حدیث نمبر: 4370
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِي الْخَيْلِ السَّائِمَةِ فِي كُلِّ فَرَسٍ دِينَارٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ اللَّيْثُ بْنُ حَمَّادٍ ، وَغُورَكٌ ; وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چرنے والے گھوڑوں میں ، ہر ایک گھوڑے میں ایک دینار کی ادائیگی لازم ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن حماد اور ایک راوی عورک ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن حماد اور ایک راوی عورک ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حدیث نمبر: 4371
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ الْمِائَتَيْنِ زَكَاةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے تمہیں گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ معاف کر دی ہے ، اور دو سو ( درہم ) سے کم میں زکوۃ لازم نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4372
وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ : جَاءَ نَاسٌ [ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ] إِلَى عُمَرَ فَقَالُوا : إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالًا خَيْلًا وَرَقِيقًا ، نُحِبُّ أَنْ تَكُونَ لَنَا فِيهَا زَكَاةٌ وَطَهُورٌ ، قَالَ : مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ [ قَبْلِي ] فَأَفْعَلُهُ ، وَاسْتَشَارَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِمْ عَلِيٌّ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : هُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةً رَاتِبَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا مِنْ بَعْدِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حارثہ بن مضرب بیان کرتے ہیں : اہل شام سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے کہا: ہمیں کچھ اموال ملے ہیں ، گھوڑے ہیں اور غلام ہیں ، ہم یہ چاہتے ہیں کہ اُن میں ہم پر زکوۃ لازم ہو ، جو پاکیزگی کا باعث ہو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھ سے پہلے میرے دونوں آقاؤں نے ایسا نہیں کیا کہ میں ایسا کرتا ، پھر انہوں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے مشورہ لیا ، اُن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی تھے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ اچھا کام ہو گا ، اگر یہ ایسا جزیہ نہ ہو ، جس کو باقاعدہ مقرر کر دیا جائے اور آپ کے بعد بھی اُسے وصول کیا جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے منجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے منجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4373
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْخُذْ مِنَ الْخَيْلِ ، وَالرَّقِيقِ صَدَقَةً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِاخْتِلَاطِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ وصول نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، اور وہ اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، اور وہ اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4374
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا صَدَقَةَ فِي الْكَسْعَةِ ، وَالْجَبْهَةِ ، وَالنُّخَّةِ " . ¤ وَفَسَّرَهُ أَبُو عُمَرَ قَالَ : الْكُسْعَةُ : الْحَمِيرُ . وَالْجَبْهَةُ : الْخَيْلُ . وَالنُّخَّةُ : الْعَبِيدُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کسعہ“ ” جبھہ“ اور ” نخہ“ میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی“ ۔ ابوعمر نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے یہ کہا: ہے : ” کسعہ“ سے مراد خچر ہے ، جبھہ“ سے مراد گھوڑے ہیں ، اور ” نخہ“ سے مراد غلام ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 4375
وَعَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفِي الْحَمِيرِ زَكَاةٌ ؟ قَالَ : " لَا ، إِلَّا الْآيَةَ الْفَاذَّةَ الشَّاذَّةَ : ( فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ) " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا : کیا خچروں میں زکوۃ لازم ہوتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! البتہ ایک آیت جو جامع و مانع ہے ، وہ ہے : ” جو ذرے کے وزن جتنی بھلائی کرے گا ، وہ اُسے دیکھ لے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4376
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ لَا نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الرَّقِيقِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم غلاموں کی زکوۃ ادا نہ کریں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 4377
وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِرَقِيقِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ ، الَّذِينَ هُمْ تِلَادُهُ وَهُمْ غِلْمَتُهُ لَا يُرِيدُ بَيْعَهُمْ ، فَكَانَ يَأْمُرُنَا أَلَّا نُخْرِجَ عَنْهُمْ مِنَ الصَّدَقَةِ شَيْئًا ، وَكَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ عَنِ الَّذِي يُعَدُّ لِلْبَيْعِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ - وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ : كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نُعِدُّ لِلْبَيْعِ فَقَطْ - ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں آدمی ، یا عورت کے غلام کے بارے میں حکم دیتے تھے کہ جو ان کے ذاتی استعمال کے ہوں ، اُن کا مقصد انہیں فروخت کرنا نہ ہو ، اس کے بارے میں آپ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم ان کی زکوۃ کے طور پر کوئی چیز ادا نہں کریں گے ، آپ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم ان غلاموں کی زکوۃ ادا کریں گے ، جنہیں فروخت کرنے کے لئے رکھا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے ہم صرف اُن غلاموں کی زکوۃ ادا کریں ، جنہیں ہم نے فروخت کرنے کے لئے تیار رکھا ہو “ ۔ اس روایت کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے یہ حصہ نقل کیا ہے : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ حکم دیتے تھے ہم صرف اُن غلاموں کی زکوۃ ادا کریں ، جنہیں ہم نے فروخت کرنے کے لئے تیار رکھا ہو “ ۔ اس روایت کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔