حدیث نمبر: 4410
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ ، فَدَخَلَ صَاحِبٌ لَنَا إِلَى خَرِبَةٍ فَقَضَى حَاجَتَهُ ، فَتَنَاوَلَ لَبِنَةً يَسْتَطِيبُ بِهَا فَانْهَارَتْ عَلَيْهِ تِبْرًا ، فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِهَا ، فَقَالَ : " زِنْهَا " . فَوَزَنَهَا ، فَإِذَا هِيَ مِائَتَا دِرْهَمٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا رِكَازٌ ، وَفِيهِ الْخُمْسُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر گئے ، ہم میں سے ایک شخص ایک کھنڈر میں قضائے حاجت کے لئے گیا ، اس نے طہارت حاصل کرنے کے لئے ایک اینٹ لی ، تو اس کے نیچے سے سونا نکل آیا اس نے وہ لیا اور اُسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو آپ نے فرمایا : اس کا وزن کرو ، اس نے اس کا وزن کیا ، تو وہ دو سو درہم کی قیمت کا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ دفینہ ہے ، اور اس میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ ابن عدی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ ابن عدی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4411
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " السَّائِبَةُ جُبَارٌ ، وَالْجُبُّ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ " . ¤ قَالَ الشَّعْبِيُّ : الرِّكَازُ : الْكَنْزُ الْعَادِيُّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جانور کا مارنا رئیگاں جاتا ہے ، کنویں ( میں گر کے مرنا ) رائیگاں جاتا ہے ، معدن ( میں گر کے مرنا ) رائیگاں جاتا ہے ، اور دفینہ میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی “ ۔ امام شیعی فرماتے ہیں : ” رکاز “ عادی خزانے ( یعنی دفینے ) کو کہتے ہیں
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، اور امام بزار نے ، اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4412
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَالسَّائِمَةُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي الْأَوْسَطِ بَعْضُهُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جانور کا مارنا رائیگاں جائے گا ، معدن میں گر کے مرنا رائیگاں جائے گا ، جانور کے مارنے سے مرنا رائیگاں جائے گا ، اور دفینہ میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم صغیر میں اس کا کچھ ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن بزیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم صغیر میں اس کا کچھ ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن بزیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4413
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دفینہ میں ، خمس کی ادائیگی لازم ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سنان ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4414
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا عَامِلًا عَلَى الْيَمَنِ ، فَأُتِي بِرِكَازٍ ، فَأَخَذَ مِنْهُ الْخُمْسَ ، وَدَفَعَ بَقِيَّتَهُ إِلَى صَاحِبِهِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا ان کے پاس رفیہ لایا گیا انہوں نے اس میں سے خمس لے لیا اور باقی بچ جانے والا حصہ متعلقہ فرد کو دے دیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ کو یہ بات پسند آئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4415
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرِّكَازُ الذَّهَبُ الَّذِي يَنْبُتُ مِنَ الْأَرْضِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” رکاز “ سے مراد وہ سونا ہے ، جو زمین سے اگتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابوسعید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابوسعید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4416
وَعَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَظْهَرُ مَعْدِنٌ فِي أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ : فِرْعَوْنُ وَفِرْعَانُ - وَذَلِكَ بِلِسَانِ أَبِي جَهْمٍ قَرِيبٌ مِنَ السَّوَاءِ - يَخْرُجُ إِلَيْهِ شِرَارُ النَّاسِ ، أَوْ يُحْشَرُ إِلَيْهِ شِرَارُ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بنوسیم کی زمین میں معدنیات ظاہر ہونگی ، جن کا نام فرعون یا فرعان ہو گا ، ( اور یہ دونوں الفاظ ابوجہم کی زبان کے مطابق تقریباً برابر ہیں ) بدترین لوگ نکل کر اس کی طرف جائیں گے ، ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) بدترین افراد کا حشر اس کی طرف کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4417
وَعَنْ سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْهَانَ الْغَنَوِيَّةِ قَالَتْ : احْتَفَرَ الْحَيُّ فِي دَارِ كِلَابٍ فَأَصَابُوا بِهَا كَنْزًا عَادِيًّا ، فَقَالَتْ كِلَابُ : دَارُنَا ، وَقَالَ الْحَيُّ : احْتَفَرْنَا فَنَافَرُوهُمْ فِي ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى بِهِ لِلْحَيِّ وَأَخَذَ مِنْهُمُ الْخُمْسَ ، فَاشْتَرَيْنَا بِنَصِيبِنَا ذَلِكَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ، فَأَتَيْنَا بِهِ الْحَيَّ فَأَرَادَ الْمُصَدِّقُ أَنْ يُصَدِّقَنَا ، فَأَبَيْنَا عَلَيْهِ ، وَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " إِنْ كُنْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا فِي غَيْرِهَا ، وَإِلَّا فَلَا شَيْءَ عَلَيْكُمْ فِي هَذَا الْعَامِ " . وَقَالَ : " إِنَّ الْمُصَدِّقَ إِذَا انْصَرَفَ عَنِ الْقَوْمِ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، وَإِذَا انْصَرَفَ وَهُوَ عَلَيْهِمْ سَاخِطٌ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ الْغَسَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سراء بنت نبھان غنویہ بیان کرتی ہیں : ایک قبیلہ ( کے افراد ) کلاب کے محلے میں زمین کی کھدائی کر رہے تھے ، انہیں خزانہ ملا ، تو کلاب والوں نے کہا: یہ ہماری جگہ ہے ، قبیلے والوں نے کہا: اسے ہم نے کھودا ہے ، اُن لوگوں نے اپنا یہ مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلے والوں کے حق میں فیصلہ دیا ، اور ان سے خمس وصول کیا ، ( راوی خاتون بیان کرتی ہیں : ) ان میں سے جو چیز ہمارے حصے میں آئی اس سے ہم نے ایک سو جانور خریدے ، ہم اُسے لے کے قبیلے میں آئے ، زکوۃ وصول کرنے والے نے ہم پر زکوۃ لازم کرنا چاہی ، تو ہم نے انکار کیا ، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے اس رقم کو کسی اور مقصد میں استعمال کیا ہے ، تو پھر تم پر اس سال کو ادائیگی لازم نہیں ہو گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی : ” زکوۃ وصول کرنے والا ، جب کسی قوم کے پاس سے واپس جائے ، اور وہ ان سے راضی ہو ، تو اللہ تعالیٰ بھی ان لوگوں سے راضی ہوتا ہے ، اور جب وہ زکوۃ وصول کرنے والا اُن لوگوں کے پاس سے ایسی حالت میں واپس جائے کہ وہ ان پر ناراض ہو ، تو اللہ تعالیٰ بھی ان ( لوگوں ) پر ناراض ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن حارث عنسانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن حارث عنسانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4418
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَالْعَجْمَاءُ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مُرْسَلًا ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری یہ بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” معدن میں گر کے مرنا رائیگاں جائے گا ، جانور سے گر کے مرنا رائیگاں جائے گا ، کنویں میں گر کے مرنا رائیگاں جائے گا ، اور دفینہ میں خمس کی ادائیگی لازم ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ” مرسل “ روایت کے طور نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ” مرسل “ روایت کے طور نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 4419
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِطْعَةٍ مِنْ ذَهَبٍ كَانَتْ أَوَّلَ صَدَقَةٍ جَاءَتْهُ مِنْ مَعْدِنٍ لَنَا فَقَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ مَعَادِنُ ، وَسَيَكُونُ فِيهَا شَرُّ الْخَلْقِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سونے کا ایک ٹکڑا لایا گیا یہ وہ پہلا صدقہ تھا ، جو ہمارے معدن سے آپ کی خدمت میں لایا گیا تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” غقریب معدن ظاہر ہوں گے ، اور عنقریب اُن میں مخلوق کے بدترین لوگ ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔