حدیث نمبر: 4239
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقَبْرِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى " قَالَ : ثُمَّ قَالَ : لَا أَدْرِي أَوْ قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، أَمْ لَا ؟ فَلَمَّا بَنَى عَلَيْهَا لَحْدَهَا طَفِقَ يَطْرَحُ إِلَيْهِمُ الْحُبُوبَ ، وَيَقُولُ : " سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ ، وَلَكِنَّهُ يُطَيِّبُ نَفْسَ الْحَيِّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہ کو قبر میں اتارا جانے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” اسی سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ، اور اسی میں ہم تمہیں لوٹا دیں گے اور اسی میں سے ہم تمہیں دوبارہ نکالیں گے “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر آپ نے کچھ کہا: جو مجھے سمجھ نہیں آئی پھر آپ نے یہ پڑھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کے دین پر ( میں اسے سپرد خاک کرتا ہوں ) “ ۔ جب آپ نے ان کی لحد بنا دی تو آپ نے ان کی طرف چھوٹے پتھر بڑھانے شروع کیے اور آپ نے فرمایا : ان کے ذریعے اینٹوں کے درمیان خالی جگہ کو پر کر دو ! پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ کوئی چیز نہیں ہے ، لیکن اس کے ذریعے زندہ شخص کو اطمینان ملتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4240
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ : أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ شَهِدَ جِنَازَةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ : فَأَظْهَرُوا الِاسْتِغْفَارَ ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ أَنْسٌ ، وَأَدْخَلُوهُ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ الْقَبْرِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے جنازے میں شریک ہوئے لوگوں نے بلند آواز میں استغفار پڑھنا شروع کیا ، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا ان لوگوں نے اسے قبر کے پائنتی کی طرف سے داخل کیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4241
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَقُلْتُ : يَا أَبَا الْحَسَنِ ، أَيُّهُمَا أَفْضَلُ الْمَشْيُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ أَوْ أَمَامَهَا ؟ فَقَالَ لِي : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، وَمِثْلُكَ يَسْأَلُ عَنْ هَذَا ؟ فَقُلْتُ : وَمَنْ يَسْأَلُ عَنْ هَذَا إِلَّا مِثْلِي ، إِنِّي رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ ، وَعُمَرَ يَمْشِيَانِ أَمَامَهَا . فَقَالَ : رَحِمَهُمَا اللَّهُ ، وَغَفَرَ لَهُمَا ، وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعَا كَمَا سَمِعْنَا ، وَلَكِنَّهُمَا كَانَا سَهْلَيْنِ يُحِبَّانِ السُّهُولَةَ . يَا أَبَا سَعِيدٍ ، إِذَا مَشَيْتَ خَلْفَ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ فَأَنْصِتْ ، وَفَكِّرْ فِي نَفْسِكَ كَأَنَّكَ قَدْ صِرْتَ مِثْلَهُ . أَخُوكَ كَانَ يَشَاحُّكَ عَلَى الدُّنْيَا ، خَرَجَ مِنْهَا حَزِينًا سَلِيبًا ، لَيْسَ لَهُ إِلَّا مَا تَزَوَّدَ مِنْ عَمَلٍ صَالِحٍ . فَإِذَا بَلَغْتَ الْقَبْرَ فَجَلَسَ النَّاسُ فَلَا تَجْلِسْ ، وَلَكِنْ قُمْ عَلَى شَفِيرِ قَبْرِهِ ، فَإِذَا دُلِّيَ فَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اللَّهُمَّ عَبْدُكَ نَزَلَ بِكَ وَأَنْتَ خَيْرُ مَنْزُولٍ بِهِ ، خَلَّفَ الدُّنْيَا خَلْفَ ظَهْرِهِ ، فَاجْعَلْ مَا قَدِمَ عَلَيْهِ خَيْرًا مِمَّا خَلَّفَ ; فَإِنَّكَ قُلْتَ : ( وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِلْأَبْرَارِ ) . ثُمَّ احْثُ عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا: اے ابوالحسن ! ان دونوں میں سے کون سی صورت زیادہ فضیلت رکھتی ہے ، جنازے کے پیچھے چلنا یا اس کے آگے چلنا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابوسعید ! کیا تم جیسا شخص اس بارے میں دریافت کرے گا میں نے کہا: اس بارے میں صرف میرے جیسا شخص ہی دریافت کر سکتا ہے کیونکہ میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ان دونوں حضرات پر رحم کرے اور ان دونوں کی مغفرت کرے ان دونوں حضرات نے بھی اسی طرح سنا جس طرح ہم لوگوں نے سنا ، لیکن یہ حضرات سہولت پسند تھے ، اور سہولت کو پسند کرتے تھے اے ابوسعید جب تم اپنے مسلمان بھائی ( کے جنازے ) کے پیچھے چلو تو خاموش رہو ، اور غور و فکر کرتے رہو کہ آخر کار تم نے بھی اس کی مانند ہو جاتا ہے ، تمہارا بھائی دنیا کا کتنا خواہشمند تھا ، وہ اس سے ایسی حالت میں گیا ہے کہ وہ غمگین ہے ، اور اس سے چیزیں سلب کر لی گئی ہیں اس کے پاس زاد سفر کے طور پر صرف نیک عمل ہے ، پھر جب تم قبر کے پاس پہنچ جاؤ لوگ بیٹھ جائیں تو تم نہ بیٹھنا بلکہ تم قبر کے کنارے پر کھڑے ہو جانا جب اسے قبر میں اتارا جائے تو تم یہ پڑھنا : ” اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کے دین پر ( میں اسے سپرد خاک کرتا ہوں ) “ ۔ اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے ، جو تیرا مہمان بن گیا ہے ، اور تو سب سے بہترین میزبان ہے اس نے دنیا پس پشت ڈال دی ہے اس نے جو بھلائی آگے بھیجی تھی اسے اس کی جگہ بنا دے جسے یہ پیچھے چھوڑ کر گیا ہے کیونکہ تو نے ہی یہ بات ارشاد فرمائی ہے ” جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہے “ ۔ ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) پھر تم اس پر تین مرتبہ مٹی ڈال دینا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ایوب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ایوب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4242
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ فَلَا تَحْبِسُوهُ ، وَأَسْرِعُوا بِهِ إِلَى قَبْرِهِ ، وَلْيُقْرَأْ عِنْدَ رَأْسِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَعِنْدَ رِجْلَيْهِ بِخَاتِمَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي قَبْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابِلُتِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص انتقال کر جائے تو تم اسے روک کے نہ رکھنا تم اسے اس کی قبر کی طرف جلدی لے جانا اس کے سرہانے سورت فاتحہ اور پائنتی سورت بقرہ کی اختتامی آیات کی تلاوت کرنا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4243
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ اللَّجْلَاجِ قَالَ : قَالَ لِي أَبِي : يَا بُنَيَّ ، إِذَا مِتُّ فَالْحَدْ لِي لَحْدًا ، فَإِذَا وَضَعْتَنِي فِي لَحْدِي فَقُلْ : بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ شَنِّ التُّرَابَ عَلِيَّ شَنًّا ، ثُمَّ اقْرَأْ عِنْدَ رَأْسِي بِفَاتِحَةِ الْبَقَرَةِ وَخَاتِمَتِهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن العلاء بن لجلاج بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھ سے کہا: اے میرے بیٹے جب میں مر جاؤں تو تم میرے لئے لحد تیار کرنا اور جب تم مجھے لحد میں رکھو تو یہ پڑھنا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ کے رسول کے دین پر ( میں اسے سپردخاک کرتا ہوں ) “ پھر تم میرے اوپر مٹی ڈال دینا پھر تم میرے سرہانے سورت بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیات تلاوت کرنا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4244
وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي قَبْرِهِ قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . وَوَضَعَ خَلْفَ قَفَاهُ مَدَرَةً ، وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ مَدَرَةً ، وَبَيْنَ رُكْبَتَيْهِ مَدَرَةً ، وَمِنْ وَرَائِهِ أُخْرَى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بِسْطَامُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی سنت کے مطابق پھر آپ اس کی گدی کے نیچے ایک ڈھیلا رکھتے تھے دونوں کندھوں کے درمیان ایک ڈھیلا رکھتے تھے دونوں گھٹنوں کے درمیان ایک ڈھیلا رکھتے تھے ، اور اس کے پیچھے ایک اور رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بسطام بن عبدالوہاب ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بسطام بن عبدالوہاب ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
حدیث نمبر: 4245
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ حَارِثٍ السُّلَمِيِّ ، أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ غَزَوَاتٍ قَالَ : قَالَ لَنَا : إِذَا دَفَنْتُمُونِي وَرَشَشْتُمْ عَلَى قَبْرِي الْمَاءَ فَقُومُوا عَلَى قَبْرِي وَاسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَادْعُوا لِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الدَّعَّاءُ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن حارث سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین غزوات میں شرکت کی ہے راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے ہم سے کہا: جب تم لوگ مجھے دفن کر دو گے تو میری قبر پر پانی چھڑکنا اور میری قبر کے پاس کھڑے ہو جانا اور قبلہ کی طرف رخ کر کے میرے لئے دعا کرنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ الدعاء ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ الدعاء ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 4246
وَعَنْ قَتَادَةَ أَنْ أَنَسًا دَفَنَ ابْنًا لَهُ فَقَالَ : اللَّهُمَّ جَافِ الْأَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهِ ، وَافْتَحْ أَبْوَابَ السَّمَاءِ لِرُوحِهِ ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک صاحبزادے کو دفن کیا ، اور یہ دعا کی : ” اے اللہ ! تو اس کے پہلو سے زمین کو دور کر دینا اور اس کی روح کے لئے آسمان کے دروازے کھول دینا اور اسے اس کے گھر کی جگہ بہتر گھر بدلے میں عطا کر دینا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔