارت حاصل کرنے کے لئے ایک اینٹ لی ، تو اس کے نیچے سے سونا نکل آیا اس نے وہ لیا اور اُسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو آپ نے فرمایا : اس کا وزن کرو ، اس نے اس کا وزن کیا ، تو وہ دو سو درہم کی قیمت کا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ دفینہ ہے ، اور اس میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ ابن عدی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4410
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّائِبَةُ جُبَارٌ ، وَالْجُبُّ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ " .
قَالَ الشَّعْبِيُّ : الرِّكَازُ : الْكَنْزُ الْعَادِيُّ .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جانور کا مارنا رئیگاں جاتا ہے ، کنویں ( میں گر کے مرنا ) رائیگاں جاتا ہے ، معدن ( میں گر کے مرنا ) رائیگاں جاتا ہے ، اور دفینہ میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی “ ۔ امام شیعی فرماتے ہیں : ” رکاز “ عادی خزانے ( یعنی دفینے ) کو کہتے ہیں
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4411
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «أخرجه مسند أحمد برقم: 14182»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَالسَّائِمَةُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي الْأَوْسَطِ بَعْضُهُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جانور کا مارنا رائیگاں جائے گا ، معدن میں گر کے مرنا رائیگاں جائے گا ، جانور کے مارنے سے مرنا رائیگاں جائے گا ، اور دفینہ میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن بزیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4412
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10039) اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1228) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 10039»
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دفینہ میں ، خمس کی ادائیگی لازم ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4413
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (227/22)»
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا عَامِلًا عَلَى الْيَمَنِ ، فَأُتِي بِرِكَازٍ ، فَأَخَذَ مِنْهُ الْخُمْسَ ، وَدَفَعَ بَقِيَّتَهُ إِلَى صَاحِبِهِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبَهُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ .
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا ان کے پاس رکاز ( یعنی دفینہ ) لایا گیا انہوں نے اس میں سے خمس لے لیا اور باقی بچ جانے والا حصہ متعلقہ فرد کو دے دیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ کو یہ بات پسند آئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4414
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4993) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 4993»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرِّكَازُ الذَّهَبُ الَّذِي يَنْبُتُ مِنَ الْأَرْضِ " .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رکاز “ سے مراد وہ سونا ہے ، جو زمین سے اگتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4415
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (6609) ، أخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2092»
وَعَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَظْهَرُ مَعْدِنٌ فِي أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ : فِرْعَوْنُ وَفِرْعَانُ - وَذَلِكَ بِلِسَانِ أَبِي جَهْمٍ قَرِيبٌ مِنَ السَّوَاءِ - يَخْرُجُ إِلَيْهِ شِرَارُ النَّاسِ ، أَوْ يُحْشَرُ إِلَيْهِ شِرَارُ النَّاسِ " .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بنوسیم کی زمین میں معدنیات ظاہر ہونگی ، جن کا نام فرعون یا فرعان ہو گا ، ( اور یہ دونوں الفاظ ابوجہم کی زبان کے مطابق تقریباً برابر ہیں ) بدترین لوگ نکل کر اس کی طرف جائیں گے ، ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) بدترین افراد کا حشر اس کی طرف کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4416
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «. اخرجه ابو يعلي فى المسند (4621) ، أخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7513»
وَعَنْ سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْهَانَ الْغَنَوِيَّةِ قَالَتْ : احْتَفَرَ الْحَيُّ فِي دَارِ كِلَابٍ فَأَصَابُوا بِهَا كَنْزًا عَادِيًّا ، فَقَالَتْ كِلَابُ : دَارُنَا ، وَقَالَ الْحَيُّ : احْتَفَرْنَا فَنَافَرُوهُمْ فِي ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى بِهِ لِلْحَيِّ وَأَخَذَ مِنْهُمُ الْخُمْسَ ، فَاشْتَرَيْنَا بِنَصِيبِنَا ذَلِكَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ، فَأَتَيْنَا بِهِ الْحَيَّ فَأَرَادَ الْمُصَدِّقُ أَنْ يُصَدِّقَنَا ، فَأَبَيْنَا عَلَيْهِ ، وَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنْ كُنْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا فِي غَيْرِهَا ، وَإِلَّا فَلَا شَيْءَ عَلَيْكُمْ فِي هَذَا الْعَامِ " . وَقَالَ : " إِنَّ الْمُصَدِّقَ إِذَا انْصَرَفَ عَنِ الْقَوْمِ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، وَإِذَا انْصَرَفَ وَهُوَ عَلَيْهِمْ سَاخِطٌ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ الْغَسَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ .
محمد محی الدین
سراء بنت نبھان غنویہ بیان کرتی ہیں : ایک قبیلہ ( کے افراد ) کلاب کے محلے میں زمین کی کھدائی کر رہے تھے ، انہیں خزانہ ملا ، تو کلاب والوں نے کہا: یہ ہماری جگہ ہے ، قبیلے والوں نے کہا: اسے ہم نے کھودا ہے ، اُن لوگوں نے اپنا یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلے والوں کے حق میں فیصلہ دیا ، اور ان سے خمس وصول کیا ، ( راوی خاتون بیان کرتی ہیں : ) ان میں سے جو چیز ہمارے حصے میں آئی اس سے ہم نے ایک سو جانور خریدے ، ہم اُسے لے کے قبیلے میں آئے ، زکوۃ وصول کرنے والے نے ہم پر زکوۃ لازم کرنا چاہی ، تو ہم نے انکار کیا ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے اس رقم کو کسی اور مقصد میں استعمال کیا ہے ، تو پھر تم پر اس سال کو ادائیگی لازم نہیں ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی : ” زکوۃ وصول کرنے والا ، جب کسی قوم کے پاس سے واپس جائے ، اور وہ ان سے راضی ہو ، تو اللہ تعالیٰ بھی ان لوگوں سے راضی ہوتا ہے ، اور جب وہ زکوۃ وصول کرنے والا اُن لوگوں کے پاس سے ایسی حالت میں واپس جائے کہ وہ ان پر ناراض ہو ، تو اللہ تعالیٰ بھی ان ( لوگوں ) پر ناراض ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن حارث عنسانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4417
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (308/24)»
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَالْعَجْمَاءُ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ مُرْسَلًا ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .
محمد محی الدین
حسن بصری یہ بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” معدن میں گر کے مرنا رائیگاں جائے گا ، جانور سے گر کے مرنا رائیگاں جائے گا ، کنویں میں گر کے مرنا رائیگاں جائے گا ، اور دفینہ میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ” مرسل “ روایت کے طور نقل کی ہے ، اور اس کی سند صحیح ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4418
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «أخرجه مسند أحمد برقم: 10022»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِطْعَةٍ مِنْ ذَهَبٍ كَانَتْ أَوَّلَ صَدَقَةٍ جَاءَتْهُ مِنْ مَعْدِنٍ لَنَا فَقَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ مَعَادِنُ ، وَسَيَكُونُ فِيهَا شَرُّ الْخَلْقِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سونے کا ایک ٹکڑا لایا گیا یہ وہ پہلا صدقہ تھا ، جو ہمارے معدن سے آپ کی خدمت میں لایا گیا تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” غقریب معدن ظاہر ہوں گے ، اور عنقریب اُن میں مخلوق کے بدترین لوگ ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4419
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 3556»