کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان ، جو مرنے کے بعد راحت حاصل کر لیتا ہے
حدیث نمبر: 3941
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَتْ فُلَانَةٌ وَاسْتَرَاحَتْ . فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ غُفِرَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا بلال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں خاتون کا انتقال ہو گیا ہے ، اور اس نے راحت حاصل کر لی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : راحت وہ حاصل کرتا ہے ، جس کی مغفرت ہو جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3942
وَعَنْهَا : تُوُفِّيَتِ امْرَأَةٌ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَضْحَكُونَ مِنْهَا وَيُمَازِحُونَهَا فَقُلْتُ : اسْتَرَاحَتْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ غُفِرَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے ( یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ) حوالے سے یہ روایت منقول ہے : ایک خاتون کا انتقال ہو گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اس خاتون کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے میں نے کہا: اس عورت کو راحت نصیب ہو گئی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : راحت اس کو نصیب ہوتی ہے ، جس کی مغفرت ہو جائے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔