کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: میت کو تیار کرنا اسے غسل دینا اور یہ کام جلدی کرنا
حدیث نمبر: 4064
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ بُكْرَةً فَلَا يُقِيلَنَّ إِلَّا فِي قَبْرِهِ ، وَمَنْ مَاتَ عَشِيَّةً فَلَا يَبِيتَنَّ إِلَّا فِي قَبْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص صبح کے وقت مر جائے وہ دوپہر قبر میں کرے اور جو شخص شام کو مر جائے وہ رات قبر میں ہی گزارے ( یعنی اس کو جلدی دفن کر دیا جائے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ظہیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4064
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 4065
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ : أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ قَالُوا : يَوْمُ الِاثْنَيْنِ ، قَالَ : فَإِنْ مِتُّ مِنْ لَيْلَتِي فَلَا تَنْتَظِرُوا بِيَ الْغَدَ ، فَإِنَّ أَحَبَّ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي إِلَيَّ أَقْرَبُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ : شَيْخُ أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُيَسِّرٍ أَبُو سَعْدٍ ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ كَثِيرُونَ ، وَقَالَ أَحْمَدُ : صَدُوقٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے دریافت کیا : آج کون سا دن ہے لوگوں نے انہیں بتایا : آج پیر کا دن ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اگر میرا آج رات میں انتقال ہو جائے تو تم کل کا انتظار نہ کرنا کیونکہ میرے نزدیک تمام دنوں اور راتوں میں ، سب سے زیادہ پسندیدہ وقت وہ ہے ، کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب کر دے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس میں امام أحمد کے استاد أحمد بن محمد بن محمد بن میسر ابوسعد ہیں جنہیں بہت سے افراد نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ امام أحمد کہتے ہیں وہ صدوق ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4065
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4066
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَفَرَ قَبْرًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ، وَمَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ، وَمَنْ كَفَّنَ مَيِّتًا كَسَاهُ اللَّهُ مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ ، وَمَنْ عَزَّى حَزِينًا أَلْبَسَهُ اللَّهُ التَّقْوَى ، وَصَلَّى عَلَى رُوحِهِ فِي الْأَرْوَاحِ ، وَمَنْ عَزَّى مُصَابًا كَسَاهُ اللَّهُ حُلَّتَيْنِ مَنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ لَا تَقُومُ لَهُمَا الدُّنْيَا ، وَمَنِ اتَّبَعَ جِنَازَةً حَتَّى يُقْضَى دَفْنُهَا كُتِبَ لَهُ ثَلَاثَةُ قَرَارِيطَ ، الْقِيرَاطُ مِنْهَا أَعْظَمُ مِنْ جَبَلِ أُحُدٍ ، وَمَنْ كَفَلَ يَتِيمًا أَوْ أَرْمَلَةً أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ وَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص قبر کھودتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا ، جو شخص میت کو غسل دیتا ہے وہ اپنے گناہوں سے یوں نکل جاتا ہے جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا جو شخص میت کو کفن دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جنت کا حلہ پہنائے گا ، اور جو شخص غمگین شخص کے ساتھ تعزیت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے تقویٰ کا لباس پہنائے گا ، اور تمام ارواح میں سے اس کی روح پر رحمت نازل کرے گا ، اور جو شخص کسی مصیبت زدہ کے ساتھ تعزیت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جنت کے حلوں میں سے دو حلے پہنائے گا کہ پوری دنیا بھی اس کی قیمت نہیں ہو سکتی جو شخص جنازے کے ساتھ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو دفن کر دیا جائے اس شخص کے لئے تین قیراط نوٹ کیے جاتے ہیں جن میں سے ایک قیراط احد پہاڑ سے زیادہ بڑا ہوتا ہے ، جو شخص یتیم کی یا بیوہ عورت کی کفالت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اپنا سایہ فراہم کرے گا ، اور اسے جنت میں داخل کرے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4066
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4067
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَكَتَمَ عَلَيْهِ طَهَّرَهُ اللَّهُ مِنْ ذُنُوبِهِ ، فَإِنْ كَفَّنَهُ كَسَاهُ اللَّهُ مِنَ السُّنْدُسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيُّ ، رَوَى عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میت کو غسل دیتے ہوئے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس کے گناہوں کے حوالے سے پاک کر دیتا ہے ، اور اگر وہ ( یعنی میت کو ) کفن دیتا ہے ، تو اللہ تعالی اسے سندس کا لباس پہنائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبداللہ شامی ہے ، جس نے ابوخالد سے روایات نقل کی ہیں میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4067
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4068
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَكَتَمَ عَلَيْهِ غَفَرَ [ اللَّهُ ] لَهُ أَرْبَعِينَ كَبِيرَةً ، وَمَنْ حَفَرَ لِأَخِيهِ قَبْرًا حَتَّى يُجِنَّهُ فَكَأَنَّمَا أَسْكَنَهُ مَسْكَنًا حَتَّى يُبْعَثَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میت کو غسل دیتا ہے ، اور اس کے معاملے کو پوشیدہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس شخص کے چالیس کبیرہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور جو شخص اپنے بھائی کی قبر کھودتا ہے یہاں تک کہ اسے قبر میں دفنا دیتا ہے ، تو گویا کہ اس نے اس کو اس وقت تک کے لئے ٹھکانہ فراہم کر دیا کہ جب اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4068
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4069
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَأَدَّى فِيهِ الْأَمَانَةَ وَلَمْ يُفْشِ عَلَيْهِ مَا يَكُونُ مِنْهُ عِنْدَ ذَلِكَ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " ، قَالَ : " لِيَلِهِ أَقْرَبُكُمْ مِنْهُ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ، فَإِنْ لَا يَعْلَمْ فَمَنْ تَرَوْنَ عِنْدَهُ حَظًّا مِنْ وَرَعٍ وَأَمَانَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میت کو غسل دیتے ہوئے امانت کو ادا کرتا ہے ، اور غسل کے وقت اس کی طرف جو چیز سامنے آئی تھی اسے پھیلاتا نہیں ہے وہ اپنے گناہوں سے نکل کر یوں ہو جاتا ہے جیسے وہ اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میت کو غسل وغیرہ دینے کا کام اسے کرنا چاہیے جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہو اگر کسی قریبی عزیز کا پتہ ہو ، اور اگر یہ نہیں پتہ ہوتا تو اسے دینا چاہیے جس کے بارے میں تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ سب سے زیادہ پرہیز گار اور امانت والا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4069
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4070
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ : مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا وَكَفَّنَهُ وَتَبِعَهُ وَوَلِيَ جُثَّتَهُ رَجَعَ مَغْفُورًا لَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ صَالِحٌ أَبُو حُجَيْرٍ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ یہ فرماتے ہیں : جو شخص میت کو غسل دے اسے کفن دے جنازے کے ساتھ جائے اس کے جسم کا نگران بنے ، جب وہ واپس آتا ہے ، تو اس کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابوحجیر ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4070
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4071
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيَعْرِفُ مَنْ يَحْمِلُهُ وَمَنْ يُغَسِّلُهُ وَمَنْ يُدَلِّيهِ فِي قَبْرِهِ " ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ : مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا ؟ قَالَ : مِنْ أَبِي سَعِيدٍ ، فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا ؟ قَالَ : مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میت اس شخص کو پہچانتی ہے ، جو اسے اٹھاتا ہے ، اور جو اسے غسل دیتا ہے ، اور جو اسے قبر میں اتارتا ہے “ ۔
( راوی بیان کرتے ہیں : ) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جو اس محفل میں موجود تھے انہوں نے دریافت کیا : تم نے یہ روایت کس سے سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور بولے : اے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ آپ نے یہ بات کس سے سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک شخص ایسا ہے کہ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4071
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4072
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : غَسَّلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، فَلَمَّا بَلَغْتُ عَوْرَتَهُ قُلْتُ لِبَنِيهِ : أَنْتُمْ أَحَقُّ بِغَسْلِ عَوْرَتِهِ ، دُونَكُمْ فَاغْسِلُوهَا . فَجَعَلَ الَّذِي يَغْسِلُهَا عَلَى يَدِهِ خِرْقَةً وَعَلَيْهَا ثَوْبٌ ، ثُمَّ غَسَلَ الْعَوْرَةَ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو غسل دیا جب میں ان کی شرمگاہ کے مقام تک پہنچا تو میں نے ان کے صاحبزادے سے کہا: ان کی شرمگاہ کو غسل دینے کا تم زیادہ حق رکھتے ہو اب تم انہیں سنبھالو انہیں غسل دو ان صاحبزادے نے انہیں غسل دینا شروع کیا ان کے ہاتھ میں کپڑا لپٹا ہوا تھا اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی میت پر بھی کپڑا موجود تھا انہوں نے کپڑے کے نیچے سے ان کی شرمگاہ کو دھویا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4072
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 4073
وَعَنْ حُمَيْدٍ قَالَ : تُوُفِّيَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَجُعِلَ فِي حَنُوطِهِ سُكَّةٌ أَوْ سُكٌّ ، وَمِسْكَةٌ فِيهَا مِنْ عَرَقِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حمید بیان کرتے ہیں : جب سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی حنوط میں ایک شیشی بھی رکھی گئی ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ملا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4073
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4074
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تُوُفِّيَتِ الْمَرْأَةُ فَأَرَادُوا أَنْ يُغَسِّلُوهَا فَلْيَبْدَءُوا بِبَطْنِهَا ; فَلْيُمْسَحْ بَطْنُهَا مَسْحًا رَفِيقًا إِنْ لَمْ تَكُنْ حُبْلَى ، فَإِنْ كَانَتْ حُبْلَى فَلَا تُحَرِّكِيهَا ، فَإِنْ أَرَدْتِ غَسْلَهَا فَابْدَئِي بِسُفْلَتِهَا فَأَلْقِي عَلَى عَوْرَتِهَا ثَوْبًا سِتِّيرًا ، ثُمَّ خُذِي كُرْسُفَةً فَاغْسِلِيهَا فَأَحْسِنِي غَسْلَهَا ، ثُمَّ أَدْخِلِي يَدَكِ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ ، فَامْسَحِيهَا بِكُرْسُفٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَأَحْسَنِي مَسْحَهَا قَبْلَ أَنْ تُوَضِّئِيهَا ، ثُمَّ وَضِّئِيهَا بِمَاءٍ فِيهِ سِدْرٌ ، وَلْيُفْرِغِ الْمَاءَ امْرَأَةٌ وَهِيَ قَائِمَةٌ لَا تَلِي شَيْئًا غَيْرَهُ حَتَّى تُنَقَّى بِالسِّدْرِ وَأَنْتِ تَغْسِلِينَ ، وَلْيَلِ غُسْلَهَا أَوْلَى النَّاسِ بِهَا ، وَإِلَّا فَامْرَأَةٌ وَرِعَةٌ مُسْلِمَةٌ ، فَإِنْ كَانَتْ صَغِيرَةً أَوْ ضَعِيفَةً فَلْتَلِهَا امْرَأَةٌ أُخْرَى وَرِعَةٌ مُسَلِمَةٌ ، فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ غَسْلِ سُفْلَتِهَا غَسْلًا نَقَاءً بِسِدْرٍ وَمَاءٍ فَلْتُوَضِّئْهَا وُضُوءَ الصَّلَاةِ ، فَهَذَا بَيَانُ وُضُوئِهَا ، ثُمَّ اغْسِلِيهَا بَعْدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، فَابْدَئِي بِرَأْسِهَا قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ ، فَأَنْقِي غَسْلَهُ مِنَ السِّدْرِ بِالْمَاءِ ، وَلَا تُسَرِّحِي رَأْسَهَا بِمُشْطٍ ، فَإِنْ حَدَثَ بِهَا حَدَثٌ بَعْدَ الْغَسْلَاتِ الثَّلَاثِ فَاجْعَلِيهَا خَمْسًا ، فَإِنْ حَدَثَ فِي الْخَامِسَةِ فَاجْعَلِيهَا سَبْعًا ، وَكُلُّ ذَلِكَ فَلْيَكُنْ وِتْرًا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ ، فَإِنْ كَانَ فِي الْخَامِسَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ فَاجْعَلِي فِيهِ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ وَشَيْئًا مِنْ سِدْرٍ ، ثُمَّ اجْعَلِي ذَلِكَ فِي جَرٍّ جَدِيدٍ ، ثُمَّ أَقْعِدِيهَا فَأَفْرِغِي عَلَيْهَا وَابْدَئِي بِرَأْسِهَا حَتَّى تَبْلُغِي رِجْلَيْهَا ، فَإِذَا فَرَغْتِ مِنْهَا فَأَلْقِي عَلَيْهَا ثَوْبًا نَظِيفًا ، ثُمَّ أَدْخِلِي يَدَكِ مِنْ وَرَاءِ الثَّوْبِ فَانْزِعِيهِ عَنْهَا ، ثُمَّ احْشِي سُفْلَتَهَا كُرْسُفًا مَا اسْتَطَعْتِ ، وَاحْشِي كُرْسُفَهَا ، ثُمَّ خُذِي سَبْتِيَّةً طَوِيلَةً مَغْسُولَةً فَارْبُطِيهَا عَلَى عَجُزِهَا [ كَمَا تُرْبَطُ عَلَى النِّطَاقِ ، ثُمَّ اعْقُدِيهَا بَيْنَ فَخِذَيْهَا وَضُمِّي فَخِذَيْهَا ثُمَّ أَلْقِي طَرَفَ السِّبْتِيَّةِ عَنْ عَجُزِهَا ] إِلَى قَرِيبٍ مِنْ رُكْبَتِهَا ، فَهَذَا شَأْنُ سُفْلَتِهَا ثُمَّ طَيِّبِيهَا وَكَفِّنِيهَا ، وَاطْوِي شَعْرَهَا ثَلَاثَةَ أَقْرُنٍ : قُصَّةً وَقَرْنَيْنِ ، وَلَا تُشَبِّهِيهَا بِالرِّجَالِ ، وَلْيَكُنْ كَفَنُهَا فِي خَمْسَةِ أَثْوَابٍ : أَحُدُّهَا الْإِزَارُ تَلُفِّي بِهِ فَخِذَيْهَا ، وَلَا تُنْقِصِي مِنْ شَعْرِهَا شَيْئًا بِنُورَةٍ وَلَا غَيْرِهَا ، وَمَا يَسْقُطُ مِنْ شَعْرِهَا فَاغْسِلِيهِ ثُمَّ اغْرِزِيهِ فِي شَعْرِ رَأْسِهَا ، وَطَيِّبِي شَعْرَ رَأْسِهَا فَأَحْسِنِي تَطْيِيبَهُ ، وَلَا تَغْسِلِيهَا بِمَاءٍ مُسَخَّنٍ ، وَاخْمِرِيهَا وَمَا تُكَفِّنِينَهَا بِهِ بِسَبْعِ نُبْذَاتٍ إِنْ شِئْتِ وَاجْعَلِي كُلَّ شَيْءٍ مِنْهَا وِتْرًا ، وَإِنْ بَدَا لَكِ أَنْ تُخَمِّرِيهَا فِي نَعْشِهَا فَاجْعَلِيهِ وِتْرًا ، هَذَا شَأْنُ كَفَنِهَا وَرَأْسِهَا ، وَإِنْ كَانَتْ مَحْدُورَةً أَوْ مَحْضُونَةً أَوْ أَشْبَاهَ ذَلِكَ فَخُذِي خِرْقَةً وَاحِدَةً وَاغْسِلِيهَا بِالْمَاءِ ، وَاجْعَلِي تَتَبَّعِي كُلَّ شَيْءٍ مِنْهَا ، وَلَا تُحَرِّكِيهَا ، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَنَفَّسَ مِنْهَا شَيْءٌ لَا يُسْتَطَاعُ رَدَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا : لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ ، وَفِي الْآخَرِ : جُنَيْدٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ بَعْضُ كَلَامٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی عورت فوت ہو جائے اور لوگ ( یعنی خواتین ) اسے غسل دینے کا ارادہ کریں تو سب سے پہلے اس کے پیٹ سے آغاز کریں اس کے پیٹ پر نرمی سے ہاتھ پھیریں اگر وہ حاملہ نہ ہو اگر وہ حاملہ ہو ، تو پھر اسے حرکت نہ دیں اگر تم اس کو غسل دینے کا ارادہ کرو تو سب سے پہلے اس کے زیریں حصے سے آغاز کرو اور اس کی شرمگاہ پر ایسا کپڑا ڈال دو جو پردہ پوشی کر رہا ہو پھر تم روئی لے کر اس کے ذریعے اسے دھوؤ اور اچھی طرح سے دھوؤ پھر تم اپنا ہاتھ کپڑے کے نیچے داخل کرو اور روئی کے ذریعے تین مرتبہ اسے پونچھ لو پھر تم اسے وضو کروانے سے پہلے پھر پونچھ لو پھر تم اسے ایسے پانی کے ذریعے غسل کرواؤ جس میں بیری کے پتے ملے ہوئے ہوں اور ایک عورت پانی بہائے جو کھڑی ہوئی ہو وہ اس کے علاوہ اور کوئی کام نہ کرے یہاں تک کہ اسے بیری کے پتوں کے ذریعے صاف کر دیا جائے تم غسل دیتی رہو عورت کی غسل کی نگران وہ عورت بنے جو اس کی سب سے زیادہ قریبی عزیزہ ہو ورنہ کوئی ایسی عورت بنے جو مسلمان ہو ، اور پرہیز گار ہو خواہ وہ چھوٹی عمر کی ہو ، یا کمزور ہو پھر دوسری عورت اس کی نگران بنے جو پرہیز گار اور مسلمان ہو جب وہ اس کے زیریں حصے کو غسل دے کر فارغ ہو جائے جو اچھی طرح بیری کے پتے کے ذریعے اور پانی کے ذریعے صاف ہو چکا ہو تو پھر وہ عورت اس میت کو نماز کے وضو کی طرح وضو کروائے یہ اس کے وضو کا بیان ہے پھر اس کے بعد اسے تین مرتبہ غسل دے جو پانی اور بیرے کے پتوں کے ذریعے ہو ہر چیز سے پہلے سر سے آغاز کرے پانی کے ہمراہ بیری کے پتوں کے ذریعے اسے دھو کر صاف کرے اور کنگھی کے ذریعے اس کے بال نہ سنوارے اگر تین مرتبہ غسل دینے کے بعد حدث لاحق ہو جاتا ہے ، تو پانچ مرتبہ غسل دے اگر پانچ مرتبہ کے بعد ہو جاتا ہے ، تو سات مرتبہ دے ہر صورت میں پانی اور بیری کے پتوں کا استعمال طاق تعداد میں ہونا چاہیے پانچویں مرتبہ میں یا تیسری مرتبہ میں تھوڑا سا کافور اور تھوڑی سی بیری شامل کر لینی چاہیے اسے ایک نئے مٹکے میں رکھنا چاہیے پھر تم اس کی میت کو بٹھا دو اور اس پر پانی بہاؤ اس کے سر سے آغاز کرو یہاں تک کہ اس کے پاؤں تک پہنچ جائے جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ تو اس پر صاف کپڑا ڈال دو پھر اپنا ہاتھ کپڑے کے نیچے داخل کر کے اس کے لباس کو اتار دو اور پھر اس کے نیچے والے حصے میں روئی ڈال دو جہاں تک ہو سکے اور روئی کو بھر دو پھر تم دھوئی ہوئی لمبی سبطی کپڑا لے کر اس کے پہلو پر باندھو ، جس طرح ازار بند باندھا جاتا ہے ، پھر تم اس کی دونوں زانوں کے درمیان گرہ لگا دو اور اس کے دونوں زانوں کو ملا دو پھر اس رسی کا ایک کنارہ اس کے پہلو پر ڈال دو جو اس کے گھٹنے کے قریب ہو یہ اس کے زیریں حصے کا معاملہ ہو گیا پھر تم اسے خوشبو لگاؤ اسے کفن پہناؤ اور اس کے بالوں کی تین چوٹیاں بنا دو ایک بڑا جوڑا ہو ، اور دو اطراف کی لٹیں ہوں اور اس کو مردوں کے ساتھ مشابہت نہ دلوانا عورت کا کفن پانچ کپڑوں کی شکل میں ہونا چاہیے جن میں سے ایک تہبند ہو جس کو تم اس کے زانوں پر لپیٹ دو اور تم نورہ ، یا کسی اور چیز کے ذریعے اس کے بال صاف نہ کرنا اس کے جو بال گر گئے ہوں انہیں دھو دینا اور پھر انہیں اس کے سر کے بالوں میں ڈال دینا اس کے سر کے بالوں پر خوشبو لگانا اور اچھی طرح سے خوشبو لگانا تم اسے گرم پانی کے ذریعے غسل نہ دینا اور تم اس کو ڈھانپ دینے کے بعد ، اس کے کفن پر سات مرتبہ معمولی سی خوشبو لگا دینا ، اگر تم چاہو ، اور اس میں سے ہر ایک کو طاق تعداد میں رکھنا ، یہ اس کے کفن اور اس کے سر کا معاملہ ہو گیا اگر وہ ورم آلود جسم والی تھی ، تو پھر تم ایک کپڑا لے کر اسے پانی کے ذریعے دھو دینا اور اس کی ہر چیز کو تلاش کر کے صاف کرنا ، اسے حرکت نہ دینا کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اس میں سے کوئی ایسی چیز نکل آئے گی جسے واپس نہیں کیا جا سکے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن وہ ثقہ ہے دوسری سند میں ایک راوی جنید ہے اس کی توثیق کی گئی ہے اس کے بارے میں کچھ کلام بھی کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4074
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (124/25)»
حدیث نمبر: 4075
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص میت کو غسل دے اسے غسل کر لینا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4075
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4076
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تَتَّخِذَ إِحْدَاكُنَّ فِي يَدَيْهَا أَوْ عُنُقِهَا شَيْئًا تُسْلَبُهُ إِذَا وُضِعَتْ عَلَى سَرِيرِ غُسْلِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سنت یہ ہے کہ تم میں سے کوئی ایک خاتون میت عورت کے ہاتھوں یا گردن میں کوئی چیز پکڑ لے تاکہ اسے اس وقت سہارا دے جب اسے اس کے غسل کے تختے پر رکھا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4076
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4077
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ أَبَاهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میت کو غسل دے اسے غسل کر لینا چاہیے “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ابواسحاق سبیعی کی اپنے والد کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور میں نے کسی کو اس کے والد کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4077
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4078
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ غَاسِلِ الْمَيِّتِ أَيَغْتَسِلُ ؟ قَالَ : إِنْ كُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنَّ صَاحِبَكُمْ نَجِسًا فَاغْتَسِلُوا مِنْهُ ، وَإِلَّا فَإِنَّمَا يَكْفِيكُمُ الْوُضُوءُ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے میت کو غسل دینے والے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا : کیا وہ غسل کرے گا انہوں نے فرمایا : تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ تمہارا ساتھی ( یعنی میت ) نجس تھا جس کی وجہ سے تم غسل کرو گے تمہارے لئے وضو کر لینا بھی کافی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4078
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع