حدیث نمبر: 4408
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ ، فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ مِنْ بَعْدِهِ . ¤ قَالَ : فَقَدِمْتُ عَلَى قَوْمِي فَقُلْتُ : فِي الْعَسَلِ زَكَاةٌ ; فَإِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي مَالٍ لَا يُزَكَّى . قَالَ : فَقَالُوا لِي : كَمْ تَرَى ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : الْعُشْرُ ، قَالَ : فَأَخَذَ مِنْهُمُ الْعُشْرَ ، فَقَدِمَ بِهِ عَلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا فِيهِ ، وَأَخَذَهُ عُمَرُ فَبَاعَهُ ، وَجُعِلَ فِي صَدَقَاتِ الْمُسْلِمِينَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُنِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابوذباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ وہ چیز میری قوم کے لئے مقرر کر دیں جس پر وہ اسلام قبول کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ، آپ نے مجھے ان لوگوں کا عامل مقرر کیا ، آپ کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے ان لوگوں پر عامل مقرر کیا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں اپنی قوم کے پاس آیا میں نے کہا: شہد میں زکوۃ ہو گی ، کیونکہ ایسے مال میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی ہے ، جس کی زکوۃ ادا نہ کی جائے ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تمہارے خیال میں وہ کتنی ہونی چاہیے ؟ میں نے کہا: دسواں حصہ پھر انہوں نے ان لوگوں سے دسواں حصہ وصول کیا ، اور اسے لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں اس بارے میں بتایا ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے وہ شہد لے کر اسے فروخت کر دیا اور اسے مسلمانوں کے صدقات میں شامل کر دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی منیر بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی منیر بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4409
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي الْعَسَلِ الْعُشْرُ ، فِي كُلِّ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ قِرْبَةً قِرْبَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ ذَلِكَ شَيْءٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَدْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شہد میں عشر لازم ہو گا ، ہر بارہ مشکیزوں میں سے ایک مشکیزہ لازم ہو گا ، اس سے کم میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسے امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ ہے ، اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، امام ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اسے امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ ہے ، اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، امام ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔